Siyasi Manzar
راجدھانی

میر ؔو غالبؔ کے یہاں جو دردو غم ہے وہ اُس عہد کا آشوب زائیدہ ہے : پروفیسر انو ر پاشا

 تحقیقی و تنقیدی اجلاس میں دائیں سے ڈاکٹر جاوید حسن، پروفیسر خالد اشرف، پروفیسر قاضی عبیدالرحمن ہاشمی اور پروفیسر انور پاشا

دہلی کے بزرگ اورجواں عمر قلمکاروں کا پانچ روزہ ادبی اجتما ع جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جاری
نئی دہلی،(پریس ریلیز) جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سی آئی ٹی میںچار دن سے لگاتا ر جاری ’’ نئے پرانے چراغ ‘‘ کا نوا ں اجلاس صبح دس بجے سے ایف ٹی کے کے سمینا ر ہال میں منعقد ہوا۔ یہ اجلاس تحقیقی و تنقید ی تھا ، جس کی صدرا ت پر وفیسرقاضی عبیدالرحمن ہاشمی ، پروفیسر انور پاشا اور پروفیسر خالد اشرف نے کی ۔ صدارتی خطاب میں پروفیسرانور پاشا نے فرمایا کہ سمینار اور مشاعر ے دونوں ادب کے پرفارمنگ آرٹ کے زمرے میں آتے ہیں ۔یہ خوبصورت اور معروضی ترسیل کا ایک آرٹ ہے جس میں سب سے اہم کردار لب و لہجہ اور تلفظ ادا کرتا ہے ، اگر ایسی غلطیاں اپنی مادری زبان میں ہورہی ہیں تو وہ قابل سرزنش ہے ۔اسی ضمن میں انہوں نے کہا کہ زبان کی تہہ تک رسائی حاصل کر نا ادیب کے لیے ضروری ہے ۔ موضوعات کے تعلق سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی مضمون میں بات پر بات کرنے سے بات نہیں بنتی ہے بلکہ نئی پیش کش سے بات بنے گی ۔میر و غالب کی قنوطیت کے حوالے سے فرمایا کہ میر و غالب کے یہاں جو درد و غم ہے وہ اُس وقت کا آشوب زائیدہ ہے ۔ترقی پسند تحریک پر ان کے چند ومتفرق خیالات کچھ اس طرح تھے کہ تر قی پسند مارکسزم سے مستعار نہیں بلکہ یہ زندگی کا رویہ ہے ، ترقی پسند مذہب بیزار ی کا نام نہیں بلکہ مذہب ایک ایسی طاقت کا نام ہے جو کمزو ر سے کمزور لمحہ میں بھی فرد کو جینے کی طاقت فراہم کرتا ہے ۔ ترقی پسند کی طرح سرسید تحریک آج بھی زندہ ہے اور آ ج بھی اپنے مقاصد پر کام کررہی ہے ۔

تخلیقی اجلاس میں دائیں سے ڈاکٹر شاہنواز فیاض، پروفیسر ندیم احمد، پروفیسر شاہینہ تبسم اور پروفیسر جی۔آر۔ سید

اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر خالد اشرف نے کہا کہ زبان اکادمیوں اور اداروں سے نہیں چلتی ہے بلکہ گلیوں اور بازاروں سے چلتی ہے ۔یونی ورسٹیوں میں زبان نہیں بلکہ ادب پڑھایا جاتا ہے ، زبان تو اسکولوں میں ہی پڑھا دی جاتی ہے اور اسکولوں میں اردو کا جو معاملہ ہے وہ آپ بخوبی جانتے ہیں ۔ مزید گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرو غالب غربت کے شکار نہیں تھے بلکہ وہ نوابوں کی طرح زندگی گزرانے کے خواہشمند تھے ۔ پروفیسر قاضی عبدالرحمان ہاشمی نے تما م مقالوں پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی محنت کوسرا ہا ۔
اس اجلاس میں تو حید حقانی نے ’’ تر قی پسند تحریک او ر اردو تنقید‘‘ محمد عبدالقادر نے ’’ اردو کی قدیم نثر گلشن ہند کے آئینے میں‘‘ آصفہ زینب نے ’’ میر کی شاعری اپنے عہد کی ترجمان‘‘ محمد نے ’’ اشتراکی نظریات کا علمبردار قمر رئیس ‘‘ صدف نایا ب نے ’’ میر کی سوانح اور ان کی شاعری کی چند بنیادی خصوصیات ‘‘ امام الدین نے ’’ میر تقی میر کی قنوطیت اور غربت کا قضیہ ‘‘ عبدالرزاق نے ’’ باغ و بہار بحیثیت نثر ‘‘ اور تبسم ہاشمی نے ’’ میر تقی میر شخصیت اور شاعر ی ‘‘ کے عنوانات سے اپنے مقالے پیش کیے ۔ ا س پر وگر ام کی نظامت کے فرائض جامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاد ڈاکٹر جاوید حسن نے بحسن وخوبی ادا کیا ۔
ظہرانے کے بعد اس پانچ روزہ پروگرام کا تخلیقی اجلاس منعقد ہوا ، جس کی صدارت مشہور فکشن نگار پروفیسر جی آر سید ، پروفیسرندیم احمد اور پروفیسر شاہینہ تبسم نے اور نظامت ڈاکٹر شاہنواز ہاشمی نے کی ۔صدارتی خطاب میں پروفیسر غیاث الرحمن سید نے افسانہ کے فن پر بات کرتے ہوئے فرمایا کہ افسانے میں کرداروں کی سہی عکاسی اور جزئیات نگاری اس انداز میں پیش کریں کہ سامعین اورقاری کو یہ لگے کہ وہ افسانے کا قاری اور سامع نہیں بلکہ وہ کہانی دیکھ رہے ہیں ۔ نیز افسانہ میں کیا نہیں کہنا چاہیے اس پر توجہ دینی چاہیے ۔ مزید فرمایا کہ علاقائی زبان کہیں افسانے کوبہتر کرتا ہے تو کہیں بوجھل کردیتا ہے ۔ پروفیسر ندیم احمد اور پرفیسر شاہینہ تبسم نے بھی تخلیقات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افسانے ، انشائیے اور خاکے عمدہ سے عمدہ تر سننے کو ملے اس سے مستقبل میں اردو کی ضمانت کا اشارہ ملتا ہے۔ اس تخلیقی اجلاس میں شمع افروز زیدی نے خاکہ ’’ انور نزہت ‘‘ ترنم جہاں شبنم نے ’’ تاج محل کی نیلامی ‘‘ انوارالحق نے ’’ مسٹر حضرت‘‘ محمد مستمر نے انشائیہ ’’ چٹنی ‘‘ شاہد اقبال نے ’’ چیخ ‘‘ نازیہ دانش نے ’’ شخص ‘‘ مصطفی علی نے ’’ جھپکی میں جنت ‘‘ زیبا خان نے ’’ باڑھ کھاگئی کھیت ‘‘ عبدالحسیب نے انشائیہ ’’ صحرا میں پانی کی تلاش ‘‘ ڈاکٹر شعیب رضا خاںوارثی نے انشائیہ ’’کل آج اور کل ‘‘ تفسیر حسین خاں نے ’’ بھینس کی لاج ‘‘ ثاقب فریدی نے ’’ میں جاگ رہا ہوں ‘‘ پیش کیا ۔
چوتھے دن کاگیارہواں اجلا س محفل و شعر سخن کے عنوان سے انجینئرنگ فیکلٹی کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا جس کی صدرات معتبر استاد و شاعر پرو فیسر شہپر رسول نے کی جبکہ نظامت کے فرائض جناب پیمبر عباس نقوی نے انجام دیے ۔
پرو گروام میں بطور خاص پر وفیسر احمد محفوظ، پروفیسر شاہ عالم، ڈاکٹر شعیب رضا فاطمی ، متین امروہوی، ڈاکٹر مشیر احمد ، ڈاکٹر تنویر حسین ،ڈاکٹر جاوید حسن،ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی ،ڈاکٹر شہنواز فیاض ، ڈاکٹر نوشاد منظر ، ڈاکٹر امیر حمزہ، ڈاکٹر راحین شمع ، ڈاکٹر خوشتر زریں ودیگر اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی ۔

Related posts

مرکزی بی جے پی حکومت کے اقتدار کی بھوک نے آج جموں کشمیر کو تباہ کردیا ہے

Siyasi Manzar

دہلی یونیورسٹی نے کیا ونٹر وکیشن کا اعلان Delhi University announced winter vacation

Siyasi Manzar

دہلی شراب پالیسی معاملے میں آخر کار کیجریوال گرفتار

Siyasi Manzar

Leave a Comment