Siyasi Manzar
مضامین

کھلے عام موت کی دعوت دیتی بجلی کی ترسیلی لائنیں

سہیل علی
پونچھ، جموں
بجلی انسان کی سب سے بڑی کامیابی اور ایک اہم ضرورت ہے۔ہر انسان آج کے دور میں بجلی کے بغیر زندگی کاتصور نہیں کر سکتا ہے۔آج کے دور میں لگ بھگ تمام کام بجلی کی مدد سے ہی ممکن ہوپاتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بجلی کے بغیر آج کے دور میں زندگی تصور نہیں کی جاسکتی۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں تھوڑی سی لاپرواہی سے یہی بجلی پل بھر میں موت کی وجہ بھی بن جاتی ہے۔اسی بجلی نے کئی جانوں کا ضیاع کیا ہے۔ این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق، پچھلی دہائی (2011 – 2020) میں تقریباً 100,000 لوگ بجلی کا کرنٹ لگنے سے اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہر سال تقریباً 11,000 لوگوں کی بجلی کا کرنٹ لگنے سے اموات ہوتی ہیں۔ یہ تعداد 2022 میں بڑھ کر 12,492 ہو گئی۔ یہ اوسطاً روزانہ 34 اموات کے برابر ہے۔یعنی بجلی کا کرنٹ لگنے سے روزانہ 34 افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ یہ جتنی فائدہ مند ہے اتنی ہی خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے۔اس کی وجہ سے ہونے والی اموات کے پیچھے کی اگر وجہ دیکھی جائے تو کافی حد تک لاپروائی اورناقص انتظامات ہیں جن کی وجہ سے کئی لوگ اور مال مویشی اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ برسات اور تیز ہواؤں سے بھی بجلی کی ترسیلی لائنیں زمین پر گر جاتی ہیں اور ان کی زد میں بھی لوگ یا جانور آجاتے ہیں جو ان کی موت کا باعث بن جاتی ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر جو بجلی کی تاریں لوگوں کے گھروں کے بالکل اوپر سے گزر کر جاتی ہیں ان کے گرنے سے ہونے والے نقصان کا ذمہ دار کون  ہوگا ؟
ملک کے کئی ایسے دہی علاقہ جات ہیں جہاں مکانوں کی چھتوں کے اوپر سے بجلی کے ہائی ولٹیج(ایچ ٹی) یا لوولٹیج (ایل ٹی) لائینیں گزر کر جاتی ہیں۔کئی مقامات پر یہ تاریں درختوں کے بیچ سے گزرتی ہیں،تو کہیں بجلی کے کھمبوں کے بجائے لکڑی کے کھمبوں سے جھو لیتی یہ تاریں کسی مصیبت سے کم نہیں ہیں۔ ملک کے دیگر دیہی علاقوں کی طرح جموں کشمیرکے سرحدی ضلع پونچھ کے گاؤں بانڈی چیچیاں کے محلہ نابن کے مقامی بھی کچھ ایسی ہی مصیبت سے روز گزر رہے ہیں۔اس سلسلے میں چند مقامی باشندگان نے بتایا کہ بجلی کی ایک مین لائن ان کے گھر وں کے اوپر سے گزر تی ہے۔ یہ مین لائن محلے کے نصف درجن سے زائد گھروں سے ہوکر گزرتی ہے اور اکثر بارش کے موسم میں یا تو یہاں تاریں ٹکرانے کی وجہ سے دھماکہ ہوتا ہے یا پھر تار ہی زمین پر گر جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر جان ومال کا خطرہ بنا رہتا ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ایک دن اتنا زور دار دھماکہ ہوا کہ ہم لوگ جب اس مقام کو دیکھنے گئے تو وہاں تاریں ٹوٹ کر زمین پر پڑی ہوئی تھیں اور کچھ ہی دوری پر لوگ کام کر رہے تھے۔جو ان کیلئے ایک بڑا خطرہ بن سکتا تھا۔شفاعت حسین شاہ نامی ایک مقامی شخص نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میرے گھر کے بالکل قریب سے گزرنے والی بجلی کی تار میں کئی بار دھماکے ہوئے ۔جو کسی خطرے سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے بتایاکہ کئی بار یہ تاریں کمزور ہونے کی وجہ سے ٹوجاتی ہیں۔ایسے میں ہم اور ہمارے گھر کے افراد خوف میں جیتے ہیں۔بارش کے موسم میں تو گھر سے نکلنے میں بھی ڈر لگتا ہے۔خاص کر بچوں کو لیکر ہر وقت فکر رہتی ہے ۔