Siyasi Manzar
مضامین

’’رمضان المبارک میں خود شناسی اورتزکیہ نفس‘‘

سید واصف اقبال گیلانی

عمومی طور پر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ رمضان المبارک کو صرف چند ثواب حاصل کرنے کا مہینہ سمجھتے ہیں۔ سحری کا وقت اور افطاری کا انتظار ہی اس مہینے کا محور بن کر رہ جاتا ہے۔ البتہ، احادیث مبارکہ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رمضان المبارک کی فضیلت اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عز وجل نے فرمای، ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ روزہ ڈھال ہے، تم میں سے کوئی جب روزہ رکھتا ہو تو نہ بےہودہ بات کرے، نہ اونچی آواز سے بولے، اور اگر کوئی اسے گالی دے یا جھگڑے تو کہے: میں روزے سے ہوں (صحیح مسلم: کتاب 13، حدیث 212)۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کا روزہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے اور اس میں صرف روزہ رکھنا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے حقیقی مقاصد کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب ’’احیاء العلوم‘‘ میں رمضان المبارک کے فضائل کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ”رمضان کا مہینہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنے اور اس کی قرب حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔“ اس دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رمضان المبارک کے بارے میں اپنی عام فہم کو وسعت دیں اور اس مہینے کے حقیقی فوائد اور اس کی برکات کو سمجھیں۔ رمضان المبارک ایک ایسا موقع ہے جب کہ ہم اپنے آپ کو پرکھ سکتے ہیں، اپنی کمزوریوں کو دور کر سکتے ہیں اور ایک بہتر انسان بننے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

آیئے، اس مضمون میں ہم رمضان المبارک کے ان پہلوؤں کا جائزہ لیں جو عموماً نظر انداز کر دیے جاتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کیسے ہم رمضان المبارک کو اپنے تزکیہ نفس اور خود شناسی کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔

رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں کا وہ مقدس مہینہ ہے جس میں مسلمان دنیا بھر میں روزے رکھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوتے ہیں۔ یہ مہینہ نہ صرف مسلمانوں کے ایمان کی تجدید کا باعث بنتا ہے بلکہ یہ خود شناسی اور تزکیہ نفس کا بھی بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ روزے کی مشقت اور سحری و افطاری کے اوقات میں ہونے والی سستی کا مقابلہ کرنا انسان کو اپنے آپ کو پرکھنے اور اس کی کمزوریوں اور طاقتوں کو سمجھنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر چیز کی زکوٰۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے۔ اور روزہ آدھا صبر ہے۔” (سنن ابن ماجہ: کتاب 7، حدیث 108) یعنی روزہ آدھا صبر ہے۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ انسان میں صبر کی صفت پیدا کرتا ہے اور صبر کے ذریعے ہی انسان اپنے نفس کو قابو کرنا سیکھتا ہے۔ سحری کے وقت نیند کی لذت چھوڑ کر اٹھنا، افطاری تک بھوک اور پیاس پر قابو پانا، غصے اور بے حیائی سے بچنا یہ سبھی چیزیں روزہ دار کے صبر کی آزمائش ہوتی ہیں۔ اس طرح کی آزمائشوں کا سامنا کرکے انسان اپنے ارادے کی مضبوطی کو پرکھتا ہے اور اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے۔

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب ’’احیاء العلوم‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ”روزہ انسان کو اس کے نفس کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہے اور اسے یہ سکھاتا ہے کہ وہ اپنے نفس کا غلام نہیں بلکہ اس کا مالک ہے۔“ روزہ رکھنے سے انسان کو اپنے غصے، لالچ، اور خواہشات پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ جب انسان بھوکا اور پیاسا ہوتا ہے تو اس وقت اس کے اندر موجود نفس امارہ اپنی خواہشات کا اظہار کرتا ہے اور روزہ دار کو روزہ توڑنے پر آمادہ کرتا ہے۔ لیکن اس طرح کے حالات میں روزہ دار اپنے آپ کو سنبھالتا ہے اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اپنے نفس کا مالک ہے نہ کہ اس کا غلام ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے واقعات سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں کیسے اپنے آپ کو پرکھتے اور تزکیہ نفس کی کوشش کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعانیٰ عنہ رمضان المبارک میں غریبوں اور مسکینوں کی دستگیری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ وہ غریبوں کے گھروں میں جاتے تھے اور ان کی افطاری کا سامان خود اپنے ہاتھوں سے پہنچاتے تھے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ رمضان المبارک میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ دوسروں کی بھی مدد کرکے اپنے اخلاق کو سنوارنے کی کوشش کرتے تھے۔

اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا معمول تھا کہ وہ رمضان المبارک میں رات کو اٹھ کر تلاوت قرآن کرتے تھے اور دن کو عام دنوں سے زیادہ محنت کرتے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ رمضان المبارک کے مہینے میں اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ عبادت میں مشغول رکھنے اور اپنے نفس کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ان مبارک ہستیوں کی سیرت ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ ان کی زندگیوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ نہ صرف عبادت کا بلکہ خود شناسی اور تزکیہ نفس کا بھی بہترین موقع ہے۔ اس مہینے میں ہم اپنے روزوں، عبادات اور اعمال صالحہ کے ذریعے اپنے آپ کو پرکھیں اور اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔

رمضان المبارک کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو زیادہ تقویٰ پیدا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تقویٰ کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنا اور اس کی ناراضگی سے بچنے کی کوشش کرنا۔ روزے کی پابندی اور رمضان المبارک کے نوافل اور تلاوت قرآن جیسے اعمال اللہ تعالیٰ کے قرب کا باعث بنتے ہیں اور انسان میں تقویٰ کی صفت پیدا کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ احادیث مبارکہ میں روزوں کے فضائل بیان کرتے ہوئے بار بار تقویٰ کا ذکر ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بنی آدم کے تمام اعمال ان کے لیے ہیں سوائے روزے کے جو میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ روزہ آگ اور گناہوں سے بچاؤ کی ڈھال ہے، اگر تم میں سے کوئی روزہ دار ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی بیوی سے مباشرت اور جھگڑے سے پرہیز کرے، اور اگر کوئی اس سے لڑے یا جھگڑے تو کہے کہ میں روزے سے ہوں (صحیح البخاری: کتاب 30، حدیث 14)۔ اس حدیث پاک میں روزہ رکھنے کی نیت کے ساتھ ساتھ تقویٰ کی اہمیت کو بھی واضح کیا گیا ہے۔

روزے سے تقویٰ کی پیدایش کی وضاحت امام ابن قیم الجوزية رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’اعلام الموقعين‘‘ میں اس طرح کرتے ہیں کہ روزہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بچاتا ہے اور اس میں حرام چیزوں سے پرہیز کی عادت ڈالتا ہے۔ روزہ رکھنے والا سارا دن نہ صرف کھانے پینے سے بلکہ جھوٹ بولنے، غیبت کرنے، اور بے حیائی جیسے گناہوں سے بھی بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور اس کی ناراضی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جو کہ تقویٰ کی اصل ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی زندگیاں ہمارے لیے رمضان المبارک میں تقویٰ پیدا کرنے کی بہترین مثالیں ہیں۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان المبارک میں بازاروں کا گشت کرتے تھے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بچیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں نہ صرف اپنی ذات کی بلکہ دوسروں کی بھی تزکیہ نفس کی فکر کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان المبارک میں راتوں کو تہجد کی نماز پڑھنے اور قرآن کی تلاوت کرنے میں مشغول رہتے تھے۔ وہ دن کو لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدد کرتے تھے۔ ان کی یہ عبادت اور خدمت خلق دونوں چیزیں تقویٰ کی عملی مثالیں ہیں۔

