Siyasi Manzar
مضامین

ایک  مثالی شخصیت، ڈاکٹر احمد اشفاق کریم 

          ڈاکٹر احمد اشفاق کریم صاحب کی شخصیت اسم با مسمی ہے، زبان زد عوام ہے کہ جس طرح کریم ان کے نام کا جزو ہے ویسے ہی کرم وسخاوت ان کی شخصیت کا نمایاں وصف ہے
          اللہ کی بہترین مخلوق انسان اپنے کردار کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ جب وہ بدگمانی اور بدخیالی میں زندگی گزارتا ہے تو وہ لوگوں کی نگاہ میں ہی نہیں بلکہ اللہ کی نظر میں بھی برا ہوجاتا ہے، گر جاتا ہے۔ وہی انسان جب انسان کی حقیقت کو سمجھتا ہے، اللہ کے بندوں کی خدمت کرتا ہے، پریشانیوں میں اس کا ہمدرد بن کر پورے خلوص کے ساتھ اس کی رہنمائی کرتا ہے، وہی انسان، انسان کی سطح سے اوپر والی صف میں کھڑا ہو جاتا ہے جسے ہندو مذہب کے ماننے والے بھگوان تصور کر لیتے ہیں اور مسلمان اسے اللہ کا برگزیدہ بندہ تصور کرنے لگتا ہے پھر اسے اپنا آئیڈیل مان لیتا ہے، وہ قوم و ملت کے لئے مثال بن جاتا ہے اور اس کی شخصیت مثالی ہو جاتی ہے۔ ہر خاص و عام ان کے جیسا ہی دکھنا اور ویسا ہی بننا چاہتا ہے۔ ایسی ہی ایک مثالی شخصیت تعلیم کے میدان میں قابل قدر خدمات کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے ہندوستانی سفیر کی جانب سے 25 جنوری 2009 کو سید مہدی نبی زادہ کے ہاتھوں انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں سینیری ایوارڈ 2008 سے اور تعلیم کے شعبہ میں ہی گراں قدر خدمات کے لئے انسٹی ٹیوٹ آف اوجیکٹیو اسٹڈیز ایوارڈ 2012 سے سرفراز ہونے والے ڈاکٹر احمد اشفاق کریم کی ہے جنہوں نے محنت کی بنیاد پر ملک کے پہلے صف کے مسلمانوں میں اپنی جگہ بنائی۔ وہ سال 1986 سے الکریم ایجوکیشنل ٹرسٹ و 1987 سے کٹیہار میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال، کٹیہار، بہار کے بانی چیئرمین، مینیجنگ ڈائریکٹر اور سال 2018 سے الکریم یونیورسٹی، کٹیہار، بہار کے بانی چانسلر و راجیہ سبھا میں راجد کے ممبر ہیں۔
          ڈاکٹر احمد اشفاق کریم کی شناخت ایک ایجوکیشنسٹ، سماجی خدمتگاراور سیاسی رہنما کی ہے۔ ان کی کہانی ویشالی ضلع کے پاتے پور بلاک میں واقع موضع تیندا سے شروع ہوتی ہے۔ ان کی تعلیم ویشالی،  مظفر پور اور دربھنگہ کے اداروں سے ہوئی ہے۔ وہ بہت ہی ذہین طالب علم تھے، انہوں نےملت کالج لہریا سرائے، دربھنگہ کے ذریعہ کامیاب اسٹوڈنٹس اچیورز ایوارڈ 2007 بھی حاصل کیا ہے، لیکن ان کو قوم کی خدمت کے جذبہ نے ہندوستان کی ایک مثالی شخصیت بنا دیا۔ انہوں نے راجا بازار پٹنہ کے ایک کمرہ سے اپنے کیرئیر کی شروعات کی یعنی کٹیہار میڈیکل کالج کی بنیاد ڈالی، تب کسی نے یہ تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ یہ معمولی سی کوشش اتنا بڑا ادارہ کی شکل اختیار کر لے گا۔ ضلع کٹیہار، بہار کا ایک پسماندہ ضلع ہے،  جہاں کٹیہار میڈیکل کالج و الکریم یونیورسٹی ایک شاہکار کی شکل میں کھڑا ہے، جس کا تصور خود کٹیہار کے عوام نے بھی نہیں کیا ہوگا۔ ان کے دل میں یہ خیال بھی نہیں آیا ہوگا کہ اتنی دور سے چل کر کوئی آئے گا اور ضلع کٹیہار کو اتنا بڑا تحفہ دے گا۔ ان کے شروعاتی دنوں کے ساتھی بتاتے ہیں کہ کٹیہار کے سرزمین پر ادارہ کھڑا کرنا چنا چبانے کے مقابل تھا، لیکن ڈاکٹر کریم کے ارادہ نے اسے بھی آسان کر دیا۔ مرچائی باری کٹیہار کا کافی پچھڑا علاقہ تھا۔ میڈیکل کالج کے لئے جو زمین لی گئی تھی اس میں کافی جنگل جھاڑ تھے۔ کوئی بھی وہاں ٹھہرنا نہیں چاہتا تھا، جنگل سے بڑے بڑے کیڑے نکلتے تھے لیکن ان کے بڑے بھائی احمد رضا کریم عرف بھائی جان کی رہنمائی میں دھیرے دھیرے صاف صفائی ہوئی اور جگہ گلزار بن گیا،  آج وہی جگہ ملک ہی نہیں بیرون ممالک کے طلبہ و طالبات کے لئے بھی مرکزتعلیم بن گیا۔ سرسید احمد خان اور ڈاکٹر ابولکلام آزاد کی شخصیت سے ڈاکٹر احمد اشفاق کریم کی شخصیت کو ملانا کتنا درست ہوگا مجھے معلوم نہیں، لیکن ڈاکٹر کریم کی جدو جہد کو دیکھتے ہوئے مجھے سرسید احمد خان اور ڈاکٹر ابولکلام آزاد کی جہد اور قربانیاں یاد آتی ہیں۔  انجمن ترقی اردو بہار نے سال 2011 میں مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ، جھارکھنڈ، آل انڈیا تعلیمی بیداری بورڈ نے سر سید احمد خان ایوارڈ 2012 سے ڈاکٹر احمد اشفاق کریم کو نواز کر میرے خیالات کی ترجمانی کر دی ہے۔
            ڈاکٹر احمد اشفاق کریم کی ولادت حاجی احمد کریم رحمانی ، ایک زراعت پیشہ اور بی بی بریرہ خاتون، ایک گھریلو خاتون، کے گھر 12 مارچ 1956ء کو چک جادو، ضلع ویشالی (سابق مظفر پور)، بہار میں ہوئی تھی ۔ انہوں نے 1975ء میں اپنے آبائی گاؤں تندا، چک جادو، ویشالی ، بہار کے قریب واقع اے کے ایچ ای اسکول، بھرتی پور سے میٹرک کی تعلیم مکمل کی،  I.Sc. 1977ء میں ایل این متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ، بہار کی ایک یونٹ ملت کالج سے کی جس میں وہ مباحثوں اور ڈراموں میں پوری سرگرمی سے شرکت کرتے تھے۔ انہوں نے اتھکال یونیورسٹی، بھونیشور، اڑیسہ (سابقہ اڑیسہ) میں این ایس ایس کے رضاکار کی حیثیت سے یونیورسٹی کی نمائندگی کی جس میں انہیں حکومت کے یوتھ ویلفیئر آفیسر نے بہترین این ایس ایس رضاکار ایوارڈ سے نوازا۔ انہوں نے بہار کالج آف فارمیسی ، بہار سے بیچلر آف فارمیسی میں گریجویشن کیا جس میں وہ پہلے بیچ کے پہلے طالب علم تھے۔ اسی کالج سے انہوں نے ماسٹر آف فارماسیوٹیکل سائنس میں گریجویشن کیا۔ انہوں نے پی ایچ ڈی تک تعلیم حاصل کی۔ پی ایچ ڈی میں ان کے مقالے کا عنوان تھا "بایوکیمیکل پروفائل آف آکسواینیمیم (IV اور V) کمپلیکس”۔
