Siyasi Manzar
راجدھانی

الحکمہ فاؤنڈیشن کا 31واں سالانہ اجلاس تزک احتشام کے ساتھ اختتام پزیر

معاشی خوشحالی: سماج کی ترقی کا ایک لازمی عنصر کے موضوع پر اکابرین کا اظہار خیال

نئی دہلی(پریس ریلیز )الحکمہ فاؤنڈیشن کا 31واں سالانہ اجلاس نئی دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر میں بڑے ہی آب و تاب کے ساتھ منعقد ہوا جس میں مقررین نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس کا آغاز مفتی شاہد سرور کے تلاوت کلام پاک مع ترجمہ و تفسیر کے ساتھ ہوا۔ افتتاحی و استقبالیہ خطاب الحکمہ فاؤنڈیشن کے چیئرمین و معروف حکیم ڈاکٹر ضیاء الدین احمدنے پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مہمانان خصوصی و مہمانان ذی وقار کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔
چیئرمین موصوف نے فاؤنڈیشن کے اغراض و مقاصد پر سیر حاصل گفتگو بھی کی اور منجملہ طور پر یہ باور کرایا کہ فاؤنڈیشن اپنے چار نکاتی اغراض و مقاصد کے حصول میں سرگرداں ہے۔ صحت مند اور تعلیم یافتہ سماج کی تشکیل، اخلاقی اقدار سے بہرہ ور معاشرہ نیز سماجی بہبود کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہنا ہی ان کے اور ان کی ٹیم کا مطمح نظر ہے۔
انٹر فیتھ ہارمونی فاؤنڈیشن آف انڈیا، نئی دہلی کے صدر و ممتازاسکالر ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ ہمیں معاشرہ کے مسائل، ترجیحات اور رجحان کیا ہے ہمیں پہلے اسے سمجھنا ہوگا اور پھر اپنی حکمت عملی وضع کرنی ہوگی۔ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ آج کا انسان کموڈیٹی میں تبدیل ہوگیا ہے۔صارفیت کا دور دورہ ہے۔ اس لئے آج یہ زیادہ ضروری ہوگیا ہے ہم اپنے اخلاقی اقدار، تمدن، تہذیب اور اپنی ثقافت سے چمٹ جائیں اور معاشرے کو صحیح سمت کی طرف گامزن کرنے والی طاقتوں کا مضبوط کریں۔ جب تک ہماری معاشرت درست نہیں ہوگی تب تک ہماری معیشت اور اقتصادی صورتحال بھی بہتر نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا مسلمان بنیادی طور پر 90فیصد غیرمنظم شعبے میں شمار کیا جاتا ہے اور اس شعبے کے پاس روزگار کے مواقع کم سے کم ہیں۔10فیصد افراد کے پاس روزگار بھی ہیں اور کاروبار بھی اور جی ڈی پی میں ان کا ہی حصہ شمار کیا جا تا ہے۔ جب حالات اس قدر مخدوش ہیں تو ہمیں اپنے آپ کو اقتصادی طور پر بہت مضبوط کرنا ہوگا، اپنی پریشانیوں کا رونا رونے کے بجائے امید کی طرف سفر کرنا شروع کرنا ہوگا۔ سب کے ساتھ ملکر بڑھنے کی کوشش اور دستیاب میں اپنی حصہ داری تلاش کرنے کی ضرورت پر خواجہ صاحب نے زوردیا۔ انہوں نے حکومت کی متعدد اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو اس سے بڑھ چڑھ کر فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے اور اپنے ہم وطنوں کیساتھ ملکر اپنی معاشی حالت بہتربنانے کے لئے واضح پالیسی بناکر اس پر عمل کرنے کی بھی ضرورت پر انہوں نے زور دیا۔انہوں نے سامعین سے اپیل کی کہ مایوسی کے گھٹا کو چاک کریں اور امید کی شمع روشن کرتے ہوئے 2024سے نئی شروعات کرتے ہوئے دوسرے کے ہم پلہ خود کو ثابت کریں۔

