أحمد عبد اللہ جولم عمری مدنی
مشکل وقت ہی انسان کی اصل پہچان کراتا ہے۔ اسی وقت معلوم ہوتا ہے کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے، کس کے دل میں کیا ہے اور کون صرف خوش حالی کے دنوں میں بڑے بڑے دعوے کرتا ہے۔ جب حالات بدلتے ہیں تو لوگوں کی حقیقت سامنے آ جاتی ہے اور ان کے اصل موقف کا پتہ چلتا ہے۔
آج افسوس کی بات صرف یہ نہیں کہ دشمن سعودی عرب کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں اور اس پر حملے کرنے کے موقع تلاش کرتے ہیں، بلکہ افسوس اس بات پر بھی ہے کہ جب سعودی عرب کی سلامتی، اس کے شہروں یا مقدس مقامات کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو کچھ لوگ خاموش رہتے ہیں۔ ایسے وقت میں خاموشی کو محض غیر جانب داری نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ اپنی اخلاقی ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کے برابر ہے۔
جب سعودی عرب کی سلامتی خطرے میں ہو اور اس کے شہروں یا مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جائے تو اس وقت صاف اور مضبوط موقف اختیار کرنا ضروری ہے۔ ایسے موقع پر سیاسی مصلحتوں اور ذاتی مفادات کو سامنے نہیں رکھنا چاہیے۔ سعودی عرب مسلمانوں کے لیے ایک عام ملک نہیں ہے، بلکہ یہ حرمین شریفین کی سرزمین ہے، جہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ واقع ہیں۔ ان مقدس مقامات سے مسلمانوں کی گہری محبت اور عقیدت وابستہ ہے۔
سعودی عرب نے ہمیشہ امت مسلمہ کے مسائل میں دلچسپی لی ہے۔ جب دوسرے ملک مشکلات میں گھرے تو اس نے ان کی مدد کی۔ ضرورت مندوں کے لیے امداد فراہم کی اور مشکل حالات میں بہت سے لوگوں کا ساتھ دیا۔ دنیا کے مختلف ملکوں سے لوگ روزگار اور بہتر زندگی کی تلاش میں سعودی عرب آئے، جہاں انہیں کام کرنے اور اپنی زندگی بہتر بنانے کے مواقع ملے۔ عرب اور اسلامی دنیا کے بہت سے مسائل میں بھی سعودی عرب نے صرف باتیں نہیں کیں، بلکہ عملی طور پر مدد کرنے کی کوشش کی۔
سعودی عرب کا کردار ہمیشہ اس بات کا تقاضا کرتا رہا ہے کہ مشکل وقت میں ضرورت مندوں کا ساتھ دیا جائے۔ اس لیے جب خود سعودی عرب کو خطرات کا سامنا ہو تو اس کی سلامتی کے بارے میں خاموش رہنا ایک اہم اخلاقی سوال بن جاتا ہے۔
سعودی عرب کی سلامتی کے معاملے میں اختلافات اور سیاسی بحث اپنی جگہ، لیکن کسی ملک کی سلامتی کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کرنا ایک الگ بات ہے۔ کسی ملک کی پالیسی سے اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر ہونے والے حملوں پر بھی خاموش رہا جائے۔ جو لوگ امن، بھائی چارے اور انصاف کی بات کرتے ہیں، انہیں ایسے وقت میں اپنے اصولوں کا واضح ثبوت دینا چاہیے۔
آج علماء، دانشوروں، سیاست دانوں، صحافیوں، طلبہ اور عام لوگوں سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا موقف واضح کریں۔ انہیں کھل کر کہنا چاہیے کہ سعودی عرب کی سلامتی اہم ہے اور اس کے شہروں یا مقدس مقامات پر حملے کسی صورت قابل قبول نہیں۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سعودی عرب کی حمایت اور حوثی حملوں کی مذمت میں متعدد ممالک اور اداروں نے اپنے موقف کا اظہار کیا ہے۔ مصر، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، اردن، پاکستان اور دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ خلیج تعاون کونسل، عرب لیگ اور رابط? عالم اسلامی نے بھی مختلف مواقع پر سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور حملوں کی مذمت کی۔ یہ حمایت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور خطے میں امن و استحکام کا معاملہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
حملہ آوروں کے ایسے اقدامات پر خاموش رہنے سے غلط پیغام جا سکتا ہے اور ان کے حوصلے بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر شخص انصاف اور امن کے اصولوں کے مطابق بات کرے اور کسی بھی جارحیت کو درست قرار نہ دے۔
سعودی عرب کو نفرت پھیلانے والوں کی ہر بات کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ اس کی اصل طاقت اس کے عوام کا اتحاد، اپنی قیادت پر اعتماد، اپنے محافظوں کی محنت اور ملک کی سلامتی کے لیے مشترکہ کوششوں میں ہے۔ مشکل حالات میں قومیں اپنی طاقت پہچانتی ہیں، اور سعودی عوام بھی اپنے ملک کے امن، اتحاد اور ترقی کی حفاظت کے لیے پُرعزم ہیں۔
سعودی عرب کا مضبوط جواب اس کا امن، اتحاد، ترقی اور کامیابی ہوگی۔ منفی باتیں کرنے والے اور نفرت پھیلانے والے لوگ اپنی باتیں کرتے رہیں گے، لیکن کوئی بھی قوم صرف تنقید اور مخالفت سے اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹتی۔ جو قوم اپنے مقصد کو پہچانتی ہو، اپنی قیادت پر اعتماد رکھتی ہو اور اپنے مستقبل کے لیے محنت کرتی ہو، وہ مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کا راستہ نکال لیتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کے معاملے میں دوہرا معیار نہ اپنایا جائے۔ امن کی حمایت کرنے والے ہر شخص کو حملوں کی مذمت کرنی چاہیے، بے گناہ لوگوں کی حفاظت کی بات کرنی چاہیے اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ سعودی عرب، اس کی قیادت، اس کے عوام اور اس کے بہادر محافظوں کی حفاظت فرمائے۔ اسے ہمیشہ امن و امان، اتحاد، عزت، ترقی اور سربلندی عطا فرمائے، اور ہر قسم کے شر و فساد سے محفوظ رکھے۔ آمین۔