          ڈاکٹر احمد اشفاق کریم جب زندگی کی سچائیوں کا مقابلہ کر رہے تھے، کامیابی کی سیڑھی پر قدم رکھنے سے قبل منزل تلاش رہے تھے اسی وقت انہیں 27 سال کی عمر میں، زمانہ طالب علمی میں میڈیکل کالج کے قیام کا خیال آیا اور پھروہ اس مشن میں لگ گئے، آج رزلٹ سامنے ہے۔ اس وقت بہار کی دو کمیٹاں، سنیل مکھرجی کمیٹی اور مدلیر کمیٹی کے ذریعہ کٹہار میں ایک میڈیکل کالج قائم کرنے یا نالندا میڈیکل کالج کو پٹنہ سے کٹیہار منتقل کرنے کی سفارش کی گئی تھی تب ڈاکٹر احمد اشفاق کریم نے بہار کے پسماندہ ضلع کٹیہار سال 1987 میں ” کٹیہار میڈیکل کالج اور ہسپتال ” قائم کیا۔ کٹیہار میڈیکل کالج بیچلر آف میڈیسن اور بیچلر آف سرجری (ایم بی بی ایس) اور پوسٹ گریجویٹ کورسز (ایم ڈی / ایم ایس اور پی جی ڈپلومہ) میں تقریباً تمام کلینیکل اور نان کلینیکل مضامین میں انڈرگریجویٹ کورسز پیش کرتی ہے۔ کالج کا انتظام پٹنہ میں واقع الکریم ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر انتظام ہے۔
          کٹیہار میڈیکل کالج کے آغاز کے قبل سے ہی کریم صاحب سماجی خدمتگار رہے ہیں۔ کالج کے زمانے میں این ایس ایس کا رضاکار ہونا اس کا ثبوت ہے، کٹیہار میڈیکل کالج کے قیام کے بعد سے وہ عام زندگی میں آئے، انہوں نے عوامی خدمت کو اپنا مشن بنا لیا۔ غریب، مسکین و سیلاب متاثرین کے درمیان امداد فراہم کرنا جیسے کاموں میں وہ کافی سرگرم رہے۔ ان کی خدمات کو میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے، جناب اشفاق کریم صاحب کی شخصیت اسم با مسمی ہے، زبان زد عوام ہے کہ جس طرح کریم ان کے نام کا جزو ہے ویسے ہی کرم وسخاوت ان کی شخصیت کا نمایاں وصف ہے، جب میں جناب کریم صاحب کی پندرہ روزہ ہندی میگزین ” وطن دوست ” کے لئے کام کرتا تھا تو دیکھتا تھا کہ وہ سیلاب زدگان کی بڑھ چڑھ کر امداد کرتے تھے، ان کے درمیان ریلیف تقسیم کرنے کے لئے خطرہ لے کر، ناؤ پر سوار ہو کر وہ جاتے تھے‌۔ اتنا ہی نہیں خدمت خلق میں لگے اداروں، سیاسی و سماجی تنظیموں کی وہ پھرپورتعاون کرتے تھے۔ کٹیہار میڈیکل کالج میں 590 بستروں پر مشتمل ٹیچنگ ہسپتال ہے،  سرجری  کے ساتھ مریضوں کو مفت غذا دی جاتی ہے۔ مریضوں کو مفت طبی خدمات فراہم کرنا ڈاکٹر کریم کی اولین ترجیح ہے۔ ہسپتال میں آنے والے مریضوں کا رجسٹریشن فیس بھی کم ہے، پہلے 2 روپیہ تھا جسے 1 جنوری 2018 کو بڑھا کر 5 روپیہ کر دیا گیا ہے۔ تشخیصی خدمات کے لئے معاوضوں کو ممکن حد تک کم رکھا گیا ہے۔ کٹیہارمیڈیکل کالج کے قابل ڈاکٹروں کی نگرانی میں اکثر مختلف جگہوں پر صحت کیمپوں کے ذریعے ضرورت مند مریضوں تک پہنچ کر انہیں بہتر علاج  فراہم کرائی جاتی ہے۔ کریم صاحب کوسی خطے میں بہار کے آٹھ پسماندہ اضلاع کی ترقی کے مد نظر اسے خصوصی اضلاع کا درجہ دلانے کے لئے نہ صرف مطالبہ کرتے رہے ہیں بلکہ اس آواز کو کافی بلند کیا ہے۔ اس مقصد کی کامیابی کے لئے انہوں نے ” کوسی بیداری مورچہ ” قائم کیاہے۔ جناب اشفاق کریم کا ماننا ہے کہ کوسی کا یہ علاقہ ہندوستان کے پسماندہ خطوں میں ایک ہے۔ اس علاقہ کو انصاف دلانے کے مقصد کے تحت انہوں نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے کئی علاقوں میں ریلیاں بھی نکالیں۔
