Siyasi Manzar
مضامین

عظمت قرآن اورماہ صیام

قرآن حکیم ایک لازوال اورابدی کتاب ہدایت ہے،یہ پوری بنی نوع انسانیت کے لیے اللہ کی طرف سے نازل شدہ ایک سچی رہبری و رہنمائی کی جامع کتاب مبین اور دستور حیات ہے، اس میں دین و ایمان، عقیدہ و منہج، عبادات و معاملات کے ساتھ بندوں کے لیے دنیا و آخرت کی فلاح و بہبود کے متعلق تمام تر احکامات ارشادات موجود ہیں، قرآن مجید وہ ابدی اورلازو ال کتاب ہے جس کا مخاطب اللہ تعالی نے قیامت تک آنے والے ہرانسان کو بنایا ہے،یہ کتاب کسی زمانے ،کسی جگہ،کسی گاؤں،کسی شہر،کسی ملک اورکسی قوم وقبیلے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام انس وجن کو وہ پیغام دیتا ہے جس میں ان کے لئے دین ودنیا کی سعادتیں ،کامیابیاں اور کامرانیاں چھپی ہوئی ہے۔
یہ ایسی بابرکت اور باوقعت کتاب ہے کہ جو بھی اس سے جڑ گیا اس نے شرف وعزت پائی ، جس ذات اقدس پر اس قرآن کا نزول ہوا رب العالمین نے اسے سیدالانبیاء والمرسلین اور سیدالاولین والآخرین بنا دیا،جس فرشتے نے پیغام رسانی کا کام انجام دیا رب العالمین نے اسے فرشتوں کا سرداراورروح الامین بنا دیا،جس مہینے میں یہ قرآن نازل ہوا رب العالمین نے اس ماہ کو عظیم ماہ قرار دیتے ہوئے اسے نزول قرآن کا مہینہ قرار دیااور اس میں روز ں کو فرض کردیاگیا۔جس رات اس قرآن کو نازل کیا گیااس رات کو ہزار مہینوں کی راتوں سے افضل رات قرار دے دیاگیا،جس امت کو یہ قرآن عطا کیا گیا اس امت کو رب العالمین نے کنتم خیر امۃ کا خطاب دیا اور یہی وہ قرآن ہے کہ جس کے پڑھنے اور پڑھانے والے،سیکھنے اور سکھانے والے اس کائنات کے سب سے افضل اور سب سے بہتر انسان قرار پاتے ہیں،یہی وہ قرآن ہے کہ جس نے بھی اس سے اپنا رشتہ جوڑا وہ اس دنیا میں بھی سرخرو ہوا اور آخرت میں بھی اس کی بادشاہوں جیسی تاج پوشی کی جائے گی، یہی وہ قرآن ہے جس کی ہر آیت اور ہر لفظ میں شفاء ہے،یہی وہ قرآن ہے جس کی تلاوتوں کو سننے کے لئے فرشتے بھی جمگھٹا لگا دیتے ہیں،یہی وہ قرآن ہے جس جگہ بھی تلاوت کی جائے وہاں پر رب کی رحمتوں،سکینتوں اور برکتوں کی برسات شروع ہو جاتی ہے،یہی وہ قرآن ہے جس کی تلاوت کرنے والوں کا ذکر آسمانوں میں کیاجاتا ہے،یہی وہ قرآن ہےجس کے بارے میں رب نے یہ وعدہ فرمایا ہے:’’ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى ‘‘ کہ جو شخص بھی میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ تو گمراہ ہوگا اور نہ ہی بدبختی کے اندر مبتلا ہوگا۔(طہ:123)یہی وہ قرآن ہے کہ جس نے اسے اپنا امام بنا لیا اسے یہ جنت میں داخل کرکے چھوڑے گا اور جس نے اسے پیٹھ پیچھے ڈال دیا اسے جہنم میں داخل کرکے چھوڑے گا،یہی وہ قرآن ہے جس کی عظمت کے بارے میں حبیب کائنات ﷺ نے دو ٹوک الفاظ میں بیان فرمادیا کہ:’’ أَبْشِرُوا فَإِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللَّهِ وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ فَتَمَسَّكُوا بِهِ فَإِنَّكُمْ لَنْ تَضِلُّوا وَلَنْ تَهْلِكُوا بَعْدَهُ أبداً ‘‘ خوش ہوجاؤ بے شک کہ قرآن مجید اللہ کی ایک ایسی رسی ہے جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھ میں ہے،تم اسے مضبوطی سے پکڑ لو (اور اگر تم نے اس قرآن کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو) نہ تم کبھی ہلاک وبرباد ہوسکتے ہو اور نہ ہی کبھی گمراہ ہوسکتے ہو۔