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے علاوہ سلف صالحین میں سے بھی بہت سے واقعات ملتے ہیں جو رمضان المبارک میں تقویٰ پیدا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ رمضان المبارک میں اپنی آواز اونچی کر کے بات نہیں کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ”رمضان کے مہینے میں اونچی آواز سے بات کرنا شیطان کو خوش کرنا ہے۔“ یہ تمام واقعات اور مثالیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ رمضان المبارک کا مہینہ تقویٰ پیدا کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اس مہینے میں ہم روزوں کی پابندی، عبادات میں زیادہ سے زیادہ مشغولیت، اور گناہوں سے پرہیز کرنے کی کوشش کرکے اپنے تقویٰ میں اضافہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کریں۔

رمضان المبارک کا ایک اہم مقصد مسلمانوں میں سخاوت اور ہمدردی کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ اس مہینے میں افطاری اور سحری کے اوقات میں غریب اور ضرورت مندوں کے ساتھ کھانا کھانا اور خیرات و صدقات کا اہتمام کرنا مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا راستہ دکھاتا ہے۔ روزہ رکھنے والا خود بھوک اور پیاس کی تکلیف محسوس کرتا ہے، اس وجہ سے وہ دوسروں کی تکلیف کو بھی بہتر سمجھ سکتا ہے اور ان کی مدد کرنے کا جذبہ اس میں پيدا ہوتا ہے۔

احادیث مبارکہ میں سخاوت اور ہمدردی کی فضیلت کو بار بار بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے۔ آپ رمضان المبارک میں خاص طور پر زیادہ سخی ہو جاتے تھے جب رمضان کی ہر رات حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لاتے اور آپ کے ساتھ قرآن کی تلاوت فرماتے۔ بے شک رسول اللہ ﷺ رمضان میں آزاد ہوا سے زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔ امام احمد اس حدیث کو اس کے آخر میں اضافی الفاظ کے ساتھ درج کرتے ہیں، "ان سے کچھ بھی مانگا گیا تو انہوں نے دے دیا۔” یعنی بہترین لوگ وہ ہیں جو دوسرے لوگوں کے لیے سب سے زیادہ فکرمند اور فائدہ مند ثابت ہوں۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسروں کی مدد کرنا اور ان کے کام آنا مسلمان ہونے کی ایک اہم نشانی ہے۔

امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’فتح الباری‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ”انسان کو دوسروں کی مدد کرنی چاہیے، خاص طور پر رمضان المبارک کے مہینے میں ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور ان کا خیال رکھنا بہت ثواب کا کام ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی زندگیاں رمضان المبارک میں سخاوت اور ہمدردی کی بہترین مثالیں ہیں۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعانیٰ عنہ رمضان المبارک میں مدینہ کے کنوؤں کا پانی مفت کر دیتے تھے تاکہ غریب اور مسافر پانی کی کمی محسوس نہ کریں۔ یہ ان کی سخاوت اور ہمدردی کا واضح ثبوت ہے۔

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان المبارک میں غریبوں اور مسکینوں کو کھانے پر بلاتے تھے اور ان کیساتھ افطاری کرتے تھے۔ وہ رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ صدقہ بھی دیا کرتے تھے۔ ان کی یہ عادات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ رمضان المبارک میں ہمیں اپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شامل کرنا چاہیے اور ان کی مدد کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی چاہیے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے علاوہ تابعین اور تبع تابعین میں سے بھی بہت سے واقعات ملتے ہیں جو رمضان المبارک میں سخاوت اور ہمدردی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

یہ تمام واقعات اور مثالیں ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ رمضان المبارک کا مہینہ سخاوت اور ہمدردی کا جذبہ پیدا کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اس مہینے میں ہم افطاری اور سحری میں اپنے پڑوسیوں، رشتے داروں، غریب اور مسکینوں کو دعوت دیں اور ان کی مدد کریں۔ اس طرح ہم نہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں گے بلکہ معاشرے میں بھی خوشیوں کا دور دور تک پھیلائیں گے۔

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ مسلمانوں میں صبر اور شکر کی فضیلت کو اجاگر کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔ ایک طرف تو روزے کی پابندی کے لیے بھوک اور پیاس پر صبر کرنا ضروری ہے، دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر شکر ادا کرنا بھی اہم ہے۔