اجلاس کے مہمان خصوصی ،دہلی کے سابق لیفٹننٹ گورنر و جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر نجیب جنگ نے اپنے پروقار انداز میں سامعین سے خطاب کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ اگر اقلیتی طبقہ معاشی زبوں حالی کا شکار ہے، اگر 20فیصد کی آبادی اقتصادی طور پر کمزور ہے تو ہم کس طرح کی ترقی کی بات کرتے ہیں؟ کیا یہ ہمیں زیب دیتا ہے لیکن ہمیں اس پر بھی غور کرنا ہوگا کہ ہم دوسرے اقوام کے مقابلے کہاں کھڑے ہیں؟تعلیمی اعتبار سے جو طبقہ کمزور ہوگا وہ ترقی اور اقتصادی خوشحالی کبھی حاصل نہیں کر سکتا اس لئے ہمیں صرف اور صرف تعلیم پر توجہ مرکوز کرنی ہے۔ عصری تعلیم اور بالخصوص انہوں نے انگریزی زبان میں مہارت حاصل کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو چاہئے کہ وہ کمزور طبقات کے لئے خصوصی پالیسیاں وضع کرے، انہیں مین اسٹریم سے جوڑے اور انہیں خوش کرنے کی پالیسی اپنانے کے بجائے انہیں خودکفیل بنانے کی پالیسی اختیار کرے۔ انہوں نے سامعین کی توجہ دو نکات کی طرف مبذول کرائی،پہلی کہ قوم تعلیم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالے اور دوسری سیاسی طور پر بااختیار بنیں اور قیادت کے فقدان کے مسئلے کا کوئی بہتر حل تلاش کریں کیوں کہ یہ المیہ ہے کہ اس قوم کا کوئی ایک قائد نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم سیاسی طور پر حاشیہ پر ہیں۔ اور اس کا بھی واحد حل خود کو زیور تعلیم سے آراستہ کرناہے اور اس کا کوئی دوسرا شارٹ کٹ نہیں ہے۔
سہولت مائیکرو فائنانس سوسائیٹی، نئی دہلی کے سی ای او اسامہ خان نے معاشی تگ و دو، مسائل اور مواقع پر مدلل انداز میں اپنی بات رکھی۔ انہوں نے کہا کہ فنانشیل ایکسس تک اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی رسائی نہ ہونا اس دور کا بڑا مسئلہ ہے جس اجتماعی کوششوں سے حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بینکنگ سیکٹر کی باریکیوں سے بھی سامعین کو روشناس کرایا اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کیسے اٹھایا جاسکتا ہے اس پر بھی اپنی رائے پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی شمولیت کی حکومتی اسکیموں سے بھی مسلمانوں کو فائدہ اٹھانا چاہئے نیز قرض حاص کرنا ہی مسئلے کاواحد حل ہے، اسے اب ہمیں درکنار کرنا ہوگا۔ انہوں نے بچت کرنے اور مستقبل کے لئے طویل مدتی منصوبے بنانے اور اسے عملی جامہ پہنانے پر زور دیا۔ جن دھن یوجنا، مدرا یوجنا، اسٹینڈ اپ انڈیا سمیت دیگر اسکیموں سے مستفید ہونے اور ہنرمندبننے پر ان کا اصرار رہا۔ انہوں نے کو آپریٹیو سوسائیٹیز کے رول اور اسے سے فائدہ اٹھانے کے طریقے بھی بتائے نیزاقتصادی خوشحالی کی سمت میںعمدہ تجاویز پیش کیں۔انہوں نے تازہ ترین اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کوآپریٹیو سوسائیٹی سے سود سے مبرا لون حاصل کرنے اور اپنا کاروبار کرنے نیز اپنے خوابوں کی تعمیر کے سمت میں کام کرنے کی تلقین کی۔
