Siyasi Manzar
قومی خبریں

قرآن کریم کے آفاقی پیغام کو پوری دنیا کو پہونچانا ہم سب کی ذمہ داری:مولانا انیس الرحمن قاسمی

قرآن کریم کے ہندوستانی تراجم و تفاسیر پر آل انڈیا ملی کونسل اور ابو الکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے سیمینار کا انعقاد
خانقاہ مجیبیہ کے زیب سجادہ حضرت مولانا سید آیت اللہ قادری اور آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے صدر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا تہنیتی پیغام

پٹنہ 5نومبر(پریس ریلیز) آل انڈیا ملی کونسل بہار اور ابو الکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام’’قرآن کریم کے ہندوستانی تراجم و تفاسیر‘‘ پر کل ہند سیمینار حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب قومی نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل و صدرابو الکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کی صدارت میں آج مورخہ 5نومبر 2023روز اتوار کوبہار اردو اکیڈمی پٹنہ میںبحسن و خوبی منعقد ہوا۔جس میں بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈکے علاوہ ملک کی مختلف ریاستوں سے اہل قلم مقالہ نگاروں ، علماء کرام اور دانشوران نے شرکت کی ۔اپنے صدارتی خطاب میں حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے فرمایا کہقرآن کریم صرف ایک مذہبی کتاب کی حیثیت نہیں رکھتی،جس کے ہر لفظ کی تلاوت پر دس نیکیاں مرتب ہوتی ہیں اور جو اسلامی احکامات و قوانین کی بنیادہے؛بلکہ اس میں قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے ایک نمونۂ عمل اور راہ ہدایت ہے ، دنیا کے مختلف شعبہائے حیات پر قرآن کریم نے اپنے اثرات مرتب کیے ہیں، اگر کوئی شخص غیر جانب دار ہو کر قرآن کریم کا مطالعہ کرے تو اس کو یہ یقین کرنے میں دیر نہیں لگے گی کہ در حقیقت یہ ایک معجزہ ٔ الٰہی ہے ، اور کائنات کے کتنے پنہاں رازوں کو وا کر رہی ہے ۔

ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ قرآن کریم محض کتاب تلاوت یا حصول برکت کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ کتاب ہدایت بھی ہے جس سے زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں، قرآن کریم کی اسی آفاقیت کی بنا پر دور صحابہ سے ہی جیسے جیسے اسلا م کی رسائی وادی فاران سے نکل کربلاد عالم میں ہونے لگی ، قرآن کریم کے پیغامات کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے عربی کے علاوہ دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے ترجمہ اور تفسیر کی روایت قائم ہوئی ۔ انہو ں نے سیمینار کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس سیمینار کا اہم مقصد یہ ہے کہ ہمارے اندر قرآن کریم کی تعلیم اور اس کی ترویج و اشاعت کا جذبہ پیدا ہو اور ہم قرآن کریم کے آفاقی پیغام کو پوری دنیا تک پہونچانے کا عزم کریں ۔آل انڈیا ملی کونسل بہار کے صدر حضرت مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمن قاسمی صاحب نے تفسیر ماجدی کی خصوصیات و امتیازات پر اپنا وقیع مقالہ پیش کیا۔ ملی کونسل بہار کے نائب صدر اور تفسیر تسہیل القرآن کے مصنف حضرت مولانا ڈاکٹر ابو الکلام قاسمی شمسی نے ترجمہ قرآن کے میدان میں آنے والی دشواریوں اور ترجمہ قرآن کے لیے ضروری صلاحیتوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر لکھنا کوئی معمولی کام نہیں ہے بلکہ اکابر علماء سلف نے لکھا ہے کہ اس کے لیے عربی ادب، صرف و نحو، اصول تفسیر، حدیث و اصول حدیث، فقہ و اصول فقہ،لغت، تاریخ، جغرافیہ، علم بلاغت، کلام، معانی سمیت درجنوں علوم و فنون میں مہارت کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اس لیے قرآن کریم کے کسی بھی ترجمہ یا تفسیر کو پڑھنے سے پہلے مترجم ومفسر کو اس کسوٹی پر پرکھنا بھی ضروری ہے ۔ انہوں نے تسہیل القرآن کا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ اللہ کے کلام کا ترجمہ کوئی نہیں کر سکتا میں نے بھی ترجمانی کی کوشش کی ہے ، کافی محنت اور غور فکر کے بعد میں نے یہ کام انجام دیا ہے ،ترجمہ میں اپنی جانب سے کچھ نہیں کیا ہے بلکہ مطالعہ اور تحقیق کی روشنی میں جو مناسب ترجمہ ہو سکتا ہے وہ کیا ہے۔ حضرت مولانا مشہود احمد قادری صاحب پرنسپل مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیمیینار وقت کی اہم ضرورت ہے ، اس سے نئی نسل میں قرآن فہمی کا ذوق پیدا ہو گا اور قرآن کریم پر مختلف پہلوؤں سے ریسرچ اور تحقیق کا نیا با ب کھلے گا۔انہوں نے اس سیمینار کے مثبت اور دیر پا اثرات کی امید ظاہر کی۔ جماعت اسلامی کے امیرحلقہ بہار مولانا رضوان احمد اصلاحی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم ہمارا دستور ہے، اس کتاب الٰہی پر ہم سب کا ایمان ہے، لیکن اس کے باوجود عام طورپر قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش نہیں کی جاسکتی ہے، یہ سیمیناران شاء اللہ اس طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرائے گا اورقرآن کریم کے تراجم وتفاسیر سے لوگ آشنا ہو سکیں گے، ضرورت ہے کہ اس طرح کے سیمینار مختلف مقامات پر کیے جائیں، اس سے ان شاء اللہ سمجھ کر قرآن کوپڑھنے کارواج بڑھے گا اورلوگ ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھنے کی طرف راغب ہوں گے۔
مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی صاحب نے تسہیل القرآن (مولانا ابو الکلام قاسمی شمسی) کی خصوصیات و امتیازات پر روشنی ڈالی ، نیز انہوں نے خطبہ استقبالیہ بھی پیش کیا،جس میں انہوں نے تمام مندوبین و مقالہ نگاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کے اس اہم علمی تحقیقی باوقارسمینار ’’قرآن پاک کے ہندوستانی تراجم وتفاسیرکے اہم موضوع پرمنعقدہورہاہے۔جس کی نسبت کلام الہیٰ سے ہے اُس کی عظمت کی بنیاد پراس سے منسوب ہرچیز متبرک ومقدس بن جاتی ہے۔ اس میںشریک ہونے والے تمام حضرات علماء کرام، مندوبین، کارکنان وتمام سامعین کاپٹنہ کی تاریخی سرزمین پرصمیم قلب سے استقبال اورخیرمقدم کرتے ہیں۔بلاشبہ آپ سب کایہاں آنافال نیک اوریادگارلمحہ ہوگا۔ملک کے مشہور عالم دین اور محقق مولانا اختر امام عادل صاحب نے حضرت تھانویؒ کی تفسیر بیان القرآن کی خصوصیات و امتیازات پر اپنا بیش قیمت مقالہ پیش کیا۔