Siyasi Manzar
مضامین

وہ بزرگ رکشے والا


سہیل انجم
ہمیں دہلی میں جامعہ نگر علاقے کے ذاکر نگر سے اوکھلا موڑ کے پاس واقع سوریہ ہوٹل کے پاس جانا تھا۔ وہاں رکشہ سے جا سکتے ہیں لیکن اُدھر بیٹری رکشہ پر پابندی ہے۔ بیٹری رکشاؤں کی بھرمار کی وجہ سے سائیکل رکشاؤں کی قلت ہو گئی ہے۔ لہٰذا کافی دور تک چلنے کے بعد ایک سائیکل رکشہ نظر آیا۔ کرتا لنگی میں ملبوس ایک باریش بڑے میاں دکھائی دیے جو اپنا رکشہ موڑ رہے تھے۔ ہم نے پوچھا کہ کیا وہ جولینا کی طرف پوسٹ آفس تک چلیں گے۔ انھوں نے کہا ہاں ہاں بیٹھیے، لیکن وہ تو سی سی (کمیونٹی سینٹر) میں ہے۔ ہم نے کہا جی ہاں وہیں چلنا ہے۔ ذاکر نگر اور نیو فرینڈس کالونی کے اتصال پر چڑھائی ہے۔ نیو فرینڈس کالونی کی سڑک ذاکر نگر کی سڑک سے تقریباً نصف منزل اونچی ہے۔ گویا اِدھر سے جانے پر چڑھان ہے اور اُدھر سے آنے پر اتران۔ لیکن وہ جگہ ”ڈھلان“ کے نام سے معروف ہے۔ ہم جب بھی سائیکل رکشہ سے ادھر جاتے ہیں تو اس جگہ اتر جاتے ہیں تاکہ رکشہ ڈرائیور کو اوپر جانے کے لیے ہمیں کھینچنا نہ پڑے۔ جب ہم اس جگہ پہنچے تو ہم نے اترنا چاہا۔ سفید ریش والے بڑے میاں نے کہا کہ بیٹھے رہیے۔ تھوڑا توقف کرکے بولے ”ابھی بہت شکتی ہے“۔ ہمیں ان کے اس جملے پر ہنسی آگئی۔ جب نیو فرینڈس کالونی کے سامنے پہنچے تو انھوں نے کہا کہ ”میں ستر سے اوپر ہو گیا ہوں مگر اب بھی کافی جان ہے“۔ ہماری عادت ہے کہ ہم سائیکل یا آٹو رکشہ پر بیٹھتے ہیں تو گفتگو کرکے ڈرائیوروں کے حالات اور خیالات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا ہم نے بزرگ رکشہ ڈرائیور سے بات کرنا شروع کر دی۔ ”آپ کی عمر ستر سے اوپر ہے اور پھر بھی بہت آپ میں بہت جان ہے“؟ ”جی ہاں! آج کے جوانوں سے زیادہ طاقت ہے“۔ ”لگتا ہے آپ نے پرانے زمانے کا اصلی گھی کھایا ہے جبھی تو آپ کی ہڈیوں میں اتنی قوت ہے“۔(ہنستے ہوئے)”ہاں آپ کہہ سکتے ہیں“۔اتنے میں انھوں نے زور کی پیڈل ماری اور رکشہ فراٹے بھرنے لگا۔
آپ کا وطن کہاں ہے۔”ضلع پورنیہ، بہار۔“ کہاں رہتے ہیں؟ ”یہیں ذاکر نگر کی سات نمبر گلی میں۔“ اچھا! ہم چھ نمبر میں رہتے ہیں۔آپ اکیلے ہیں۔”نہیں پورا پریوار ہے۔ تین بیٹے ہیں۔ ان کا بھی پریوار ہے۔ دو بیٹے جاوید نہاری والے کے یہاں کاریگر ہیں، کھانا بناتے ہیں۔ بیس بیس ہزار روپے تنخواہ پاتے ہیں۔ تیسرا بیٹا بھی کچھ کرتا ہے۔ وہ بھی اٹھارہ بیس ہزار کما لیتا ہے۔“
ذاکر نگر کی جاوید نہاری کی دکان یہاں سے لے کر سعودی عرب تک مشہور ہے۔ اس کی ایک شاخ شاہین باغ میں بھی کھل گئی ہے۔ لوگ دور دور سے اس کی نہاری کھانے آتے ہیں۔ مصروف اوقات میں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ وہاں خاصی کشادہ جگہ ہے۔ اس سے مقابلہ کرنے کے لیے اس کے بالکل بالمقابل ایک بڑا سا ہوٹل کھل گیا اور وہاں درجنوں ڈشیں، جن میں کشمیری ڈشیں بھی تھیں، تیار کی جانے لگیں۔ لیکن جاوید نہاری کے سامنے اس کا چراغ نہیں جل سکا۔ بالآخر اس کے مالک نے وہ ہوٹل اِسی کو فروخت کر دیا۔ جب ہم 2018 میں عمرہ کرنے گئے اور واپسی پر جدہ ایئرپورٹ کے نزدیک کھانے پینے کے لیے ہماری بس رکی تو بس ڈرائیور ہم لوگوں کے پاس آگیا اور پوچھنے لگا کہ آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں۔ اس کو بتایا گیا کہ دلی سے۔ اس نے پوچھا دلی میں کہاں سے؟ تو ہمارے ایک ساتھی نے کہا شاہین باغ سے۔ وہ چونک گیا۔ کہنے لگا ارے وہی شاہین باغ جہاں جاوید نہاری کی دکان ہے؟ اس بار چونکنے کی باری ہماری تھی۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو۔ اس نے بتایا وہ راجستھان کا ہے اور شاہین باغ میں جاوید کی نہاری کھا چکا ہے۔