انہوں نے متعلقہ محکمہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اس تار کو گھروں سے کچھ دوری پر منتقل کیا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی حادثہ نہ ہو۔اس سلسلے میں 32سال کے ایک اور مقامی زکی علی نے کہا کہ بجلی کی یہ ترسیلی لائینیں جو گھروں کی چھتوں کے اوپر سے گزرتی ہیں انہیں فوری طور پر گھروں سے دور کرناچاہئے تاکہ کوئی حادثہ نہ ہو۔وہیں بزرگ رشید حسین شا ہ نے کہا کہ لوگوں کے گھروں کے اوپر سے گزرنے والی یہ تاریں کسی بڑے حادثے کو دعوت دے سکتی ہیں۔ایسے میں متعلقہ محکمہ کو اس جانب خصوصی توجہ مبذول کرتے ہوئے فوری اقدامات کرنے چاہئے تاکہ کوئی جانی نقصانہ ہو۔
عمر علی نامی ایک مقامی نوجوان نے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی موسم خراب ہوتا ہے اور ہوایں تیز چلنی شروع ہوتی ہے تو ان تاروں کے آپسی ٹکرانے کی وجہ سے دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔ جس سے پورا علاقع خوف میں جیتا ہے۔تیز ہوا میں اکثر یہ تاریں آپس میں ٹکرا کرٹوٹ جاتی ہیں۔ انہوں نے مزیدبتایاکہ ہائی ولٹیج بجلی کی کچھ تاریں توگھروں کے بہت قریب سے گزرتی ہیں جو ہمیشہ خطرے کا اعلان کرتی رہتی ہیں۔ایسے میں متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں سے اپیل ہے کہاکہ وہ اس سلسلے میں فوری اقدامات کریں اور گھروں کے پاس سے گزرنے والی ان تاروں کو منتقل کریں۔ ایسے حالات کئی مقامات پر ملتے ہیں جہاں بجلی کی تاریں گھروں کی چھتوں کے اوپر سے گزرتی ہیں یا پھرلکڑی کے کھمبوں پر جھولتی یہ تاریں ہر وقت موت کا کھلے عام پیغام پہنچا رہی ہوتی ہیں۔گھر کے بلکل قریب سے گزرتی بجلی کی تاروں سے ان گھروں کی خواتین کی جان کو بھی خطرہ بنا رہتا ہے۔جو کسی نہ کسی کام سے روزانہ گھر کی چھت پر آتی رہتی ہیں۔ دوسری جانب متعلقہ محکمہ صرف بجلی کے ماہانہ بل گھر بھیجنے کی کوشش میں رہتا ہے۔جبکہ اسے چاہئے کہ ایسے مقامات کی فوری نشاندہی کرتے ہوئے ایسی بجلی کی تاروں کو دوسری جگہ منتقل کرے جو گھروں کے اوپر یا قرب سے گزرتی ہیں کیونکہ کسی بھی وقت یہ تاریں انسانوں اور جانوروں کو ابدی نیند سلا دینے کیلئے کافی ہیں۔محکمہ بجلی کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں بروقت اقدامات کرے،اس سے پہلے کہ کوئی بڑا حادثہ پیش آئے اورلوگوں کو جانی اور مالی نقصان سے گزرنا پڑے۔
اس سلسلے میں متعلقہ محکمہ کے جے ای ای جگمیت سنگھ کہتے ہیں کہ بجلی کی یہ لاینیں کافی عرصہ پہلے لگائی گئی تھیں۔اس وقت یہاں گھروں کی تعمیر بھی نہیں ہوئی تھی ۔آبادی بڑھنے کے بعد جن کی زمین تھی انہوں گھر بنا لیا۔ جس کی وجہ سے یہ خطرہ بڑھ گیا ہے۔حالانکہ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ جلد سے جلد علاقے میں ٹیم بھیجیں گے جو موقع پر حالات کا جائزہ لے گی۔ ٹیم کی رپورٹ کی بنیاد پر آگے کی کاروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر کوشش کریں گے کے مسلہ کا جلد حل نکلے تاکہ کسی بھی طرح کی جانی یا مالی نقصان نہ ہو۔بہرحال،اب دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ کب تک اپنی کاروائی کرتا ہے اور کب تک محلہ  نابن کی عوام کو ان کھلے عام موت کی دعوت دیتی بجلی کی ترسیلی لائنوں سے نجات ملتی ہے؟ (چرخہ فیچرس)

 

Related posts

اسلامی پردہ اور عصر حاضر

Siyasi Manzar

امتحانات کے تناؤ سے نبردآزمائی: طلبا کی جسمانی و ذہنی تندرستی کے مابین توازن قائم کرنا ضروری

Siyasi Manzar

خوش فہمی میں مبتلا ہے مسلمان آخر کیوں ؟ !

Siyasi Manzar

Leave a Comment