آل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدر اور شیعہ عالم دین مولانا سید امانت حسین صاحب نے اہل تشیع کی تفسیری خدمات پر مقالہ پیش کیا،امارت شرعیہ کے سابق صدر مفتی اور معروف عالم دین حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی کا مقالہ بھی بیان القرآن (حضرت تھانویؒ )کی خصوصیات و امتیاز پر بہت ہی معلومات افزاء تھا۔مولانا عبد الباسط ندوی سکریٹری المعہد العالی امارت شرعیہ کا مقالہ تفسیر معارف القرآن(مفتی شفیع عثمانیؒ ) خصوصیات و امتیازات المعہد العالی کے استاذ مولانا مفتی روح الامین قاسمی صاحب نے پیش کیا، جبکہ امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب کا مقالہ حضرت مولانا ادریس کاندھلوی ؒ کی تفسیر معارف القرآن ان کے صاحبزادے مولانا مفتی نظر الہدیٰ قاسمی صاحب نے پیش کیا۔
اس سیمینار کا آغا ز مولانا ذیشان الاسلام ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا،جب کہ بارگاہ نبوی میں نعت شریف کا نذرانہ مولانا جمال الدین قاسمی صاحب نے پیش کیا،اجلاس کی نظامت کے فرائض آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزار جنرل سکریٹری مولانا محمد نافع عارفی صاحب اور مولانا ڈاکٹر نور السلام ندوی صاحب نے مشترکہ طور پر نظامت کے فرائض انجام دیے۔سیمینار میں خانقاہ مجیبیہ کے سجادہ نشیں حضرت مولانا سید شاہ آیت اللہ قادری مجیبی کا پیغام ان کے نمائندہ مولانا رمضان علی قادری مجیبی نے پڑھ کر سنایا،آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالم صاحب کا پیغام ڈاکٹر نورالسلام ندوی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کا پیغام مولانا سید محمد عادل فریدی نے پڑھ کر سنایا۔ آل انڈیا ملی کونسل بہار کے جوائنٹ جنرل سکریٹری مولانامحمد ابو الکلام شمسی صاحب نے سیمینار میں مرتب دس نکاتی تجاویز پڑھ کر سنایا جس کو تمام شرکاء نے ہاتھ اٹھا کر باتفاق منظور کیا۔اس موقعہ پرعارف باللہ قطب ارشاد حضرت مولانا عارف صاحب ہر سنگھ پوری کی سیرت و خدمات پر مولانا حکیم عبد المنان صدیقی صاحب ؒ کی وقیع تصنیف جو مولانا مفتی محمد نافع عارف کی تحقیق و ترتیب کے ساتھ شائع ہوئی ہے اس کا رسم اجراء بھی علماء کرام کے ہاتھوں ہوا۔ جن مقالہ نگارو ں نے اپنے مقالات پیش کیے ا ن میں ڈاکٹر سرور عالم ندوی صدر شعبہ عربی پٹنہ یونیورسٹی ، پروفیسر رام پریہ شرما ، مولانا نافع عارفی ندوی، مولانا ڈاکٹر نورالسلام ندوی، مولانا خالد ضیاء صدیقی ، مولانا ڈاکٹرسجاد ندوی، مولانا ڈاکٹر امیر حمزہ دہلی، مولانا مجتبی قاسمی امروہہ، مولانا ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی پروفیسررام لکھن سنگھ کالج بتیا، مولانا عمر فاروق کاشف قاسمی پورنیہ،مولانا رحمت اللہ عارفی ندوی سمستی پور، مولاناسید محمد عادل فریدی، مولانا زاہد قاسمی، مولانا نفیس قاسمی، مولانا فردوس حلیمی بھاگل پور، مولانا امداد اللہ قاسمی بیگو سرائے ،مولانا ڈاکٹر رضوان قاسمی دربھنگہ ، مولانا مفتی فخر عالم کے مقالات قابل ذکر تھے۔ آخر میں صدر مجلس کی دعا پر سیمینار کا اختتام ہوا۔ پروگرام میں شریک ہونے والوں میں جناب نجم الحسن نجمی، جناب نقیب احمد صاحب، جناب ڈاکٹر ارشد محسن صاحب،جناب پروفیسر شمس الحسین صاحب، جناب سلام الحق صاحب، جناب صدر عالم ندوی صاحب، جناب مولانا ڈاکٹر شاہد وصی قاسمی،مولانا دانش قاسمی،جناب انجینئر جمیل صاحب ، جناب انجینئر ارشد عالم صاحب ،جناب ماسٹر محمد صابر صاحب ہولی ویزن اسکول سمن پورہ، مولانا عبد المجید اسحاق قاسمی، جناب نوشاد صاحب پٹنہ، کریم صدیقی صاحب،مولانا شافع عارفی قاسمی دربھنگہ، عتیق الرحمن شعبان، پندار، مولانا سعد احمد قاسمی کے نام اہم ہیں ۔ سیمینار کو کامیاب اور با مقصد بنانے میں مولانا رضاء اللہ قاسمی، مولانا نسیم احمد مولانا ابو نصر ہاشم ، مولانا فیضان قاسمی، مولانا جمال الدین قاسمی، مولانا نور عالم رحمانی اورمولانا قاسم مبلغین آل انڈیا ملی کونسل ، ڈاکٹر سہیل احمد ، محفوظ الرحمن، صہیب رحمانی مظفر پورکے علاوہ آل انڈیا ملی کونسل اور ابو الکلا م ریسرچ فاؤنڈیشن کے ذمہ داران ، کارکنان اور رضاکاران نے اہم رول ادا کیا۔

