Siyasi Manzar
قومی خبریں

اردو کے بقا اور استحکام کے لئے قومی کونسل کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔عبدالحکیم مدنی

باندرہ کرلا کمپلیکس ممبئی ,اردو کتاب میلے میں اساتذہ مدارس کی شرکت
کاندیولی ممبئی،(پریس ریلیز)قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (ا ین سی پی یو ایل )نئی دہلی اور انجمن اسلام ممبئی کے اشتراک سے باندرہ کرلا کمپلیکس (بی کے سی )میں جاری قومی اردو کتاب میلے میں جمعرات کو شہر و مضافات کے سکولوں کے طلبہ کے علاوہ بمبئی کے بہت سارے مدارس اور اسکولوں کے طلبہ اور طالبات ،معلمین اور اساتذہ نے شرکت کی ،یہ میلہ گزشتہ چھ دنوں سے متواتر بی کے سی میں جاری اور ساری ہے ۔یہاں آنے پر اردو زبان سے محبت کا الگ احساس ہوتا ہے اور مختلف جہات سے جو کتب خانے کتابوں کو سجا کر کے بیچ رہے ہیں اس سے علمی اور ادبی چاہتیں بڑھ جاتی ہیں۔یوں تو اردو ہماری مادری زبان ہے اور اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ برصغیر میں عربی زبان کے ساتھ ساتھ یہ ہماری دینی اور اسلامی زبان بھی بن چکی ہے اس لیے اس زبان کو فروغ دینا، اس کے ادب کو پڑھنا ،اس کی تاریخ کو جاننا اس کو فروغ دینا اور اردو اور اردو والوں سے محبت کرنا اور اس زبان کی نشر و اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا یہ ہماری اور آپ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

قومی کونسل نئی دہلی اور انجمن اسلام کے تمام ذمہ داران اور اس اردو میلہ میں شرکت کرنے والے تمام ناشرین کتب قابل مبارکباد ہیں جنہوں نے اردو زبان کے فروغ اور اس کی بقا اور استحکام کے لیے ملک کے کونے کونے میں اس طرح سے اردو میلوں کو سجا کر کے ہماری اور آپ کی پرانی روایتوں کو زندہ کر دیا ہے اور اردو زبان کو فروغ دینے میں ایک بہت بڑا رول اور کردار ادا کیا ہے۔ خاص طور پر میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ذمہ داروں کو مبارکباد دیتا ہوں جو اس طرح سے ہر سال کتابوں کا میلہ لگا کر کے محبان اردو کی چاہتوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ میلہ جہاں کتابوں سے اور علم سے اور مطالعے کی دنیا سے جڑنے کا ایک سبب ہے، وہیں بہت سارے لوگوں سے ملاقات کا بھی ایک بہت بڑا ذریعہ اور سبب ہے اور جنہیں کتابوں کی چاہت ہوتی ہے وہ اس طرح کے میلوں کی طرف اور اس طرح کے نمائش اور مقامات کی طرف خود ہی کھینچے ہوئے چلے آتے ہیں۔ الحمدللہ جامعہ رحمانیہ کاندیولی،ممبئی کا ایک وفد معروف عالم دین اورجامعہ کے سینیراستاد شیخ عبدالحکیم مدنی کی قیادت میں اور بعض اساتذہ جامعہ اور طلباء کی شراکت سے اس میلے میں شریک رہے جن میں شیخ عبدالجبار سلفی، ظفراللہ فیضی اور بعض طلباء عبدالغنی ،عبدالقیوم اور عبدالکریم غیرہم شریک تھے اللہ کرے کہ اردو کی یہ چاہتیں دوبالا ہوں اور زبان اردو کو فروغ اور استحکام ملے میں ،پھر سے تمام محبان اردو کو بالخصوص قومی کونسل اور اس کے ذمہ داران اور انجمن اسلام کے عہدیداران کو مبارکباد دیتا ہوں جنہوں نے اس میلے کو بڑی خوبصورتی اور بڑے ہی عمدہ انتظام اور انصرام سے سجایا اور سنوارا۔یہ باتیں جامعہ رحمانیہ کاندیولی ممبئی کے معروف اور مشہور استاد حدیث شیخ عبدالحکیم مدنی نے پریس ریلیز کے طور پر جاری کیں اور اللہ تعالی سے یہ دعا کی کہ اللہ تعالی ہم تمام لوگوں کو اردو زبان سے محبت عطا فرمائے اور ان تمام لوگوں کو اجر عظیم عطا فرمائے جو اردو زبان کے استحکام اور بقا کے لیے اپنی کاوشیں اور اپنی خدمات اور قربانیاں پیش کر رہے ہیں اور قومی کونسل کی ان کاوشوں کو اور ان خدمات کو پورے ملک میں اور پوری دنیا میں پھیلایا جائے تاکہ اردو زبان کو فروغ اور استحکام حاصل ہو۔

Related posts

دہلی میں زلزلہ: دیر رات زلزلے کے شدید جھٹکے سے زمین لرز اٹھی، دہلی-این سی آر کے ساتھ ساتھ یوپی-بہار میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے

Siyasi Manzar

H9N2 Update: چین میں تیزی سے پھیلنے والی پراسرار بیماری سے متعلق ملک میں الرٹ، وزارت صحت نے بتا دی یہ اہم بات

Siyasi Manzar

Assembly Election Results 2023 Live: تین ریاستوں میں بی جے پی کی شاندار کامیابی، تلنگانہ میں کانگریس

Siyasi Manzar

Leave a Comment