Siyasi Manzar
قومی خبریں

13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ معاملہ

Bomb Blast -Bombay High Court Expediate trial – Kafeel Bail 13/7

بامبے ہائی کورٹ نے مقدمہ کی یومیہ سماعت اور ایک سال میں مقدمہ مکمل کرنے کا ، ترسٹھ سالہ ضعیف شخص کی ضمانت کی عرضداشت پر سماعت کے دوران عدالت نے حکم جاری کی

ممبئی 1/ نومبر،دہشت گردی کے الزامات کےۢ تحت گذشتہ بارہ سالوں سے جیل میں مقید ایک ترسٹھ سالہ ضعیف شخص کو آج اس وقت شدید دھچکا لگا جب بامبے  ہائی کورٹ نے اسے فوری ضمانت پر رہا کرنے سے انکار کردیااور اس کی ضمانت عرضداشت پر چھ ماہ کے بعد سماعت کیئے جانے کا حکم جاری کیا، اس درمیان عدالت نے خصوصی مکوکا عدالت کو حکم دیا کہ وہ مقدمہ کی سماعت یومیہ کی بنیاد پر کرنے کی کوشش کرے، اگر یومیہ سماعت نہیں ہوسکتی ہے تو سنیچر اتوار چھوڑ کر ہفتہ میں تین دن مقدمہ کی سماعت کی جائے اور مقدمہ کی سماعت ایک سال میں مکمل کی جائے۔دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ملزم کفیل احمد کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے قانونی امداد فراہم کی جارہی ہے۔بہار کے دربھنگہ شہرکے کفیل احمد محمد ایوب نامی شخص کی ضمانت پرر ہائی کی عرضداشت کو ممبئی سٹی سول اینڈ سیشن عدالت میں قائم خصوصی مکوکا عدالت کے جج بھوسلے نے گذشتہ سال مسترد کردیا تھا جس کے بعد بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا۔
ایڈوکیٹ مبین سولکر نے بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ریوتی موہتی ڈیرے اور جسٹس گوری گوڈسے کو ملزم کفیل احمد کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کی گذارش کی جسے عدالت نے یہ کہتے ہوئے نا منظور کردیا کہ ملزم پر سخت الزامات ہیں لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا نہیں کیا جاسکتا البتہ مقدمہ کی جلداز جلد سماعت کے لیئے نچلی عدالت کو حکم دیا جارہا ہے۔ ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ اگلے دو تین سال میں بھی مقدمہ کی سماعت مکمل نہیں ہوگی لہذ ا ملزم کی ضمانت عرضداشت مسترد کرنے کے بجائے اسے برقرار رکھاجائے، چھ ماہ کے بعد ملزم عدالت سے پھر رجوع ہوگا جسے عدالت نے منظور کرلیا۔
دوران سماعت ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمہ میں ملزم کوصرف اسی لیئے گرفتارکیا گیا ہے کہ ایک دیگر ملزم کے اقبالیہ بیان میں اس کا ذکر آیا ہے حالانکہ عرض گذار کفیل احمد اس ملزم کو جانتا بھی نہیں ہے نیز ملزم کی عمر کافی زیادہ ہوچکی ہے اور متعدد بیماریوں میں بھی مبتلا ہے لہذا اسے ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔
استغاثہ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ویبھو بگاڑے نے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی سخت لفظوں میں مخالفت کی اور عدالت کو بتایا کہ نچلی عدالت مقدمہ کی تیزی سے سماعت کررہی ہے اور ابتک 32/ سرکاری گواہان کے بیانات کا اندراج ہوچکا ہے جبکہ مزید پونے دو سو گواہان کے بیانات کا اندراج باقی ہے۔
فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کی بجائے مقدمہ کی جلداز جلد سماعت مکمل کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔
واضح رہے کہ ملزم کفیل احمد پر عروس البلاد ممبئی کے تین مختلف مقامات پر ہوئے بم دھماکہ معاملہ بنام 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام ہے۔ملزم کفیل احمد سمیت دیگر تمام گیارہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,326,325,324,379,109,120-B,اورغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، دھماکہ خیز مادہ کے قانون اور مکوکا قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چارج فریم کیا تھا۔ اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ،  ہارون عبدالرشید نائیک،کفیل احمد محمد ایوب انصاری،، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان، زین العابدین عبدالرزاق کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے۔

Related posts

وزیراعلیٰ نے ہمیر پور ضلع کے متاثرہ خاندانوں کو 14 کروڑ روپے جاری کئے

Siyasi Manzar

مولانا ابو الکلام آزاد مذہبی امور کے ماہرہونے کے ساتھ ہی سیکولر بھی تھے: ڈاکٹر اکھلیش Maulana Abul Kalam Azad

Siyasi Manzar

خصوصی جج کی سخت وارننگ کے بعد سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر عدالت میں پیش ہوئی

Siyasi Manzar

Leave a Comment