اللہ رب العزت سورہ بقرہ آیت 155 میں فرماتا ہے کہ "اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے”۔ احادیث مبارکہ میں صبر اور شکر کی اہمیت کو بار بار بیان کیا گیا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے: "سب سے بڑا اجر بڑی آزمائش کے ساتھ آتا ہے۔ جب اللہ تعالی کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کا امتحان لیتا ہے۔ جو اس کو قبول کرتا ہے وہ اس کی خوشنودی حاصل کرتا ہے لیکن جو اس سے ناراض ہوتا ہے اس کا غضب ہوتا ہے (ترمذی:2396 اور ابن ماجہ:4031)۔  اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے اور پھر اسے اس کی جزا بھی دیتا ہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ بھی ایک طرح کی آزمائش ہے جس میں صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اجر عطا فرماتا ہے۔

امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’مجموع الفتاویٰ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ”روزہ صبر کی ایک قسم ہے اور صبر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ جنت کا  انعام دیتا ہے۔“ روزہ رکھنے کے دوران  بھوک، پیاس، غصہ اور بری خواہشات پر قابو پانا صبر کی ہی ایک شکل ہے۔ اس طرح رمضان المبارک مسلمانوں میں صبر کی عادت ڈالنے اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا سبب بنتا ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی زندگیاں صبر اور شکر کی بہترین مثالیں ہیں۔  حضرت بلال بن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہم اسلام قبول کرنے کے بعد کفار کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے لیکن انہوں نے کفر اختیار کرنے سے انکار کر دیا اور صبر و شکر کے ساتھ اسلام پر قائم رہے۔  ان کی یہ پختہ ایمانی اور صبر و شکر کی یہ عظیم مثال رمضان المبارک میں ہمیں بھی مشکلات پر صبر کرنے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا سبق دیتی ہے۔

اسی طرح حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بدر کی لڑائی میں شہید ہو گئے لیکن شہادت کے وقت ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے اور شہادت نصیب ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے تھے۔ ان کی یہ عظیم قربانی اور شکر کا جذبہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

یہ تمام واقعات اور مثالیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ رمضان المبارک کا مہینہ صبر اور شکر کی فضیلت کو اجاگر کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اس مہینے میں ہم روزے کی مشقت پر صبر کریں اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اس کا شکر ادا کریں۔ اس طرح ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگیوں میں بھی صبر اور شکر کی عادات کو اپنائیں۔

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ نہ صرف عبادات اور روحانیت کا مرکز ہے بلکہ اس مہینے میں مسلمان نظم و ضبط کی عادت بھی اپناتے ہیں۔  روزے کی پابندی کے لیے سحری کے وقت اٹھنا اور افطاری کا وقت متعین کرنا انسان میں وقت کی پابندی اور منصوبہ بندی کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔

احادیث مبارکہ میں وقت کی اہمیت کو بار بار بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں: فارغ وقت اور تندرستی۔“ (صحیح البخاری)  اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنا وقت درست طریقے سے منظم کریں اور عبادات اور دنیاوی معاملات میں توازن پیدا کریں۔

امام ابن القيم الجوزية رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’مدارج السالكين‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ”روزہ انسان کو وقت کی پابندی کی عادت ڈالتا ہے اور اسے یہ سکھاتا ہے کہ وہ اپنے اوقات کا صحیح استعمال کرے۔“  سحری کے لیے اٹھ کر نماز فجر پڑھنا، دن بھر کام کاج کرنا، اور افطاری کے وقت روزہ کھولنا یہ سبھی چیزیں ایک مخصوص نظم و ضبط میں چلتی ہیں۔ اس طرح رمضان المبارک مسلمانوں میں وقت کی قدر کرنے اور اسے منظم کرنے کی عادت ڈالنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی زندگیاں رمضان المبارک میں نظم و ضبط کی بہترین مثالیں ہیں۔  حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان المبارک میں رات کے وقت مدینہ کی گلیوں کا گشت کرتے تھے اور لوگوں کے حالات کا جائزہ لیتے تھے۔ وہ رات کو تہجد کی نماز پڑھتے اور دن کو لوگوں کی ضرورتوں کو بھی پورا کرنے میں مدد کرتے تھے۔ ان کی یہ عادات بتاتی ہیں کہ رمضان المبارک میں وہ نہ صرف عبادات بلکہ دنیاوی معاملات میں بھی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے تھے۔