اجلاس کے دوسرے مہمان خصوصی و قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اقبال سنگھ لالپورہ نے اپنے خطاب کے دوران جناب نجیب جنگ کی باتوں کی باواز بلند تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو ہر دور میں خوف و ہراس میں مبتلا کرکے رکھا لیکن چند دوسری اقلیتوں نے اپنے آپ کو تعلیم سے آراستہ کیا اور تجارت میں دلچسپی لی تو وہ آج ترقی کے عروج پر ہیں اور ہم آج بھی مفلوک الحال اور اقتصادی طور پر پسماندہ ہیں۔ہمیں خود کو عدم تحفظ کے احساس سے باہر نکالنا ہوگا نیز دوسرے طبقات کے ساتھ خود کو جوڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہوگی تبھی جاکر ہم ترقی کا زینہ طے کر سکتے ہیں۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمیریٹس پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمان الفقر فخری کو معیار نہ بنائیں کیوں کہ یہ خاتم المرسلین کی ذات مقدسہ کے ساتھ یہ خاص تھا۔ اللہ نے انہیں ہر چیز سے بے نیاز کر رکھا تھا لیکن اس دور کے مسلمان اگر غربت و افلاس کی چکی میں پسیں گے تو ان کی اہمیت ضائع ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن میں اللہ نے واضح طور سے بیان کر دیا ہے کہ فراغت کی طرف لوٹو، نماز سے فارغ ہوکر کسب معاش کی طرف متوجہ ہو جاؤ، زکوٰۃ دینے والے بنو، دینے والا ہاتھ بنو یہ ساری تعلیمات اس بات کے لئے بین دلیل ہیں کہ ہمیں اپنے اقتصادی حالت کو بہتر بنانا ہی ہوگا۔ انہوں نے بڑے پرامید لہجے میں کہا کہ یہ دور بھی گزر جائے گا اور مسلمان تو اس ملک کا خمیر ہیں ، انہیں خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں،یہ وقتی اتار چڑھاؤ ہے، راستے بند ہوتے ہیں سفر نہیں۔لہذا، ہمیں نئے راستوں اور نئی سمت کی طرف کوچ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ملک بہت عظیم اور وسیع ہے اور امید کی کرن بھی زندہ ہے اس لئے مایوسی اور قنوطیت کو اپنے سے دور کریں اور زندہ قوم کی طرح خود کو بہتر کرنے پر توجہ دیں۔اجلاس سے مہاتما گاندھی کاشی ودیا پیٹھ یونیورسٹی کے پروفیسر و ماہر اقتصادیات ڈاکٹر وشوناتھ کمارنے بھی خطاب کیا اور اپنے انداز میں موضوع کے تحت اظہار خیال کیا۔اجلاس کی صدارت ہمالیہ ڈرگ کمپنی کے چیئرمین ڈاکٹر سید فاروق نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شکیل احمد نے بحسن و خوبی انجام دئے۔ الحکمہ فاؤنڈیشن کے سکریٹری سید شعیب نے فاؤنڈیشن کی30سالہ کارکردگی پر مبنی جائزہ رپورٹ پیش کی۔انہوں نے فاؤنڈیشن کے تمام شعبوں میں کی جانے والی خدمات اور معاشرے پر منتج ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کرکے داد تحسین حاصل کی۔خیال رہے کہ اس موقع پر اکابرین کے دست مبارک سے سووینیئرکا اجراء ہوا۔ فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ضیاء الدین احمد کے ذریعہ مرتب کتاب’ علم و حکمت ، قرآن کی نظر میں‘ کا بھی اجرا عمل میں آیا۔ اس موقع پر تقریباً15طلبا و طالبات کو تعلیمی وظائف دئے گئے۔ ان ہونہار طلبہ کو فاؤنڈیشن کی جانب سے چیک فراہم کئے گئے تاکہ انہیں تعلیم حاصل کرنے میں کسی طرح کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ فاؤنڈیشن نے ہر سال کی طرح اس سال بھی تقریباً 12خواتین کو سلائی مشین دی گئی تاکہ وہ اپنے ہنر سے اپنی روزی کما سکیں۔

Related posts

مطیع الرحمن عزیز کو کل ہند اقلیتی ونگ کا صدر منتخب کیا گیا

Siyasi Manzar

Ajay Roy:Congress:صرف کانگریس ہی بی جے پی کو شکست دے سکتی ہےبی جے پی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے یوپی کے لوگوں کو روزگار کے لیے باہر جانا پڑا ہے: اجے رائے

Siyasi Manzar

بحث کے بغیر ایوان میں ایجنڈا پاس کرنا غیر جمہوری عمل: ارویندر سنگھ لولی

Siyasi Manzar

Leave a Comment