خیر ہم نے بڑے میاں سے گفتگو جاری رکھی۔ آپ کے تینوں بیٹے بیس بیس ہزار کما لیتے ہیں، آپ کتنا کماتے ہیں اور کیا رکشہ کرائے کا ہے یا اپنا ہے؟”رکشہ اپنا ہے۔ ہم روزانہ سات آٹھ سو کما لیتے ہیں“۔ یعنی آپ بھی کم از کم بیس ہزار روپے ماہانہ کما لیتے ہیں؟”جی ہاں اتنا تو کما ہی لیتے ہیں“۔ فلیٹ میں رہتے ہیں؟”جی ہاں! تین کمروں کا کرائے کا فلیٹ ہے۔ دس ہزار روپے ماہانہ کرایہ ہے“۔ پہلے کا لیا ہوا ہوگا ورنہ اب تو تین کمروں کا پندرہ ہزار سے کم میں نہیں ملتا۔”ہاں پہلے کا لیا ہوا ہے۔ پہلے تو نو ہزار ہی دیتے تھے۔ اب مالک مکان نے ایک ہزار بڑھا دیا۔ ہم نے بہار میں بڑا سا گھر بھی بنوا لیا ہے۔ پندرہ بائی پندرہ فٹ کے چار کمرے ہیں“۔
اتنے میں ہماری منزل آگئی اور ہم اتر گئے۔ ہم نے ان سے یہ بھی پوچھا تھا کہ آپ کی عمر ستر سے اوپر ہو چکی ہے، آپ کے بچے یہ نہیں کہتے کہ ابا اب آپ رکشہ نہ چلائیں، گھر پر رہیں آرام کریں۔ انھوں نے بتایا کہ بچے بہت منع کرتے ہیں لیکن ہم گھر پر بیٹھ نہیں سکتے۔ جس دن رکشہ نہیں چلاتے ہیں ٹانگوں میں درد ہوتا ہے۔ ہم زندگی بھر محنت کرتے آئے ہیں۔ اگر گھر پر بیٹھ گئے تو بیمار پڑ جائیں گے۔
ہم ان کی باتوں پر کافی دیر تک غور کرتے رہے۔ بالآخر اسی نتیجے پر پہنچے کہ محنت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ محنت کیسی بھی ہو، کسی بھی نوعیت کی ہو۔ جسمانی ہو یا دماغی و ذہنی۔ محنت کے بغیر ترقی نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ ہماری نگاہوں کے سامنے مسلم علاقوں میں بھیک مانگتے غول کے غول بھکاریوں کے مناظر گھومنے لگے۔ طرح طرح کی کیسٹیں بن گئی ہیں جنھیں ہاتھ گاڑی پر یا وھیل چیئر پر یا رکشہ پر سوار کوئی شخص بآواز بلند بجاتا ہے اور گلی کوچوں میں بھیک مانگتا رہتا ہے۔ ان میں سے کچھ حقیقی معذور ہوتے ہیں تو کچھ مصنوعی۔ بیشتر مسلمان ہوتے ہیں لیکن کچھ غیر مسلم بھی۔ مسجدوں کے سامنے ہر نماز کے وقت بھکاریوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ جمعہ کے دن تو غضب کا عالم ہوتا ہے۔ مسجد سے باہر نکلنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ بیشتر ہٹے کٹے تندرست ہوتے ہیں۔ رمضان میں تو اور بھی برا حال ہوتا ہے۔ اس پیشے کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ان بھکاریوں کی نکیل گینگسٹروں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ وہ دن بھر جو کماتے ہیں اس میں سے کچھ پیسے انھیں ملتے ہیں باقی گینگ چلانے والے لے جاتے ہیں۔ ان بھکاری مردوں اور عورتوں کی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو محنت مزدوری کرکے عزت کی روٹی کما سکتے ہیں۔ لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ ان کی عادتیں بگڑ گئی ہیں۔ ہمیں ایک میڈیکل اسٹور والے نے، جہاں کچھ فقیر دن بھر کی کمائی شام کو لے جا کر جمع کرتے ہیں، بتایا کہ کسی بھی فقیر کی آمدنی پچاس ہزار روپے ماہانہ سے کم نہیں ہے۔ اب بھلا بتائیے جب بغیر کچھ کیے صرف ہاتھ پھیلا کر کھڑے رہنے یا آواز لگانے سے پچاس ہزار روپے ماہانہ کی کمائی ہو تو وہ محنت مزدوری کرکے اس سے کم کیوں حاصل کریں۔