علماء کرام ، ارباب وفقہ و فتاویٰ ، سپریم کورٹ ، متعدد ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں کے ماہر وکلاء ، ڈسٹرکٹ جج، بار ایسوسی ایشن کے ذمہ داران و ارکا ن نے شرکت کی ۔اس افتتاحی نشست کے صدارتی خطاب میں امیر شریعت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے امارت شرعیہ کی مختلف خدما ت کا تفصیل سے ذکر کیا، خاص طور پر آپ نے دارا لقضاء کے ذریعہ وسیع پیمانے پر جو خدمات انجام دی جا رہی ہیں ان پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ کا کام پوری دنیا کے جوڈیشری سسٹم کے لیے مثالی ہے ۔ستر فیصد سے زیادہ معاملات یہاں ایک مہینے کے اندر میں حل ہو جاتے ہیں ، پوری دنیا میں ا س کی مثال موجود نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ امارت شرعیہ صرف مسلمانوں کے لیے کام نہیں کرتی بلکہ خدمت انسانی اور تعلیم کے میدان میں بلا تفریق مذہب و ملت پورے سماج کے لیے کام کرتی ہے ۔ ابھی حالیہ دنوں میں سی بی ایس ای طرز کے چھ نئے اسکول کی داغ بیل ڈالی گئی ، جس میں ہر طبقہ کے بچوں اور بچیوں کو معیاری تعلیم سے آراستہ کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے اپنے خطاب کے دوران اسلامی نظام قضاء پر پر بعض سوالات کا بہت خوبصورتی کے ساتھ علمی انداز میں مثالوںکے ذریعہ تشفی بخش جواب دیا، خاص طور پر نکاح کی عمر کے سلسلہ میں بین الاقوامی قوانین اور دنیا کے معروف مذاہب کے قوانین کے حوالہ سے مدلل جواب دیا اور اسلامی نکتہ نظر کی وضاحت فرمائی ۔فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے کلیدی خطبہ میں شرعی قوانین کی حکمتوں اور نزاکتوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی قانون کی بنیاد عدل پر قائم ہے ،اور دوسری بنیاد انسانیت کو نقصان سے بچانا ہے ۔ اور عدل کبھی مساوات کے ذریعہ ہوتا ہے تو کبھی اس کے لیے ذمہ داریوں کی بنیاد پر حقوق میں فرق بھی کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے عورتوں کے مالی حقوق پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور فرمایا کہ بعض مراحل میں مردوں اور عورتوں کی وراثت مالی منفعت برابر ہو جاتی ہے ، بلکہ بعض ایسے حالات بھی ہیں جن میں خواتین کو زیادہ حق ملتا ہے ۔اسلا م کے اسی نظام عدل کی بنیاد پر ہندو کوڈ ایکٹ میں طلاق و وراثت کے نظام کو اسلامی قانون سے اخذ کیا گیا۔ انہوں نے طلاق ، خلع، طلاق مباراۃ، طلاق تفویض، طلاق بائن اور فسخ نکاح سے متعلق اسلامی قانون کو تفصیل سمجھایا۔نائب امیر شریعت حضرت مولانامحمد شمشادرحمانی قاسمی صاحب نے استقبالیہ کلمات میں مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے فرمایا کہ قضاۃ اور وکلاء کے درمیان تفہیم شریعت کا یہ مذاکرہ سنگ میل ثابت ہو گا اور اس سے پوری ملت کو روشنی ملے گی ۔