Siyasi Manzar
مضامین

عظمت ِ والدین قرآن وسنت کی روشنی میں

شہیر علی

اس کائنات کی یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مذہب ِ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے اور یہ مذہب تمام تر مختلف مذاہب میں سب سے اعلی اور افضل ہے کیوں کہ یہ اللہ رب العزت کا نازل کیاہوا وہ پاکیزہ مذہب ہے جوامن و امان کی ضامن ہے ۔ اس مذہب ِ اسلام میں جہاں قرآن و ادیث اور رسول ِ اکرم ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے وہیں اپنے والدین کے ساتھ حسن و سلوک سے پیش آنے اور ان کی اطاعت کرنے کابھی حکم دیا گیا ہے ۔ والدین اس کائنات کی سب سے اعلی اور سب سے بڑی نعمت ہے ۔والدین کی عظمت کسی بھی ذوی العقول سے پرشیدہ نہیں ہے ۔ہر کوئی اس بات کا معترف ہی ہے کہ حقوق دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو حقوق اللہ جسے صرف اللہ تعالی ہی معاف کرتاہے اور دوسرا حقوق العباد ہے ۔حقوق العباد میں جب تک ایک بندہ دوسرے بندے معاف نہ کرے تو اللہ تعالی بھی معاف نہیں کر تاہے اور اگر اس بندے نے دوسرے کو معاف کر دیا ہے تو اللہ تعالی بھی اسے معاف کردیتا ہے ۔حقوق العباد میں سب اعلی اور افضل جس حقوق کاتذکرہ مذہب ِ اسلام میں آن بان شان کے ساتھ کیا جاتاہے وہ ہے حقوق والدین ۔ انسان کے لیے سب سے زیادہ مخلص اس کے والدین ہی ہوتے ہیں جوکہ خود سارے دکھ او رپریشانیاں جھیلتے ہوئے نہ صرف اپنے اولاد کی اچھی پرورش کرتے ہیںبلکہ اسے ترقی کی اعلی ترین منصب پر دیکھنابھی چاہتے ہیں۔والدین کی عظمت اگر آپ کو سمجھنا ہے تو سب سے پہلے اللہ کے کلام مقدس اور اللہ کے حبیب ﷺ کے احادیث کی طرف رجوع کرنا پڑیگا۔ تو آئے قرآن و احادیث کی روشنی میں عظمت ِ والدین سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
اللہ رب العزت نے قرآن مقدس میںمختلف مقام پر بیشمار ایسی آیتیں نازل فرمائی ہے جو والدین کی عظمت کی طرف دلالت کرتی ہے جسے اسی دنیا کا کوئی بھی فرد جھٹلا نہیں سکتا ہے اور اس کی زباں یہ بان کرنے سے قاصر ہے۔ اس رب ِ کریم نے مختلف مقام م پر مختلف طریقوں سے والدین کی شان کو بیان کرتاہے ۔اللہ تعالی والدین کی عظمت کو کبھی اذا أخذنا میثاق بنی اسرائیل لا تعبدون الا اللہ و بالوالدین احسانا تو کبھی ان اشکر لی ولوالدیک تو کبھی رب ارحمہما کما ربّیانی صغیرا تو کبھی ووصّینا الانسان بوالدیہ حسنا تو کبھی و بالوالدین احسانا تو کبھی اما یبلغنّ احدہما أو کلاہما فلاتقل ہما اف ولا تنھر ہما و قل لھما قو لاکریما تو کبھی وبرّا بوالدیہ تو کبھی وبرّا بوالدتی تو کبھی و بوالدیہ حسنا کہہ کر والدین کی عظمت کو بیان کرتاہے ۔توآپ انہیں چند أیات ِ قرآنی سے انداہ لگاسکتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے کس طرح والدین کی عظمت کو صراحتا قرآن ِ مقدس میں بیان کیا ہے ۔ یاد رکھو کہ اگر اتمہارے والدین تم سے راضی ہیں تو اس کائنات کی ساری چیزیں تم سے راضی ہے اور اگر تمہارے والدین تم سے راضی نہیں تو اللہ رب العزت تم سے ناراض ہے تو کتنی بھی عبادتیں کرلی جائے کچھ فائدہ نہیں ہے صرف نقصان کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔
