Siyasi Manzar
مضامین

پل ہے یا موت کا کنواں؟

سلمی راضی
منڈی، پونچھ، جموں

ہندوستان کا سب سے قدیم اور دنیا میں سب سے لمبے پلوں میں ہاوڑا پل کو چھٹا مقام حاصل ہے۔جس کی لمبائی ایک ہزار پانچ سو فٹ ہے اوریہ بغیر کسی ستون کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے کے سہارے کھڑاہے۔ ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں بھی ایسے چندگنے چنے تاریخی پل موجود ہیں۔ جموں وکشمیر میں دریا چناب پر بنا بلند ترین پل بھی تاریخی حثیت کا حامل ہے۔ جموں وکشمیر میں اس سے بھی بلند اور طویل پل تعمیر ہوسکتے ہیں۔ جن میں کشتوڑا،ڈوڈا،ڈورو بسنت گڑھ جیسے علاقے قابل زکر ہیں۔ خطہ چناب سے خطہ پیر پنچال کا جغرافیائی نظام قدر الگ ہے۔ یہاں طول وعرض میں کہیں تنگ اور کہیں وسیع وعریض وادیاں ہیں۔راجوری سے تھنہ منڈی کی طرف اور راجوری سے منجہ کوٹ بھمر گلی کی طرف کا علاقع مخلف ہے۔ بھمر گلی سے جڑاں والی گلی تک کا راستہ بہت انچائی سے گزرکر پونچھ کو ملاتاہے۔ جڑاں والی گلی سے پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ شروع ہوتی ہے۔ سرنکوٹ سے پونچھ تک چار بڑے پل ہیں۔ جن میں دریا پونچھ پر بنا شیر کشمیر پل سب سے زیادہ لمباہے۔ سرنکوٹ اور منڈی لورن ساوجیاں سے نے والے دریاپر چنڈک کلائی کے مقام پر ہے۔ تیسرا میدانہ تا سیڑھی خواجہ دریا سرن پر ہے۔ اور چوتھابھی دھندک ڈنگہ کے مقام پر دریا سرن کوٹ پر تعمیر ہے۔ لیکن سرنکوٹ سے قریب پندرہ کلومیٹر کی دوری پر واقع گگر کوٹ لپاڑا پانی جو دریا سرن پر بناایک چھپٹا نماجھولا پل کی مثال ضلع بھر میں شائید کہیں نہیں مل سکے گی۔ جس پر سے جو لوہے کے رسوں پر لوہے کی اتنی شیٹ بچھائی گئی ہیں۔جن پر صرف ایک وقت میں ایک انسان ہی چل سکتاہے۔ ایک طرف سے بہت ہی دشوار گزار راستہ ایک پہاڑی میں بنایاگیاہے۔ اسی پہاڑی کے پتھروں کے ساتھ رسہ باندھاگیاہے۔

دوسری جانب اس چھپٹہ پر سیڑھی کے زریعہ چڑھ کر گزرناپڑتاہے۔ اس پر جب انسان چلتاہے تو یہ چھپٹہ بہت ہی حرکت کرتاہے۔ جس کی وجہ سے خواتین،بزرگ اور سکولی بچے دریامیں گر جانے کے ڈر کی وجہ بہت کم گزرتے ہیں۔ مزید پریشانیوں کی وجہ جاننے کے لئے مقامی باشندہ محمد اکبر جن کی عمر 55سال کے قریب ہے اور روزہ شیندرہ میں تجارت کی غرض سے اپنی دوکان پر جاتے ہیں۔ ان کا کہناتھاکہ ضلع پونچھ سے قریب 13کلو میٹر کی دوری پر واقع جھولہ پل جو پنچائیت سیڑھی چوہانہ اور کچھ حصہ سیڑھی خواجہ کو بھی جوڑتا ہے ۔ سینکڑوں اعلی افیسران،ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ، اور وزیر مشیر اس جموں پونچھ ہائی وے سے گزرتے ہیں۔لیکن یہاں کلائی سے قریب ایک کلومیٹر کی دوری پر گگڑ کوٹ بجلی پروجیکٹ کے سامنے یہ چھپٹہ سا پُل کسی کو بھی نظر نہیں آتا ہے۔ افسوس کئی سالوں سے یہاں کی مقامی آبادی اس جھولہ پل نہیں بلکہ موت کے کنواں سے گزرکر اپنے گھر کوپہونچ پاتے ہیں۔ یہ جھولہ نما اکہرا پل بھی گگرکوٹ پاور پروجیکٹ والوں نے بنایاتھا۔ جس کو پاور پروجیکٹ کی تعمیر میں عارضی طور پر گزر بسر کرنے کے لئے بنایاتھا۔ لیکن مجبوری کی بناپر آج تک یہ لوگ گزررہے ہیں۔ اس پل پر سے ایک وقت میں صرف دو ہی ادمیوں کو چلنے اور عبور کرنے کی اجازت کا بورڈ لگایاگیاہے اور کمزور دل والے سے چھپٹہ سے گزر بھی نہیں سکتے ہیں۔ افسوس کہ اس حساس چھپٹہ سے کئی سالوں سے لوگ گزر رہے ہیں۔ کئی بار انتظامیہ کے ساتھ اس معاملہ کو اٹھایاگیا۔لیکن ہر ایک نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیااور عوام سیڑھی چوہانہ کی اس دیرینہ مانگ کو نظر انداز کیا گیا۔