انہوں نے امارت شرعیہ کے نظام قضاء کی خدمات اور امتیازی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان رضامندی سے بہت سے معاملات ایک سے دو دنوںمیں ہی حل ہو جاتے ہیں ، جب کہ دوسری جگہوں پر طویل عرصہ درکار ہو تا ہے ۔ آپ نے اس موقع پر امارت شرعیہ کے تعلیمی و دعوتی نظام پر بھی روشنی ڈالی ۔ سیمینار کے مہمان خصوصی اور سپریم کورٹ آف انڈیا کے سینیئر ایڈووکیٹ نے مسلم پرسنل لا سے متعلق تین ایکٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دار القضاء کا نظام آربٹریشن ایکٹ کے دائرے میں آتا ہے ، اسکے ذریعہ قانونی اعتبار سے نجی تنازعات کے تصفیہ کی قاضی کو اختیارات حاصل ہیں اور ان بنیادوں پر قاضی کے ذریعہ جو کارروائی ہو گی ، اس کو کورٹ بھی تسلیم کرے گا۔ اس حیثیت سے اگر غور کیا جائے تو دار القضاء عدالتوں اور پبلک اتھارٹی پر پڑنے والے بوجھ کو کم کر رہا ہے ۔جناب ایم آر شمشاد صاحب نے مسلم پرسنل لا اور ہندوستانی قانون کا تقابلی مطالعہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کے سامنے مسلم پرسنل لا کے تعلق سے بعض ایسے مواد ہیں جن سے غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے اور عدالتوں کے تبصرے شرعی قانون کے خلاف ہو جاتے ہیں ، اس سلسلہ میں انہوں نے حجاب اور جلباب کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے اسلامی قوانین کی غلط ترجمانی اور من مانی تعبیر و تشریح کی وجہ سے اس سلسلہ میں عدالت کا قابل اعتراض تبصرہ سامنے آیا ۔قاضی شریعت مرکزی دار القضاء امارت شرعیہ مولانا محمد انظار عالم قاسمی صاحب نے سیمینار کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ دار القضاء کے قاضیوں کے سامنے کچھ ایسے مسائل آتے ہیں ، جنہیں آئینی طور پر حل کرنے کے لیے وکلاء حضرات سے مشورہ کی ضرورت پڑتی ہے ، آج کا اجلاس انہیں حل طلب مسائل کے حل کے لیے منعقد ہوا ہے ۔ انہوں نے دار القضاء کے ذریعہ ہورہی کارروائیوں کی تفصیل اور طریقہ کاربھی بیان کیا۔ اس موقع پر انہوں نے شرکاء کے سامنے کچھ سوالات بھی پیش کیے ۔جس پر وکلاء حضرات نے قانونی اعتبار سے اپنی رائے پیش کی ۔ رانچی ہائی کورٹ کے سینیئر وکیل جناب ایڈووکیٹ عبد العلام صاحب نے کہا کہ عائلی تنازعات کی بنیاد ہمارے معاشرے کی بے راہ روی ہے ، جب تک اصلاح معاشرہ کی تحریک کو تیز نہیں کیا جائے گا ، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے تجربات کی روشنی میں چند مسائل کا تذکرہ بھی کیا۔ ڈسٹرکٹ جج جمشید پور جناب انل کمار مشرا نے کہا کہ کوئی بھی قانون دشواریوں کو دور کرنے کے لیے ہی بنایا جاتا ہے ، تاکہ مظلوموں کو انصاف مل سکے، مجھے یہاں آکر بہت مسرت ہوئی اور بہت کچھ استفادہ کا موقع ملا۔بار ایسوسی ایشن کے صدر لالہ اجیت کمار ابسٹا نے کہا کہ قانون کا مقصد انصاف دلانا یت اور انسانیت کی مدد کرنی ہے ، تاکہ ہر ایک کو سماج میں پھلنے پھولنے کا موقع مل سکے۔