بالکل اسی طرح مختلف احادیث میں بھی عظمت ِ والدین کا ذکر کیاجاتاہے ۔ اگر آپ حدیث ِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کریں تو آپ کے سامنے یہ بات اچھی طرح عیاں و بیاں ہو جائیگی کہ اس کائنات میں والدین کی عظمت سے بڑھ کر کوئی اوردوسری چیز نہیں ہے کیوں کہ مذہب ِ اسلام ہر روز اپنے والدین کی خدمت کرنے کا حکم دیتی ہے او رانھیں کی دعاؤں کی بدولت انسان بڑے بڑے منازل طے کرپاتاہے ۔ اوروہ زمانے میں معزز شخص بن کر جلوہ گر ہوتاہے کیوں کہ ماں باپ وہ عظیم ہستی ہے جن کی دعاؤں میں اللہ رب العزت کی رحمت برستی ہے ۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول ِ اکر مﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک دن میں سویا ہوا تھا او ر خواب میں جنت الفردوس کی زیارت سے لطف اندوز ہورہا تھا اسی وقت مجھے کسی شخص کے قرآن کریم کی تلاوت کرنے کی آواز میرے کانوں تک سنائی دی تومیں وہاں مودو فرشتوں سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے جو قرآن کریم کی تلاو ت کر رہاہے اور بڑے خوبصورت انداز میں تلاوت کرتا جا رہاہے تو وہاں موجود فرشتو ں نے مجھے جواب دیا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہیں ۔وہ جنت میں اس وجہ سے قرآن کی تلاوت کررہے تھے کیوں کہ وہ اپنے والدین کے مخلص خدمت گزار تھے اور ہمہ وقت اپنے والدین کے ساتھ حسن و سلوک سے پیش آتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ وہ جنت کے حقدار ہوئے ۔
حضرت ابو ھریرہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ِ اکرم ﷺ کو فرماتے ہواسنا ہے کہ : اگر میری ماں زندہ ہوتی اور میں نماز کی حالت میں اللہ رب العزت کے حضور کھڑاہوتا اور میری ماں مجھے آواز دیتی تو میں نماز چھوڑ کر دوڑ کر ماںکے پاس چلاجاتا اور دنیا والوں کو بتا دیتا کہ ماں کی عظمت کیا ہوتی ہے ۔ رسول ِ اکرم ﷺنے ہمیشہ ماں نہ ہونے پر پشیماں ہوئے اور فکر میں رہا کر تے تھے کہ اگر میری ماں ہوتی تو میں اپنی جان سے بھی بڑھ کر ان کی خدمت کرتا اسی وجہ رسول ِ اکرم ﷺہمیشہ دائی حلیمہ کی خدمت میں مصروف رہاکرتے تھے ۔