        اگر بات سیاست کی کریں تو یہ شواہد موجود ہیں کہ وہ طالب علمی کے زمانہ سے ہی سرگرم رہے ہیں، جنتا پارٹی صدر چندر شیکھر اور یوتھ صدر سبودھ کانت سہائے کے دور سیاست میں کریم صاحب جنتا پارٹی کی یوتھ سیل میں سکریٹری کے عہدہ پر منتخب ہوئے تھے۔ 1985 میں ، انڈین نیشنل کانگریس کے صد سالہ تقریب سے قبل وہ پارٹی میں شامل ہوئے اور سن 2000 میں وہ بہار پردیش کانگریس کمیٹی میں سدانند سنگھ کی کمیٹی میں ریاستی سطح پر خزانچی کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ سال 2003 میں وہ بہار پردیش کانگریس کمیٹی میں جنرل سکریٹری کے عہدہ پر منتخب ہوئے۔ سال 2001 اور 2004 کی مدت میں انہوں نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دئے۔ سال 2009 میں انہوں نے لوک جن شکتی پارٹی کی رکنیت حاصل کی۔ جناب کریم صاحب عوامی مقبولیت کے مد نظر فوراً ہی لوک جن شکتی پارٹی کے قومی نائب صدر منتخب ہوئے۔ سال 2009 کے عام انتخاب میں بہار کے حلقہ کٹیہار لوک سبھا سے سیکولر اتحاد کے وہ امیدوار ہوئے۔ اس کے قبل وہ دو مرتبہ اسمبلی انتخاب میں بھی قسمت آزما چکے ہیں۔ ایک مرتبہ کانگریس پارٹی کی امیدوار کی حیثیت سے بارسوئی اسمبلی حلقہ، کٹیہار و ایک مرتبہ سمتا پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے کیوٹی اسمبلی حلقہ دربھنگہ سے انتخاب لڑ چکے ہیں۔ سال 2018 میں وہ راجیہ سبھا کے انتخاب میں راشٹریہ جنتا دل کے امیدوار ہوئے اور بغیر مقابلہ کے ممبر آف پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ راشٹریہ جنتا دل کے وہ قومی خزانچی کے عہدہ پر بھی فائز ہیں اور اپنی ذمہ داری کو بخوبی ادا کر رہے ہیں۔ ‌جناب اشفاق کریم اس کے ساتھ ہی ممبر، قائمہ کمیٹی برائے ممبر پارلیمنٹ لوکل ایریا ڈویلپمنٹ اسکیم  2018، ممبر، اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کیمیکلز اینڈ فرٹیلائزرس، 2019، ممبر،  مشاورتی کمیٹی برائے صارف امور، فوڈ اینڈ پبلک ڈسٹری بیوشن 2019، ممبر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ 1997، ممبر، جمعیت علمائے ہند، بہار، 2006 سے آج تک ہیں۔ اس سے قبل جناب کریم صاحب ممبر اسٹینڈنگ کمیٹی برائے آبی وسائل 2018-2019، ممبر وزارت صحت اور خاندانی بہبود کی مشاورتی کمیٹی، 2018-2019، ورکنگ صدر، انجمن ترقی اردو، بہار، سینیٹ ممبر، بی این منڈل یونیورسٹی، مدھے پورہ، بہار،  دو مرتبہ، ممبر سنڈیکیٹ، بی این منڈل یونیورسٹی، مدھے پورہ، بہار اور ممبر، آل انڈیا مسلم مجلس مشورات کمیٹی بھی رہ چکے ہیں۔
          جناب ڈاکٹر احمد اشفاق کریم کی شخصیت قابل تقلید ہے۔ جہاں ایک جانب وہ مسلمانوں کے درمیان، عام نوجوانوں کے آئیڈیل ہیں، ان کے لئے مثال ہیں وہیں غیروں میں بھی وہ اچھی شناخت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اقبال کو اور زیادہ بلند فرمائے، آمین!

Related posts

چھوٹے بچوں میں موبائل فون کا زیادہ استعمال تباہی کا باعث

Siyasi Manzar

پل ہے یا موت کا کنواں؟

Siyasi Manzar

Save the Nation, Save the Country: ملت بچاؤ، ملک بچاؤ

Siyasi Manzar

Leave a Comment