Siyasi Manzar
مضامین

کامیابی کے لئے اللہ کی قدرت اور اس کی سنت دونوں کا سمجھنا ضروری

ڈاکٹر محمد واسع ظفر


بحیثیت مسلمان ہمارا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا، اس کو قائم رکھنے والا، اس کے تکوینی نظام کو چلانے والا، اور اس کو منطقی انجام تک پہنچانے والا صرف اور صرف اللہ رب العزت ہے۔ یہاں صرف اسی ایک کا حکم چلتا ہے، کسی دوسرے کو یہ اختیار ہی نہیں کہ وہ اس کے نظام میں کوئی مداخلت کرسکے۔ قرآن کریم کا اعلان ہے: ’’أَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ‘‘ یعنی آگاہ ہوجاؤ کہ تخلیق کرنا اور احکام جاری کرنا اسی کے لئے مخصوص ہے۔ (الاعراف: ۵۴)۔ اس دنیا میں جہاں کہیں بھی اور جو بھی صاحب اختیار نظر آتا ہے خواہ اس کا دائرہ اختیار چھوٹا ہو یا بڑا، وہ اس رب کائنات کے اذن اور مرضی سے ہی موجود ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جو بھی فیصلے لیتا ہے، وہ صحیح اور خدائی فیصلہ ہی ہوتا ہے۔ انسان کو چونکہ اس نے بطور آزمائش ارادے اور اختیار کی آزادی دی ہے، اس لئے وہ اپنے اختیارات کا کبھی صحیح اور کبھی غلط استعمال کرتا ہے اور اسی کے مطابق دنیوی یا اخروی نتائج کا ذمے دار گردانا جاتا ہے۔
اگر ہم غور کریں تو اس کائنات میں جو کچھ بھی تخلیقی (constructive) یا تخریبی (destructive) عمل رونما ہوتا ہے یا جو بھی تغیرات و حادثات سامنے آتے ہیں ، ان سب کے پیچھے اللہ رب العزت کی دو عظیم الشان صفات کا دخل ہوتا ہے؛ ایک اللہ کی سنت ہے اور دوسرے اس کی قدرت۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ اس نے اس کائنات میں ہر چھوٹی بڑی چیز کے وجود میں آنے کے لئے ایک ضابطہ قائم کیا ہوا ہے، اس مخصوص ضابطہ کے تحت ہی کوئی مخصوص چیز وجود میں آتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اسے ہم سائنس کی زبان میں قانون قدرت (Natural Law) کہہ سکتے ہیں۔ سائنس داں دراصل یہی کرتے ہیں کہ کسی بھی واقعہ کے رونما ہونے کے پیچھے جو عوامل کار فرما ہوتے ہیں، وہ ان کا پتا لگاتے ہیںاور یہ دیکھتے ہیں کہ وہ عوامل ایک دوسرے سے کن حالات (conditions) میں اور کس طرز عمل (process) کے ذریعے مل کر ایک مخصوص نتیجہ فراہم کر رہے ہیں۔ یکساں حالات میں کسی عمل کے متعدد مشاہدوں میں اگر نتائج یکساں رہتے ہیں تو اسی کو سائنس داں Natural Law کہتے ہیں۔ جب کوئی ایسی چیز رونما ہوتی ہے یا کو ئی ایسا حادثہ پیش آتا ہے جس کی وضاحت سائنس نہیں کر پاتی تو اسے قدرت کا حادثہ (accident of nature) کہہ کر سائنس داں اپنی جان چھڑا لیتے ہیں۔یہاں اسلامی عقیدہ یہ کہتا ہے کہ اسباب جس طرح اپنے وجود میں آنے کے لئے اللہ کے حکم کے محتاج ہیں، اسی طرح نتائج دینے میں بھی اللہ ہی کے حکم کے محتاج ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کچھ بھی کرنے میں کسی سبب کا محتاج نہیں ہے۔ اس کا اسباب سے بالاتر ہونا ہی اس کی قدرت ہے یعنی وہ جب چاہے اور جو چاہے اسباب کے بغیر کرنے پربھی قادر ہے۔ مثال کے طور پر عورت اور مرد کے ملاپ سے افزائش نسل کا عمل وجود میں آتا ہے، یہ اس کی قائم کردہ سنت ہے لیکن اس کی قدرت یہ ہے کہ اس نے آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے وجود عطا کیا، دادی حوا کو آدم علیہ السلام کی پسلیوں سے یعنی صرف مرد سے وجود بخشا اور عیسیٰ علیہ السلام کو صرف ماں مریم سے پیدا کردیا۔ یہ سارے واقعات اللہ کی قدرت کے مظاہر ہیں لیکن اس نے رہتی دنیا تک کے لئے یہی سنت جاری کی ہے کہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی نسل آگے چلے تو اسے جنس مخالف سے شادی کرنا پڑے گی اور حق زوجیت بھی ادا کرنا پڑے گا، پھر اللہ اگر چاہے گا یا یوں کہیے کہ اس کے حق میں مناسب سمجھے گا تو اسے اولاد سے نوازے گا۔ اسباب لازمہ کو اختیار کرنے کے باوجود اگر اللہ نہ چاہے تو مطلوبہ نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {أَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَ ہ ئَ أَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَہٗ أَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ ہ} (ترجمہ): ’’ذرا یہ بتلاؤ کہ جو نطفہ تم ٹپکاتے ہو، کیا اسے (بصورت انسان) تم پیدا کرتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہیں؟‘‘ (الواقعہ: ۵۸ – ۵۹)۔
اس کے برعکس اگر کوئی مرد یاعورت افزائش نسل کا خواہش مند ہو لیکن وہ قانون الٰہی کی تابع داری نہ کرے یعنی اسباب لازمہ کو اختیار نہ کرے اور کسی مسجد میں حتیٰ کہ مسجد حرام میں معتکف ہو کر پورے خشوع و خضوع سے اللہ سے اولاد کی دعا کرے تو اس کی آرزو کا پورا ہونا محال ہے گو کہ یہ اللہ کی قدرت سے باہر نہیں جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا خاص مظاہرہ ہر کسی کی خواہش اور مطالبہ پر نہیں کرتا اور نہ ہی یہ اس کا معمول ہے۔ اس کا معمول تو وہی قانون قدرت ہے جسے احقر ’’سنت اللہ‘‘ کہہ رہا ہے۔ اس لئے اُس انسان کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ اسے قانون قدرت کی سمجھ نہیں!
اس بات کو اب دوسری مثال سے سمجھئے۔ اگر کسی شخص کو آم کی پیداوار چاہیے تو سنت الٰہی کیا ہے کہ وہ آم کا پودا لگائے، اسے سینچے اور اس کی حفاظت کرے، پھر اللہ سے اس میں پھل آنے کی دعا کرے، تب جاکر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اسے آم کی فصل نصیب ہو۔ اب اگر ایک شخص نے امرود کے باغ لگا دئے اور اس کی سینچائی و حفاظت بھی خوب کی اور صلاۃ الحاجۃ پڑھ پڑھ کر وہ پورے خلوص سے اس باغ میں آم کی پیدار ہونے کی اللہ سے دعائیں کر رہا ہے تو کیا امرود کے پیڑوں میں آم کا پھل نکل آئے گا، نہیں بالکل نہیں! ایک بار پھر میں یہ دہراؤں گا کہ یہ اللہ کی قدرت میں ہے کہ امرود کے درختوں میں آم کا پھل لے آئے لیکن یہ اس کی جاری سنت نہیں ہے۔ سنت الٰہی یا ضابطہ خداوندی یہی ہے کہ آم کے پیڑوں میں آم اور امرودکے پیڑوں میں امرود ہی پھلتا ہے۔ و علیٰ ھذا القیاس!