رسول ِ اکرم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے الجنۃ تحت أقدام امھات کہ بیشک جنت ماںکے قدموںکے نیچے ہے ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے ہاں اگر کسی کو شک ہے تو وہ قرآن و احادیث کا اچھی طرح مطالعہ کرے اسے دین ِ اسلام کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اگر کوئی شخص مخلص ہوکر خدمت ِ والدین میںہمہ وقت مصروف رہتاہے اور ان خدمت سے لطف اندوز ہوتا ہے تو بیشک وہ شخص بروز ِ قیامت صالحین کے ساتھ ان کے صفوںمیں اٹھایا جائیگا اور اس کے درجات بلند کردئیے جائیںگے۔ اس شخص کو بنا حساب و کتاب جنت میں داخل کردیا جائیگا ۔آپ اپنے والدین کی عزت کرناسیکھ لو خصوصا اپنے والد ِ گرامی کا کیوں کہ وہ :
جلا کر خون سارا جسم کا پیسہ کماتاہے
بڑی مشکل سے کوئی باپ اپناگھر چلاتاہے
بناکر اپنے بیٹے کوایک بڑا افسر زمانے میں
وہ بوڑھا شہر میںکیوں آج تک رکشا چلاتاہے
میرے قوم کے نوجوانوں ! آج ہم اپنے والدین کی خدمت کرنے سے کوسوں دور ہیں ، ان کی خدمت کرنے کو ہم عار سمجھتے ہیں ، ہم ان کی نافرمان بیٹے بن گئے ہیں ،ان کے ساتھ بد سلوکی کرنے پر امادہ ہو گئے ہیں ،ان کی اطاعت کو ہم برا سمجھنے لگے ہیں ، ان کے احکامات کو ہم غلط سمجھنے لگے ہیں ، اپنے والدین کے خلاف سازشیں کرنے لگے ہیں ،معاذ اللہ ہم آج اس دورِ جدید میں اپنے والدین کو گالیاں دیتے ہوئی نظر آرہے ہیں،انھیں تکلیف دینے میں کوئی قصر نہ چھوڑے ہیں، ماں باپ کی عزت کو بھلابیٹھے ہیںاو ران کی عظمت سے انجان ہیں کہ کس طرح اللہ رب العزت نے والدین کے حق میں آیتیں ناز ل فرماکر ان کی خدمت کرنے کا حکم دیتاہے ۔اور کس قدر رسول ِ اکرم ﷺنے ماں باپ کے ساتھ حسن و سلوک او ر ان کی خدمت میں مصروف رہنے کا حکم دئیے ہیں ۔ حدیث ِ مبارکہ ہے کہ رسول ِ اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص حج و عمرہ کا ثواب چاہتاہواسے چاہئے کہ وہ اپنے والدین کی خدمت کرے ،ان کی کہی ہر بات کو اپنے حق میںبہتر سمجھے اور ان کی ایک پکار پر لبیک کہتاہوا ان کی خدمت میں حاضر ہوجائے ۔یقینا ایسا کرنے والا شخص اس دنیا میں بھی کامیاب ہوگا اور کل قیامت ِ محشر میں بھی اسکی ہولناک عذاب سے محفوظ بھی رہیگا۔
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ رسول ِ اکرم ﷺاپنے صحابئہ کرم رضی اللہ عنہم کے ساتھ اپنے مجلس میں تشریف فرماںہوتے ہیںاوران کو دین ِ اسلام کے مقدس پیغام کے متعلق کچھ نصیحتیں کرتے رہتے ہیں کہ اچانک ایک اعرابی بارگاہ ِ مآب ﷺ میں آتاہے اورکہنے لگتاہے یارسول اللہ ﷺ میں بھی آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتاہوں اور راہ ِ حق میں شہید ہونا چاہتا ہوں تو رسول ِ اکرم ﷺارشاد فرماتے ہیں کیا تیرے ماں باپ ابھی زندہ ہیں ؟ وہ کہتاہے جی میرے ماں باپ زندہ ہیں تو رسول ِ اکرم ﷺفرماتے ہیں توجہاد کرنے او رشہید ہونے کامرتبہ چاہتاہے تو جااپنے گھرکی طرف لوٹ جا اور اپنے ماں باپ کی خدمت میں مصروف ہوجا یہ تجھے فی سبیل اللہ جہاد کرنے اور اس کی راہ میں شہیدہونے سے بھی زیادہ ثواب پہنچائیگا۔اور تو بلاحساب و کتاب جنت کا حقدار ہوجائیگاتجھے اس سے زیادہ او رکیا چاہئے ۔دیکھا آپ نے کہ کس طرح رسول ِ اکرم ﷺنے اس کے حق میں فیصلہ کردیا اور اس شخص کو جنت کا حقدار بنادیا۔