سارے مذاہب قابل احترا م ہیں پر آدمی کو اپنے گھر کو ٹھیک رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے، مجلس استقبالیہ کے چیر میں جناب ریاض شریف صاحب نے تمام مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگو ں نے ہمیں خدمت کا موقع دیا اس کے لیے ہم سب شکر گزا ر ہیں ، مولانا مفتی وصی احمد قاسمی صاحب نے نظام قضاء سے متعلق چند چیزوں کی وضاحت کی ۔پہلی نشست کی نظامت مولانا مفتی محمد سہرا ب ندوی صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ نے کی اور کہا کہ امارت شرعیہ کے میدان کار پانچ ہیں ، سماجی اتحاد، سماجی انصاف ، سماجی اصلاح ، تعلیم کا فروغ اور انسانی خدمت ۔دوسری نشست کی نظامت ڈاکٹر ذکی اختر صاحب نے کی انہوں نے ابتدائی گفتگو میں پروگرام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی اور امارت شرعیہ معاشرہ کی اصلاح میں جو خدمات ہیں ان کو بیان کیا، انہوں نے اسلامی قانون کی خوبیوں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی قانون کو قرآن و حدیث او نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے سمجھنا چاہئے۔ پروگرام کا آغاز جناب مولانا قاری اطہر غزالی صاحب قاسمی امام و خطیب جامع مسجد جمشید پور کی تلاوت سے ہوا۔اظہار تشکر جناب زید صاحب ایڈووکیٹ رانچی ہائی کورٹ نے پیش کیا۔اجلاس کے کنوینر جناب مولانا سعود قاسمی قاضی شریعت جمشید پور اور ان کے رفقاء کے علاقہ استقبالیہ کمیٹی کے ذمہ داران حاجی شفیع احمد ، ریاض شریف، مولانا مفتی نشاط احمد، حافظ آفاق احمد،حافظ ذوالفقار و دیگر و ارکان نے اجلاس کو کامیاب و با مقصد بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ان دونوں نشستوں میں شریک ہونے والوں میں حضرت مولانا عتیق احمد بستوی کنوینر دار القضاء کمیٹی مسلم پرسنل لا بورڈ،، مولانا مفتی احمد دیولوی،مولانا صغیر احمد رشادی امیر شریعت کرناٹک، جناب مولانا فریدا لدین صاحب ناظم امارت شرعیہ آسام، جناب مولانا محمد شبلی القاسمی قائم مقام ناظم امارت شرعیہ، جمشید پور فیملی کورٹ کے جج جناب کمل چوپڑا،جناب ذاکر بلیغ ایڈووکیٹ ، جناب الحاج احسان الحق صاحب، جناب سید حامد ولی فہد رحمانی صاحب، ماسٹر انوار احمد صاحب، مولانا نور الحق رحمانی استا ذ المعہد العالی امارت شرعیہ ، مفتی زاہد قاسمی اڈیشہ ، مفتی اظہر قاسمی جامعہ رحمانی مونگیر ، مفتی ریاض قاسمی جامعہ رحمانی مونگیر، مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی مفتی امارت شرعیہ ، مولانا سہیل احمد ندوی، مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، مولانا عبد الباسط ندوی ، مولانا ذکاء اللہ اندور ، مولانا تبریز قاسمی دہلی ، مولانا مفتی زاہد قاسمی بڑبل ، مولانا رضوان ندوی ،مولانا سہیل اختر قاسمی ، مولانامفتی مجیب الرحمن قاسمی ، مولانا امتیاز قاسمی، قاضی محمد انور قاسمی رانچی،مولانا ضمیر قاسمی ، مولانا ارشد