Siyasi Manzar
علاقائی خبریں

فروغ اردو کے لیے اردو اکیڈیمی کی اسکیمات پر موثر عمل آوری ناگزیر

آل انڈیا دلت مسلم او بی سی ویلفیر اسوسی ایشن کے قومی نائب صدر محمد رفیق کی ریاستی حکومت سے اپیل
حیدرآباد۔ (پریس ریلیز) آل انڈیا دلت مسلم او بی سی ویلفیر اسوسی ایشن کے قومی نائب صدرمحمد رفیق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فروری کے مہینے میں یوم مادری زبان منایا جاتا ہے۔ اس دن مادری کی اہمیت کی جانب توجہ مبذول کروائی جاتی ہے۔ اردو مسلمانوں کی مادری زبان ہے۔ اس زبان میں مسلمانوں کی تہذیب اور شناخت شامل ہے۔ دنیا وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنی مادری زبان کی حفاظت کرتی ہے۔ ایسے دور میں جہاں پر لوگ اردو سے نابلد ہوتے جارہے ہیں اردو اکیڈیمی ایک نعمت ِ غیر مترقبہ ہے۔ خاص طور پر حیدرآباد کو اردو کے فروغ میں اہم مقام ہے۔ یہاں کی اردو اکیڈیمی کی بہت ساری اسکیمات ہیں جن پر موثر عمل آوری کرتے ہوئے اردو کی فروغ کی جانی چاہئے۔ گزشتہ چند سالوں سے اردو اکیڈیمی اسکیمات پر موثر عمل آوری نہیں ہوپارہی ہے۔ فی الحال اس اکیڈیمی کا کوئی چیئرمین بھی نہیں ہے۔ حکومت کو فوری اس جانب توجہ دینا چاہئے۔ اردو اکیڈیمی کی مختلف اسکیمات پر مالی اعانت سے محروم ہیں۔ رمضان بالکل قریب ہے لیکن اردو کے چھوٹے اخبارات کی مالی اعانت جو گزشتہ رمضان کی ہے ابھی تک جاری نہیں کی گئی ہے۔ تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی اردو ادیبوں شاعروں اور تخلیق کاروں کی تخلیقات کی اشاعت کے لئے ہر سال جزوی مالی اعانت کرتی ہے۔ درخواست داخل کیے کافی عرصہ ہوچکا ہے لیکن ابھی تک رقومات جاری نہیں کی گئی۔ مطبوعات کی اشاعت پر دی جانی والی امداد کی دوسری قسط بھی جاری نہیں کی گئی ہے۔ اردو سے متعلق جاری اسکیمات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اسکیم کے ذریعہ اردو کے چھوٹے اخبارات کو اشتہارات دئے جاتے ہیں۔جو کہ بہت دنوں سے جاری نہیں کیے گئے ہیں۔ اردو اکیڈیمی بہت ساری اسکیمات ایسی ہیں جو وقت پر عمل میں نہیں لائی جاتی ہے بلکہ چند سال تک اسے روک کر ایک ساتھ روبعمل لایاجاتا ہے۔ اسے موثر انداز میں وقت پر عمل میں لانا چاہئے۔ اردو اکیڈیمی کے ایوارڈز مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ، مخدوم ایوارڈ، کارنامۂ حیات ایوارڈ، بیسٹ اردو ٹیچر ایوارڈ، بیسٹ اردو اسٹوڈنٹ ایوارڈ کو ہر سال وقت پر دینا چاہئے۔ دیگر اسکیمات جیسے اردو کی شائع شدہ مطبوعات پر انعامات، اردو خبر رساں اداروں کو مالی امداد، اردو اکیڈیمی کے زیر اہتمام اردو مشاعرے، سمینارس، سمپوزیمس، تہذیبی اور ثقافتی پروگرامس، سرکاری اردو مدارِس کو انفراسٹرکچر کے لئے مالی اعانت، اردو میڈیم کی نصابی کتابوں کی اشاعت،اردوگھر شادی خانوں کی تعمیر،تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی ریاست کے اردو رسائل و جرائد کی مالی اعانت، اردو قلم کاروں اور صحافیوں کی مالی اعانت پر بھی مکمل اور وقت پر عمل آوری کی جانی چاہئے۔ اردو پڑھنے والے ہی نا ہوں گے تو پھر اکیڈیمی کا وجود ہی ختم ہوجائے گا۔ تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی ریاست میں گرمائی تعطیلات میں اردو پڑھانے اور سکھانے کے کیمپس کے لئے اردو رضاکارانہ تنظیموں اور اداروں کی مالی اعانت کرتی ہے۔ اسے موثر بنانا چاہئے۔ سال تمام خواندگی کی کلاسس ہونی چاہئے۔ صبح اور شام کے اوقات میں جو بڑے افراد اور کاروباری افراد اردو سے ناواقف ہیں انھیں اردو حروف شناسی، اردو تحریر اور اردو تقریر کی کلاسس منعقد کروانا چاہئے۔تاکہ مادری زبان کی آبیاری ہوسکے۔ آل انڈیا دلت مسلم او بی سی ویلفیر اسوسی ایشن کے قومی نائب صدرمحمد رفیق نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ دوسری سرکاری زبان اور مسلمانوں کی مادری زبان کی حفاظت کے لیے اردو اکیڈیمی کی اسکیمات پر موثر عمل آوری کے لیے فوری اقدامات کرے۔

Related posts

مدرسہ امداد الغرباء بلوا روتہٹ نیپال کا جلسہ دستار بندی بحسن وخوبی اختتام پذیر

Siyasi Manzar

شراوستی-بلرام پور کو آئین کے آرٹیکل 371 میں ترمیم کرکے خصوصی درجہ دیا جانا چاہئے:جاوید اشرف خان

Siyasi Manzar

سماجی جمہوریت ہی ہندوستان کو انصاف، مساوات اور بھائی چارے کے اصولوں پر مبنی مستقبل کی طرف لے جائے گی: محمد شفیع

Siyasi Manzar

Leave a Comment