اب ایک تیسری مثال لیجئے۔ ایک شخص کو پٹنہ سے دہلی جانا ہو تو اس کے اسباب کیا ہیں؟ وہ شخص دہلی کی کسی ٹرین، بس یا ہوائی جہاز کا ٹکٹ لے اور اس کے مطابق ہی سواری پر سوار ہو، پھر اللہ سے دعا کرے کہ عافیت کے ساتھ اسے اپنی منزل مقصود تک پہنچا دے، تو امید ہے کہ وہ دہلی پہنچ جائے۔ ایک شخص نے دہلی کی کسی ٹرین کا ٹکٹ لیا لیکن وہ کولکاتہ کی کسی ٹرین میں بیٹھ گیا، اب وہ جتنا بھی گریہ و زاری کے ساتھ دعائیں کرلے کہ اللہ اسے دہلی پہنچا دے، ہر لمحہ اپنی منزل مقصود سے وہ دور ہی ہوتا جائے گا کیوں کہ اس نے سبب غلط اختیار کرلیا ہے۔ اب کوئی کرشمہ ہی اسے دہلی پہنچا سکتا ہے جس کا ظہور روز روز نہیں ہوا کرتا!
ان مثالوں سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ یہ دنیا دار الاسباب ہے ، اللہ رب العزت نے یہاں ہر چیز کو کسی نہ کسی سبب سے جوڑا ہے اور اس کے تمام امور میں اپنی ایک سنت جاری کی ہوئی ہے جس کوسمجھنا اور اس کی تابع داری کرنا، پھر اللہ سے دعا کرنا، مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ اسلامی تعلیم یہی ہے کہ اللہ کی جاری کردہ سنت کو اختیار کیا جائے اور اس کی قدرت پر ایمان رکھا جائے۔ نیز اسباب کو صرف ضابطہ الٰہی سمجھ کر اختیار کیا جائے لیکن ان پر بھروسہ نہ کیا جائے، بھروسہ صرف اور صرف اللہ کی ذات پر ہو کیوں کہ اسباب نتائج دینے میں اسی کے حکم کے محتاج ہیں۔ پھر جب اسباب اپنے قدرت میں نہ ہوں تو اللہ سے دعا کیا جائے کہ یا اللہ ! تو مسبب الاسباب ہے، یا تو میرے مطلوبہ کام کے لئے کوئی سبب پیدا کردے یا تو بغیر سبب کے ہی میرا کام بنادے کیوں کہ تو سبب کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی سبب ضرور کھڑا کردے گا یا پھر بغیر سبب کے ہی وہ کام بنادے گا اگر وہ کام اس کی مصلحت کے خلاف نہ ہو۔
ان باتوں کی صحیح سمجھ نہیں ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ اس معاملے میں بے اعتدالی کا شکار ہوتے ہیں؛ کچھ تو اسباب کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ اللہ اور اس کے احکام سے دوری کی شکل میں سامنے آتا ہے اور کچھ لوگ اسباب کا سرے سے ہی انکار کردیتے ہیں اور یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ اللہ کی مرضی ہوگی تو یہ کام خود بخود ہوجائے گا۔ یہ سوچ انسان کو ناکارگی کی طرف لے جاتی ہے۔ ایسے لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں اور ہر معاملے میں کرشمہ خداوندی کے منتظر رہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں اللہ تعالیٰ اگر کسی چیز کا ارادہ کرلے تو اسے پورا کرنے کے لئے اسے کسی سبب کی محتاجی نہیں، وہ لفظ ’کن‘ سے ہر کچھ کرنے پر قادر ہے لیکن نظام کائنات کو چلانے میںیہ اس کا عام ضابطہ نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اسباب جب کہ وہ اپنے دسترس میں ہوں ، کا اختیار کرنا ضابطہ الٰہی کے دائرے میں ہے اور اسے اختیار کرنے کے بعد ہی اللہ پر توکل اور اس سے کامیابی کی دعا کا مرحلہ آتا ہے۔ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا : ’’یَا رَسُولَ اللہِ ! أَعْقِلُھَا وَ أَتَوَکَّلُ أَوْ أُطْلِقُھَا وَ أَتَوَکَّلُ؟ قَالَ: اعْقِلْھَا وَ تَوَکَّلْ‘‘ ’’اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں اونٹ کو پہلے باندھ دوں پھر اللہ پر توکل کروں یا کھلا چھوڑ دوں پھر توکل کروں؟ آپؐ نے فرمایا: اسے باندھ دو ، پھر توکل کرو!‘‘ (سنن ترمذیؒ، رقم الحدیث ۲۵۱۷، بروایت انس بن مالکؓ)۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ پہلے اونٹ کے فرار ہونے سے بچنے کا سبب اختیار کرو پھر اللہ پر توکل کرو۔ اسباب لازمہ کا اختیار کرنا اگر توکل کے خلاف ہوتا تو اللہ رب العزت اپنے نبیؐ اور مسلمانوں کو سامان حرب اکٹھا کرنے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنے کا حکم نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَأَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّن قُوَّۃٍ وَمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْْلِ تُرْہِبُونَ بِہِ عَدُوَّ اللّہِ وَعَدُوَّکُمْ وَاٰخَرِیْنَ مِنْ دُونِہِمْ لَا تَعْلَمُوْنَہُمُ اللّہُ یَعْلَمُہُمْ وَمَا تُنفِقُوْا مِنْ شَیْْئٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ یُوَفَّ إِلَیْْکُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ} (ترجمہ): ’’اور (مسلمانو!) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں، ان سے مقابلہ کے لئے تیار کرو، جن کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے (موجودہ) دشمن پر بھی ہیبت طاری کرسکو، اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جنہیں ابھی تم نہیں جانتے، (مگر) اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کے راستے میں تم جو کچھ خرچ کروگے، وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا، اور تمہارے لئے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔‘‘ (سورۃ الانفال: ۶۰)۔
چنانچہ آپؐ نے اور مسلمانوں نے حکم خداوندی کے مطابق مذکورہ وسائل کی تیاری بھی کی۔ نیز غزوہ حنین کے موقع پر آپؐ نے صفوان بن امیہ سے سو زرہیںمع آلات و اوزار مستعار لئے جب کہ مکہ فتح ہوچکا تھا اور مقابلہ قبیلہ ہوازن سے ہونے والا تھا۔ یہ جنگ کی تیاری میں اسباب لازمہ کو اختیار کرنے کی آپؐ کی سمجھ بوجھ اور سنت کو ظاہر کرتا ہے۔ جنگ کے علاوہ بھی زندگی کے دوسرے امور میں آپؐ کا اسباب لازمہ کو اختیار کرنا صحیح بلکہ متواتر روایات سے ثابت ہے۔ اب ہم مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ضابطہ خداوندی کو اختیار کئے بغیر یعنی اپنے حصے کا کام کئے بغیر لمبی چوڑی دعائیں کرتے ہیں اور اللہ کی غیبی مدد کے متوقع رہتے ہیں۔ ہمارے ائمہ اور خطبا کا بھی یہی حال ہے۔ مثال کے طور پر ہم یہ دعا کر رہے ہوتے ہیں کہ اللہ ساری دنیا میں ہدایت کی ہوا چلادے لیکن ہدایت کے عمومی نزول کے لئے جو اسباب ہیں انہیں ہم اختیار نہیں کرتے۔ اگر ہدایت کا نزول صرف دعا سے ممکن ہوتا تو نبی کریم ﷺ بیت اللہ میں بیٹھ کر لوگوں کی عمومی ہدایت کے لئے دعا کر دیتے اور اللہ سب کو ہدایت دے دیتالیکن ایسا نہیں ہواکیوں کہ دعوت کی بے لوث اور انتھک محنت، حکمت عملی، مخالفتوں کا سامنا، مصائب پر صبر اور جان و مال کی قربانی ہدایت کے نزول عام ہونے کے اسباب ہیں جن سے نبی کریم ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو گزارا گیا، پھر آپؐ نے اور آپؐ کے ساتھیوں نے طاغوتی طاقتوں سے مقابلہ آرائیاں بھی کیں اور دعائیں بھی کیں، تب جاکر ہدایت عام ہوئی اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے۔ ہم لوگ گھر بیٹھے صرف دعاؤں سے ہی ہدایت کو عام کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ ہم بعض مرتبہ زمین پر بسنے والے ایک ایک انسان کی ہدایت مانگ رہے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسی دعا ہے جو اس کائنات میں اللہ کی منصوبہ بندی ہی کے خلاف ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے: {وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْراً مِّنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ لَہُمْ قُلُوبٌ لاَّ یَفْقَہُونَ بِہَا وَلَہُمْ أَعْیُنٌ لاَّ یُبْصِرُونَ بِہَا وَلَہُمْ آذَانٌ لاَّ یَسْمَعُونَ بِہَا أُوْلٰـئِکَ کَالأَنْعَامِ بَلْ ہُمْ أَضَلُّ أُوْلٰـئِکَ ہُمُ الْغَافِلُونَ} (ترجمہ): ’’اور ہم نے جنات اور انسانوں میں سے بہت سے لوگ جہنم کے لئے ہی پیدا کئے، ان کے پاس دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے پاس کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں، وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ وہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘ (الاعراف: ۱۷۹)۔ ایسے لوگوں کو آپ دعوت تو دے سکتے ہیںلیکن ہدایت کہاں سے دلوادیں گے؟ اسی طرح فرمایا: {وَلَوْ شِئْنَا لَآتَیْْنَا کُلَّ نَفْسٍ ہُدٰہَا وَلَکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَأَمْلَأَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ} (ترجمہ): ’’اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو (پہلے ہی) اس کی ہدایت دے دیتے لیکن وہ بات جو میری طرف سے کہی گئی تھی، متحقق ہوچکی ہے کہ میں جہنم کو جنات اور انسانوں سب سے ضرور بھر دوں گا۔‘‘ (السجدۃ: ۱۳)۔ پتا یہ چلا کہ ہماری بعض دعائیں بالکل خیالی نوعیت کی ہوتی ہیں، بعض سنت اللہ یا ضابطہ خداوندی کے خلاف تو بعض کائنات میں اس کی منصوبہ بندی ہی کے خلاف۔
اسی طرح ہم دعا کر رہے ہوتے ہیںکہ اے اللہ ہمیں کافروں اور مشرکوں پر غلبہ عطا فرماجب کہ قوموں کے عروج و زوال اور غلبہ کے سلسلے میں بھی اللہ کا ایک ضابطہ ہے جو دعا کے وقت ہمارے ذہنوں میں بھی نہیں ہوتاچہ جائیکہ کچھ عمل میں ہو۔ قرآن کریم میں بعض مقامات پر اس کی بھی نشان دہی کر دی گئی ہے کہ کن صفات کی حامل قوموں کو وہ عروج اور غلبہ عطا کرتا ہے اور کیسی قوموں کو وہ ذلیل و خوار کرتا ہے۔ آپ بنی اسرائیل اور قوم عمالقہ کا واقعہ پڑھ لیجئے یا طالوت اور جالوت کے ٹکراؤ کا، بہت کچھ واضح ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ کاہل اور بزدل قوموںکو کبھی غلبہ عطا نہیں کیا کرتا، ان کے حصے میں ذلت و رسوائی ہی آتی ہے۔ اور اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں یہ بھی اعلان فرمادیا ہے کہ قوموں کے حشر کے سلسلے میں اس کی سنت نہ تو بدلتی ہے اور نہ ہی یک لخت اٹھ جاتی ہے: {فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّہِ تَبْدِیْلًا وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّہِ تَحْوِیْلًا} (ترجمہ): ’’تو تم اللہ کے طے شدہ دستور میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں پاؤگے، اور نہ تم اللہ کے طے شدہ دستور کو کبھی ٹلتا ہوا ہی پاؤگے۔‘‘ (فاطر: ۴۳)۔
اسی لئے کئی اکابر علماء کرام نے کہ قوموں کے عروج و زوال کے دستور کو سمجھنے کی خصوصی کوشش کی اور اپنی اپنی سمجھ کے مطابق ملت کو اس سے آگاہ بھی کیا۔ مثال کے طور پر ابو محمد علی بن احمد بن حزم الاندلسیؒ کی تصنیف ’’الملل و النحل‘‘ (اردو ترجمہ: ’’قوموں کا عروج و زوال‘‘ از مولانا عبداللہ عمادی)، مولانا ابوالکلام آزادؒ کی تصنیف ’’قرآن کا قانون عروج و زوال‘‘، علامہ شکیب ارسلان کی کتاب ’’اسباب زوال امت‘‘، پروفیسر حبیب اللہ چشتی کی ’’امت مسلمہ کا عروج و زوال: اسباب، وجوہات اور تدارک‘‘ اور ڈاکٹر محمد امین کی کتاب ’’مغرب کا عروج اور متوقع زوال‘‘ دیکھی جاسکتی ہے۔ لیکن ہم لوگوں نے تو پڑھنا لکھنا بھی چھوڑدیا الا ماشاء اللہ ، تحقیق تو بہت دور کی بات ہے۔ ہم صرف لمبی چوڑی دعائیں کرنا جانتے ہیں اور ضابطہ خداوندی کی تابع داری بالکل نہیں کرتے۔ ایسے میں نتیجہ صفر رہنا ہوتا ہے اور صفر ہی رہتا ہے، البتہ ہم لوگ دعا کرکے خود کو تسلی ضرور دے لیتے ہیں کہ ہم بھی کچھ کر رہے حالانکہ ہم کچھ بھی نہیں کر رہے ہوتے۔ اگر آپ پوری ملت کے عملی رویہ کا جائزہ لیں تو یہی صورتحال ملے گی سوائے معدودے چند کے جو واقعی کچھ کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لئے ملت دن بہ دن پستیوں میں گرتی جارہی ہے اور اس کا مرض لاعلاج بنتا جارہا ہے۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام امور میں ہم ضابطہ خدواندی یا سنت اللہ کو پہچانیں، خود کو اس کا تابع دار بنائیں اور اپنے دائرہ اختیار میں اسباب لازمہ پر زبردست محنت و مشقت کریں، پھر اللہ سے بہترین نتائج کی دعا کریں تب ہی ہمیں ہر شعبہ میںکامیابی نصیب ہوسکتی ہے۔ اسی طرح قوموں کے عروج اور غلبہ کے سلسلے میں جو ضابطہ خداوندی ہے اسے سمجھنے اور پورا کرنے کی کوشش کریںپھر اللہ سے اس کے لئے دعا کریں، تو امید ہے کہ ہمارے حالات بدل جائیں اور ہمیں قوموں کی امامت کا شرف پھر سے حاصل ہوجائے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ احقر کی اس فکر کو عام کردے اور سارے مسلمانوں کو اس پر عمل کی توفیق بخشے۔ آمین!
(رابطہ: mwzafar.pu@gmail.com )
٭٭٭٭٭

Related posts

اتراکھنڈ حکومت کا یکساں سول کوڈ ایک سیاسی چال اور متاکشرا اسکول کے پیروکاروں کیلئے نقصاندہ

Siyasi Manzar

اسلام دین رحمت ہے

Siyasi Manzar

یوپی کے مدارس پر خطرے کی تلوار

Siyasi Manzar