قاسمی، مولانا مفتی ظفر صاحب راور کیلا، مولانا زکریا صاحب گوا، مولانا قاری عبد اللہ صاحب پونے، مولانا عبد اللہ صاحب تھانے مہاراشٹرا، مولانا بسم اللہ ڈابھیل گجرات، مولانا نعیم صاحب احمد آباد ، مولانا قاضی کامل صاحب دہلی ، مولانا عبد الرحمن قاسمی دلدار نگر ،مولانا طاہر صاحب پونے ، مولانا شمشاد ندوی صاحب جے پور راجستھان، مولانا ظہیر الدین صاحب میوات ،مفتی یحیٰ معین قاسمی ممبئی ، مولانا سہیل احمد قاسمی بھلائی ،چھتیس گڑھ، مولانا ذوالقرنین صاحب چھتیس گڑھ،مولانا عاشق الٰہی ہریانہ، مولانا زبیر صاحب آسنسول ، قاری داؤد عرفانی آسنسول، مفتی اشرف مہاراشٹر، مفتی محی الدین مہاراشٹرجناب خلیل اللہ صاحب پونے، مفتی سیف اللہ الٰہ آباد، مولانا فلاح الدین قاسمی، مولانا قاضی عمران صاحب بالا ساتھ، مولانا احسان الحق قاسمی، مولانا خورشید صاحب بھاگل پور ،مولانا ثناء اللہ قاسمی ہزاری باغ ، مفتی نسیم احمد کوڈرما، مولانا عمر فارو ق لوہر دگا،مولانا مفتی شاہد قاسمی دھنباد،مولانا سعید اسعد قاسمی آسنسول، مولانا صبغۃ اللہ قاسمی کٹک، مولانا عبد الودود قاسمی راور کیلا، مفتی فخر الدین پرولیا،قاضی نظام الدین جامتاڑا، مولانا عبد الباسط ایٹا ہار ،مولانا اعجا ز قاسمی دملہ، مولانا شمیم اکر م قاسمی ،قاضی ارشد صاحب پورنیہ، مولانا رضی احمد مونگیر،مولانا اعجاز احمد صاحب سابق چیر مین مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، پٹنہ، مولانا احمد حسین قاسمی مدنی ،مولانا وسیم اختر گیا، مولانا مختار صاحب سمڈیگا،مولانا امان اللہ قاسمی سمستی پور،مولانا کلیم اللہ مظہر چتر پور، مولانا سید طاہر صاحب بوکارو، مولانا ابو الکلام شمسی، مولانا افروز سلیمی جمشید پور ، مولانا سراج الدین صاحب گڈا، مولانا یونس بانکا،مولانا شکیل قاسمی روہتاس،مولانا ارشد قاسمی گوگری، مولانا صابرحسین قاسمی ، مولانا ذیشان قاسمی، مولانا مجیب الرحمن قاسمی دربھنگہ ، حافظ احتشام رحمانی ،مولانا راشد العزیری قاسمی، مولانا راشد انور،مولانا مفتی ریاض احمد موتیہاری، مولانا اطہر جاوید ڈھاکہ،مولانا عطا اء الرحمن بھوپال،مولانا روح الامین قاسمی ، مولانا طارق رحمانی ،مولانا اشتیاق صاحب بسوریا، کے علاوہ علماء و مشاہیر، قضاۃ کرام اور ارباب فقہ و فتاویٰ ،وکلاء، دانشوران کی بڑی تعداد ان نشستوں میں شریک رہی ۔ خبر لکھے جانے تک اجلاس کی تیسری نشست رائل گارڈن ذاکر نگر میں جاری ہے ۔ یہ خبر جمشید پور سے مولانا سید محمد عادل فریدی صاحب نے دی ہے ۔

Related posts

مدارس کے 17 لاکھ طلبا کو ملی ’سپریم‘ راحت

Siyasi Manzar

مذاہب فقہیہ اور محققین اہل علم کے نزدیک اسلام میں قبروں کو پختہ بنانا ناپسندیدہ عمل :عبدالحکیم مدنی

Siyasi Manzar

مولانا ابو الکلام آزاد مذہبی امور کے ماہرہونے کے ساتھ ہی سیکولر بھی تھے: ڈاکٹر اکھلیش Maulana Abul Kalam Azad

Siyasi Manzar

Leave a Comment