ایک شخص رسول ِ اکرم ﷺکے پاس ایک شخص آتاہے اور کہنے لگتاہے یارسول اللہ ﷺ لوگوںمیںسب سے افضل واعلی کون شخص ہے تو رسول ِ اکرم ﷺارشاد فرماتے ہیں کہ اپنے مال و دولت کو راہ ِ حق میں باجھجھک خرچ کرنے والا تو وہ کہتاہے پھر کون ہے تو رسول ِ اکرم ﷺجواب دیتے ہیں کہ جو شخص اپنی والدین کی خدمت میں ہمہ وقت تن من دھن کے ساتھ مصروف رہتاہے تو وہ شخص اپنے والدین کی خدمت میں مصروف ہوجاتاہے ۔
رسول ِ اکرم ﷺکے پاس ایک شخص آتاہی اور کہنے لگتاہے کہ میںبھی آپ لوگو ں کی طرح جہاد کرنا چاہتاہوں تو تو رسول ِ اکرم ﷺارشاد فرماتے ہیں کیا تیرے ماں باپ ابھی زندہ ہیں ؟ وہ کہتاہے جی میرے ماں باپ زندہ ہیںتو رسول ِ اکرم ﷺفرماتے ہیں بیشک جنت تیرے ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔
اس طرح قرآن مقدس او راحادیث مبارکہ میں عظمت ِ والدین پر بیشمار فضیلتیںبیان کی گئی ہے ۔جو بھی شخص اپنے والدین کی خدمت میں لگارہتاہے،ان کو اف تک نہیں کہتاہے ،ان کے حکموںپر سر خم کرتاہے اور ان کی اطاعت میں پوری زندگی گزار دیتاہے تو وہ شخص جنتی ہے کیوںکہ رسول ِ اکرم ﷺفرماتے ہیں جن کے والدین راضی ہیں اس سے میں بھی راضی ہوں اور رب ِ کائنات بھی راضی ہے اور جب دونوں جہاں کاپالنہارا راضی ہے جنت اس کے لیے واجب ہوجاتی ہے ۔
میرے قوم کے نوجوانوں ! آج کے اس دور ِ جدید میں ہمیں اورآپ کو اپنے والدین کی خدمت کرنے کی اشد ضرورت ہے ،ان کے ساتھ حسن و سلوک سے پیش آنے کی ضرور ت ہے ،ان کی خدمت کرنے کی ضرورت ہے،ان کی عز ت پامال ہونے سے بچانے کی ضرورت ہے اور ان کی اطاعت کرنے کی تو سب سے زیادہ ضرور ت ہے کیوں کہ ان کی اطاعت گویا رسول ِ اکرمﷺ کی اطاعت ہے اوررسولﷺ کی اطاعت گویاکہ اللہ رب العز ت اطاعت ہے اور جس بھی شخص نے اللہ کی اطاعت کاشر ف حاصل کرلیا وہ بلا شبہ جنت کا ہی حقدار ہے ۔ تو دوستوں اپنے ماں او رباپ دونوں کی عز ت کرو کیوں میں ہمیشہ ایک چیز پر عمل پیراں ہوتاہوں کہ:
حادثوں کی گرد سے خود کو بچانے کے لے
ماںمیں اپنے ساتھ بس تیری دعا لے جاؤنگا
فلاح و بہنودی کی راہیںہموار کرنے کے لیے
اباجان میںاپنے ساتھ آپ کی دعالے جاؤنگا
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطافرمائے اور ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ ِ سید المرسلین ۔

Related posts

بوکھلاہٹ بتارہی کہ زمین کھسک رہی ہے

Siyasi Manzar

صرف عورت ہی ذمہ دار کیوں؟

Siyasi Manzar

 آل انڈیا ریڈیو اردو سروس بحران کا شکاراور فروغ اردوکاکتاب میلہ کاجشن!

Siyasi Manzar

Leave a Comment