(الصحیحۃ للألبانیؒ:713) یہی وجہ ہے کہ جب اس قرآن سے عرب قوم نے اپنا رشتہ جوڑا تو اس قرآن نے انہیں غلام سے بادشاہ بنا دیا اور آج ہم نے اسے پس پشت ڈال دیا جس کی وجہ سے ہمیں ہرجگہ ذلت وناکامی کا سامناہے۔
بنی نوع انسان کی داستانیں قصہٴ پارینہ بن سکتی ہیں، تمام درختوں کے اوراق بوسیدہ ہوسکتے ہیں، شاخوں کے قلم ریزہ ریزہ ہوسکتے ہیں اور ہفت اقلیم کے سمندر کی روشنائی ختم ہوسکتی ہے؛ مگر کلامِ الٰہی کا چہرہٴ بسیط ہمیشہ تروتازہ اور نشیط رہے گا، اس کے شباب پر کبھی کہنگی یا کہولت نہیں آسکتی؛ اس لیے کہ وہ عجائب ونوادر کا لازوال سرچشمہ اور معانی ومعارف کا بحرِناپیدا کنار ہے بعض اہل علم کاقول ہے کہ ”اگر بندہ کو قرآن مجید کے ہر حرف کے بدلے ہزار فہم ودانش دے دی جائے، تب بھی اُن معانی کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کی ایک آیت میں ودیعت کیا ہے؛ اس لیے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور کلام اس کی ذاتی صفت ہے، پس جس طرح ذاتِ خداوندی کی کوئی حدونہایت نہیں، اسی طرح معانیِ کلام کی بھی کوئی غایت نہیں ہے، انسان بس اتناہی سمجھتا ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے اس پر منکشف فرمایا ہے۔“(البرہان للزرکشی)یہ کتاب انسانوں کی رفعت و بلندی کا سرچشمہ، اہل ایمان کے ذہنوں کی تازگی، آنکھوں کا نور اور ان کے دلوں کا سرور ہے،اس کا پڑھنے والا کبھی مایوس نہیں ہو سکتا، اس پر عمل کرنے والا کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا،اس کی رہبری اور رہنمائی میں جینے والا کبھی بھٹک نہیں سکتا،رب العالمین نے اسے(( ان هذا القران يهدي للتي هي اقوم)) کا خطاب عطافرمایا ہے اور سچ ہے نزول قرآن کے حقیقی مشاہدین حضرات صحابہ کرام اور اس کے کاتبین اولین کے اس مقدس گروہ مومنین نے جب اسے حرز جاں بنا لیا تو قیصر و کسری کی سلطنتیں ان کے قدموں میں سرنگوں ہو گئیں اور انہیں اسکی برکتوں اور رحمتوں سے اسی کائنات میں جنت نعیم کی بشارت ملی،بعض صحابہ کرام نے سورہ کہف اور بعض نےقرآن مجید کی دوسری مقدس سورتوں کی جب جب تلاوت فرمائی تو عین تلاوت کے وقت رب کریم کی جانب سے رحمتوں اور برکتوں کی بدلیاں ان کے سروں پر اترنے لگیں اور اس کی حلاوت اور مٹھاس سکینت اور طمانینت بن کر ان کے سروں پر نازل ہونے لگی، الغرض یہ کتاب ہدایت لافانی اور لازوال ہے اس کی جامعیت ،فصاحت و بلاغت ،الفاظ و معانی کی گہرائی و وسعت اس قدر بے پایاں ہے کہ دنیا کے فصحاءو بلغاءاور اہل زبان و لسان اور ان کی فصاحتیں اور بیان و زبان کی قوتیں ایک طرف اور دوسری طرف اس مقدس قرآن کی ایات مبارکات بلکہ اسکی چھوٹی چھوٹی سورتیں ،کوئی مقارنہ نہیں ،کوئی برابری نہیں ،بلکہ رتی برابر قرآن کے مقابلے میں ان کا کوئی وزن اور ان کی کوئی حیثیت نہیں اور ان کی فصاحت بیانیوں میں کوئی دم خم نہیں۔ اور یہ قرآن عزیزکا معجزہ بھی ہے اور چیلنج بھی،پوری دنیا عاجز ہو گئی اس کی قوت بیان اور فصاحت الفاظ اور اسلوب و ادا کی معنی خیر جامعیت کے سامنے اور بڑے بڑوں نے گھٹنے ٹیک دیے اسکے چیلنج کے آگے۔سچ فرمایا رب العالمین نے( قل لن اجتمعت الانس والجن على ان ياتوا بمثل هذا القران لا ياتون بمثله ولو كان بعضهم لبعض ظهيرا.)
اس پر ایمان لانا، اس کی تلاوت کرنا، غور و تدبر سے اسے پڑھنا اور اس پر عمل کرنا ہماری زندگیوں کا خاصہ ہونا چاہیے اور قرآن کے ان حقوق اور تقاضوں کو ہمیں پورا کرنا چاہیے،خاص طور پر اس کی تلاوت عین عبادت ہے اسے اپنی زندگی کا جزء لاینفک اور سرمایہ حیات بنا لینا چاہیے اور سال کے بارہ مہینے اس کی تلاوت عبادت سمجھ کر انجام دینا چاہیے خاص طور پر رمضان المبارک کے اس مقدس اور بابرکت مہینے میں اس کے بار بار پڑھنے اور ختم کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے جو ہمارے اسلاف کرام کی زندگیوں کا ہر رمضان میں شیوہ اورمعمول تھا۔ بعض محدثین کرام سے تو یہاں تک منقول ہے کہ وہ اپنی مجالس حدیث کو روک کر اس ماہ مقدس میں دیگر عبادتوں کے ساتھ خاص طور پر صرف تلاوت میں منہمک ہو جایا کرتے تھے اور ہمہ وقت انہیں یہ فکر دامن گیر رہا کرتی تھی کہ بار بار اس ماہ مبارک اور نزول قران کی بابرکت ساعتوں میں اسے ختم کیا جائے اور اس کی لازوال اور ابدی برکتوں کو دامن گیر کر کے بار بار رحمت الہی کا مستحق بنا جائے اس لیے اہل ایمان کو چاہیے کہ اس ماہ مقدس میں دیگر عبادتوں کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر قرآن کریم کی تلاوت اور اس کی مہتم بالشان عبادت میں اپنے قیمتی اوقات کو گزارنے کی سعی پیہم فرمائیں تاکہ ایک ایک حرف پردس دس نیکیوں کے مستحق بن کر رب کی رضا اور اس کی جنتوں اور اس کی بیش بہا نعمتوں سے سرفراز ہو سکیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہر رمضان اور ہر ماہ قرآن مقدس کی تلاوت کو اپنی زندگیوں کا ایک خاصہ اور جزء لاینفک بنائیں گے اور اس کی روشن شاہراہ اور اس کے واضح احکامات پر عمل پیرا ہو کر رب کی جنتوں کے مستحق بنیں گے۔ اللہ تعالی رمضان المبارک کی ہماری نیکیوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور ہر طرح کے گناہوں سے توبہ کی توفیق ارزانی فرما کر ہمیں اپنے دامن رحمت میں جگہ عطا فرمائے ۔وما توفیقی الا باللہ۔

Related posts

آعظم گڑھ کا محروم طبقہ (نٹ سماج) اور ہم سب

Siyasi Manzar

عورتوں کو میراث سے محروم کرنا گناہ عظیم ہے

Siyasi Manzar

انجانے میں اپنی صحت سے کھلواڑکرتا انسان

Siyasi Manzar

Leave a Comment