اس حوالے سے،شاہد بخاری جن کی عمر 30سال ہے،انہوں نے بتایاکہ یہاں سیڑھی چوہانہ کے لوگوں صدیوں سے یہاں آباد ہیں اور ان کی وراثتی زمینیں دریا کے اس پار یعینی کلائی،شیندرہ میں پڑتی ہیں۔ جہاں سے اپنی زمینوں میں ہر روز جاناہوتاہے اور کچھ لوگ تو یہاں سے مال مویشی بھی لاتے لے جاتے ہیں۔ جو اس پل کے نہ ہونے کی وجہ سے یرغمال سے ہوکر رہ چکے ہیں۔ اب یہاں سے اگر ہم میدانہ سے ہوکر جاتے ہیں ہیں۔تو اس کے لئے گاڑی کا ہونا لازمی ہے۔ ان غریب لوگوں کے پاس گاڑیاں نہیں ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ فصل لانے لے جاتے وقت بھی پریشانیوں کا سامناکرناپڑتاہے۔محمد شفیق راتھر جن کی عمر 27سال ہے،ان کا الزام ہے کہ یہاں سے ہم لوگوں نے اپنے نمائیندوں کو چن کر بھیجا تھاتاکہ سیڑھی چوہانہ کے لوگوں کو کچھ راحت نصیب ہو۔یہ وہی دفعہ 370 سے پہلے کے وعدے ہیں۔

ایسالگتاہے وہی پرانے سیاسی لوگ نیالبادہ اوڑ کر پھر اس غریب عوام کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہوے ہیں۔اس وقت ہمارے یہاں سیڑھی چوہانہ اور دیگر محلہ جات کی بچیاں اس پل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کو چھوڑ رہی ہیں۔کیوں کہ اس پل کی وجہ سے ڈگری کالج پونچھ یاڈگری کالج سرنکوٹ تک نہیں پہونچاجاسکتا۔ اس کے علاوہ یہاں سے بیمار یا کسی زحمی کو پونچھ یا سرنکوٹ لے جاناہوتاہے تو اس کے لئے بھی یہ پل موت یا مصیبت کا باعث بنتاہے۔غرض سینکڑوں مصیبتیں ٹل سکتیں تھیں جب یہ پل یہاں تعمیر ہوجاتا۔ تحصیل حویلی سے منسلک بلاک لسانہ کے زیر اہتمام اس علاقع کی عوام چنیدہ نمائیندہ ضلع ترقیاتی کونسل ممبر لسانہ محترمہ رخسانہ سے جب اس چھپٹہ پل کے حوالے سے بات کی تو ان کا کہناتھاکہ حقیقت میں سیڑھی چوہانہ اور اس کے ملحقہ محلہ جات کو اس پل کی عدم دستیابی سے سخت پریشانی ہے۔ ایک خاتون ہوتے ہوے میں یہاں کی خواتین اور نوعمر بچیوں کی مشکلات کو بھی آسانی سے سمجھتی ہوں۔ جس کو دیکھتے ہوے اس معاملہ کو ہم نے انتظامیہ کے ساتھ اٹھایاہے۔ جس پر کثیر رقم کی ضرورت ہے۔

بہرحال، اب اس پل کے لئے مجوزہ پروجیکٹ کو کب منظوری ملتی ہے اور کب یہاں پل کا کام لگ پایگا؟ اس کے لئے وقت سے پہلے کچھ کہانہیں جاسکتاہے۔ البتہ ہر بار اس معاملہ کو اولین فرصت میں رکھا جاتا ہے تاکہ یہاں سیڑھی چوہانہ میں یہ پل بن سکے۔اسی معاملہ کو جب ضلع ترقیاتی کونسل چئیرمین تعظیم اختر سے بات کرنے کی کوشش کی تو ان کی جانب سے بھی خاطر خواں جواب نہیں ملا۔لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخریوں تسلیوں سے کب تک ان غریبوں کو بیوقوف بنایاجاتارہیگا؟ کیا تیز ترین ترقی یافتہ دور میں اس عوام کے لئے اتنی رقم سرکاری خزانوں میں نہیں کہ یہ جھولاپل تعمیر ہوسکے؟ انتظامیہ عوامی نمائیندے اس عوام کی طرف توجہ

قلم کارکے نظریات ان کے اپنے ذاتی ہیں ادارہ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Related posts

مین کیمف :پرایک طائرانہ نظر ”Mein Kampf”

Siyasi Manzar

عہد حاضر میں مقصد تعلیم محض حصول ڈگری ہے

Siyasi Manzar

بحرِ اقبالیات کا شناور: پروفیسر رفیع الدین ہاشمی

Siyasi Manzar

Leave a Comment