ہم تھوڑا وسیع تناظر میں سوچنے لگے اور اس پر غور کرنے لگے کہ کیا ہماری حکومتیں دوسری شکلوں میں مفت خوری کی حوصلہ افزائی نہیں کر رہی ہیں۔ دہلی کی عام آدمی پارٹی کی حکومت نے پیر کو اپنا بجٹ پیش کیا جس میں دہلی کی ہر بالغ عورت کو ایک ہزار روپے ماہانہ دیے جانے کا اعلان کیا گیا۔ البتہ پینشن یافتہ، سرکاری ملازم اور ٹیکس دہندہ خواتین کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اس اسکیم سے سرکاری خزانے پر کتنا بوجھ پڑے گا حساب کتاب لگانا مشکل ہے۔ دہلی حکومت کی جانب سے سرکاری بسوں میں خواتین کو مفت سفر کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ بس میں چڑھتے ہی کنڈکٹر انھیں گلابی رنگ کا کوپن دے دیتا ہے اور وہ اپنی ریزرو سیٹ پر بیٹھ کر تیس چالیس ہزار کے موبائل سے کھیلنے لگتی ہیں۔ ہمارے ایک انگریزی صحافی دوست نے حساب کتاب لگا کر بتایا کہ اس اسکیم سے حکومت کے خزانے پر کم از کم پچیس کروڑ روپے سالانہ کا بوجھ پڑ رہا ہے۔ ملکی سطح پر دیکھیں تو مرکزی حکومت 81 کروڑ 35 لاکھ افراد کو مفت اناج دے رہی ہے۔ ا س اسکیم کا نام ”پردھان منتری غریب کلیان انّ یوجنا“ ہے۔ اس میں اسی سال کے یکم جنوری سے پانچ سال تک کے لیے توسیع کر دی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی سماجی و فلاحی اسکیم ہے۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ اس اسکیم کی وجہ سے سرکاری خزانے پر کتنا بوجھ پڑ رہا ہے۔ گیارہ اعشاریہ اسّی لاکھ کروڑ روپے۔ کیا اتنے روپے تعلیم، صحت اور دیگر سہولتوں پر خرچ کرکے ان کی حالت کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا تھا۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت اس طرح عوام کو مفت خور بنا رہی ہے۔ اسے بے روزگاروں کو روزگار دینے کے بجائے مفت اناج دے کر ان کی محنت کرنے کی عادت ختم کر دے رہی اور انھیں کاہل بنا رہی ہے۔ تاکہ مفت اناج پانے والے حکومت پر منحصر رہیں۔ مبصرین اس قسم کی اسکیموں کو ووٹ حاصل کرنے کی اسکیم کہتے ہیں۔ یو پی اے حکومت میں غریبوں کے روزگار اور ان کی عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے منریگا اسکیم شروع کی گئی تھی جس کے تحت ہر غریب شخص کو سال میں سو دن کا روزگار دیا جاتا تھا تاکہ ان کی محنت کرنے کی عادت بھی بنی رہے، ان کا کام بھی چلتا رہے اور وہ مفت خور نہ بن جائیں۔ اس اسکیم کے تحت گاؤں دیہات میں کچی سڑکیں بنائی جاتیں تاکہ چھوٹے چھوٹے مواضعات ایک دوسرے سے جڑ جائیں اور تالاب وغیرہ کی کھدائی ہوتی تھی۔ کھیتوں کے درمیان کھڑنجہ بھی بچھایا جاتا تھا۔ لیکن اب منریگا اسکیم کا کیا حال ہے کچھ معلوم نہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ حکومتیں خواہ وہ مرکزی ہوں یا ریاستی، مفت اسکیمیں چلانے کے بجائے روزگار فراہم کرتیں، وہ چھوٹا موٹا ہی کیوں نہ ہو۔ کیا ہمارے حکمراں اس پہلو پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔
موبائل: 9818195929

Related posts

یہ آزمائشیں کیوں…؟

Siyasi Manzar

شیطان کا خط قوم مسلم کے نام !

Siyasi Manzar

لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے پدرانہ معاشرے کا رویہ کب بدلے گا؟

Siyasi Manzar

Leave a Comment