Siyasi Manzar
قومی خبریں

بیس سالوں کے بعد ملزمین کی جیل سے رہائی

اہل خانہ نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشدمدنی) کا شکریہ ادا کیا
ممبئی، دسمبر(پریس ریلیز)بیس سالوں سے زائد عرصے سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقیدملزمین نور محمد عبدالمالک انصاری (ممبئی، مہاراشٹر) اور جلال ملا رشید ملا (مغربی پرگنہ، مغربی بنگال) کی گذشتہ دنوں علی پور سینٹرل جیل سے رہائی عمل میں آئی تھی۔ جیل سے رہائی کے وقت ملزمین کے اہل خانہ جیل کے احاطہ میں موجود تھے۔ نور محمد کے اہل خانہ ممبئی سے خصوصی طور پر نور محمد سے ملاقات کرنے کے لیئے کولکاتہ گئے تھے۔ملزم نور محمد کے اہل خانہ نے کولکاتہ سے ممبئی واپسی پر آج جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) کے دفتر میں قانونی امدادکمیٹی کے ذمہ داران مولانا حلیم اللہ قاسمی (جنرل سیکریٹری) مفتی یوسف (خازن) ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم و دیگر سے ملاقات کی اور قانونی امداد دیئے جانے پر جمعیۃ علماء کا شکریہ ادا کیا۔دوران ملاقات مفتی حفیظ اللہ(ناظم تنظیم)، مولانا اسلم(رکن عاملہ)، مولانا معراج الحق قاسمی و دیگر بھی موجود تھے۔اس موقع پر نور محمد کے اہل خانے نے ذمہ داران کو کہا کہ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے وہ شکر گذار ہیں، مرحوم گلزار اعظمی کی کوششیں بھی ہمیشہ شامل حال رہی ہیں، اگروہ آج زندہ ہوتے تو نور محمد کی رہائی پربہت خوش ہوتے۔نور محمد کے اہل خانہ نے کہا کہ حالانکہ نور محمد کی جیل سے رہائی ہوچکی ہے لیکن عدالتی پابندیوں کی وجہ سے وہ کولکاتہ سے ممبئی آنے سے قاصر ہیں لیکن کولکاتہ سے باہر جانے پر عائد پابندی میں ترمیم کے لیئے ٹرائل کورٹ میں عرضداشت داخل کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جیل سے نو ر محمد کے ساتھ مقدمہ میں شامل ملزمین نے جمعیۃ کے نام پیغام بھیجاہے اور ان کی جیل سے رہائی کے لیئے کوشش کرنے کی گذارش کی ہے۔اس موقع پر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی حسب سابق کام کررہی ہے نیز انہیں دیگرملزمین کی جیل سے رہائی کے لیئے کوشش کی جائیگی۔واضح رہے کہ ملزمین پر الزام ہے کہ انہوں نے 23/جولائی 2001ء کو مغربی بنگال کے شہر کولکاتہ کی مشہور جوتے کی کمپنی کے مالک روئے برمن کو اغواء کرنے والے معاملے میں ملوث تھے نیز اغواء سے حاصل ہونے والی رقم کو انہوں نے کولکاتہ امریکن سینٹر پر حملہ میں استعمال کیا تھا۔نچلی عدالت سے ملزمین کو عمر قید کی سزا ہوئی تھی جس کے بعد کولکاتہ ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی گئی، ایک جانب جہاں کولکاتہ ہائی کورٹ نے اپیل سماعت کے لیئے قبول کرلی وہیں ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں مسترد کرد ی تھی لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت منظور ہونے کے بعد ملزمین کی رہائی ہوسکی، سپریم کورٹ کے حکم کا فائدہ دیگر ملزمین کو بھی ملنے کی امید ہے۔

Related posts

Dr. Mohammad Ayub :اسمبلی انتخاب میں تین صوبوں کے نتائج پر مسلمانوں کو نظرثانی کی ضرورت :ڈاکٹر ایوب

Siyasi Manzar

بلقیس کے مجرمین کی سزا بحال ہونے سے عدلیہ کا بلند ہوا وقار:ڈاکٹر ایوب

Siyasi Manzar

چھتیس گڑھ میں ’’آپ ‘‘کی حکومت بنی تو 3200روپے میں دھان خریدیں گے:کیجریوال

Siyasi Manzar

Leave a Comment