اسی طرح حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان المبارک میں دن کی  بیشتر وقت لوگوں کے درمیان  فیصلے اور عدالتی امور سر انجام دیا کرتے تھے۔ رات کے وقت وہ عبادت اور تلاوت قرآن میں مشغول رہتے تھے۔ ان کی یہ عادات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ رمضان المبارک میں بھی ہم اپنے روزمرہ کے کاموں اور عبادات کے لیے ایک نظام الاوقات بنائیں اور اس پر سختی سے عمل کریں۔

یہ تمام واقعات اور مثالیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ رمضان المبارک کا مہینہ نظم و ضبط کی عادت ڈالنے کا بہترین موقع ہے۔ اس مہینے میں ہم سحری کے لئے اٹھنے اور افطاری کے وقت کا ایک نظام بنائیں اور اس پر سختی سے عمل کریں۔ اس طرح ہم نہ صرف روزوں کی پابندی اچھے طریقے سے کر سکیں گے بلکہ اپنی زندگیوں کے دیگر امور میں بھی نظم و ضبط پیدا کر سکیں گے۔

رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں کا وہ مقدس مہینہ ہے جس میں روزے رکھنے کی فرضیت مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے قرب کا دروازہ کھولنے کا موقع دیتی ہے۔ روزوں کی پابندی کے علاوہ، یہ مہینہ ہمیں خود شناسی، تزکیہ نفس، سخاوت، ہمدردی، صبر، شکر اور وقت کی پابندی جیسی عادات سکھاتا ہے۔

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رمضان المبارک میں ایمان اور ثواب کی نیت سے روزہ رکھنے والے کے ماضی کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں (صحیح البخاری)۔ لیکن یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ رمضان المبارک کا مقصد صرف گناہوں کی معافی ہی نہیں بلکہ ایک بہتر انسان بننے کی کوشش بھی ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی زندگیاں ہمارے لیے رمضان المبارک کے فضائل کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ وہ رمضان المبارک میں نہ صرف روزے رکھتے تھے بلکہ اپنی عبادات میں اضافہ کرتے تھے، غریب اور مسکینوں کی مدد کرتے تھے، اور اپنے نفس کو قابو کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی یہ مثالیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ رمضان المبارک کو ہم اپنے ظاہری اور باطنی تزکیہ کا ذریعہ بنائیں۔

اس مضمون میں ہم نے رمضان المبارک کے کچھ پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے جو عموماً نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ رمضان المبارک صرف ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں ہم اپنے آپ کو پرکھیں، اپنی کمزوریوں کو دور کریں، اور ایک بہتر انسان بننے کی کوشش کریں۔ آئیے، اس رمضان المبارک ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم اس مہینے کے حقیقی مقاصد کو سمجھیں اور اسے اپنے تزکیہ نفس اور خود شناسی کا ذریعہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے پورا پورا مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(نوٹ: مضمون میں ظاہر کئے گئے خیالات مضمون نگارکے ذاتی ہیں، ادارے کا اس سے اتفاق ضروری نہیں ہے)

Related posts

کیا تلنگانہ میں بی آر ایس اور کانگریس میں کانٹے کا مقابلہ ہوگا؟

Siyasi Manzar

آعظم گڑھ کا محروم طبقہ (نٹ سماج) اور ہم سب

Siyasi Manzar

یوپی کے مدارس پر خطرے کی تلوار

Siyasi Manzar

Leave a Comment