Siyasi Manzar
راجدھانی

اولاد رب کی طرف سے انمول نعمت ہے اس کی صحیح تربیت کرنی والدین کی ذمہ داری ہے:مولانا وسیم احمد مدنی

نئی دہلی 03؍نومبر2023(پریس ریلیز)اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے ۔ قرآن کریم نے اسے دنیا کی رونق اورزیب وزینت قرار دیا ہے اور حدیث نبوی میں مرنے کے بعد اولاد کی دعا کو صدقۂ جاریہ بتایا ہے ۔ انبیاء ورسل بھی صالح اولاد کے لیے اللہ رب العالمین سے دعا مانگا کرتے تھے ۔ اولاد یہ ہمارے دل کا سرور ، آنکھوں کی ٹھنڈک اورباعث خوشی ومسرت ہوتی ہے مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب وہ صالح ونیک ہو۔ ورنہ یہی اولاد امتحان وآزمائش کا سبب بن جاتی ہے ۔ اسی لیے اللہ رب العالمین نے ماں باپ کو اولاد کی تربیت کا سخت حکم دیا ہے ۔ فرمایا : ’’اے اہل ایمان ! تم اپنے آپ کو اور آل واولاد کوجہنم کی آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن لوگ اورپتھر ہوں گے ۔‘‘اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص اپنے ماتحتوں پر محافظ ونگہبان ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کی بابت سوال کیا جائے گا ۔
ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاداسلامک اویکننگ سنٹر ، نئی دہلی کے اعلیٰ تعلیمی وتربیتی ادارہ’’ جامعہ اسلامیہ سنابل‘‘ کے سینئرمدرس محترم مولانا وسیم احمد سنابلی مدنی حفظہ اللہ نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق جوگابائی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا ۔مولانا نے فرمایا کہ تربیت کے ناحیہ سے عام لوگ کا یہ خیال ہوتا ہے کہ بچہ ابھی چھوٹا ہے بڑا ہوگا تو خود سمجھ دار ہوجائے گا،یہ والدین کی خام خیالی ہے ۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ بچپن میں کی جانے والی تربیت ہی پائیدار اورمضبوط ہوتی ہے ، کیونکہ اس وقت بچوں کا ذہن صاف وشفاف اورخالی ہوتا ہے، اس عمر میں جوبات انہیں ذہن نشین کرادی جائے تووہ پتھر کی لکیر کی طرح پائیدار اورمضبوط ہوتی ہے ۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : کہ ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے اس کے والدین اسے یہودی و نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں ۔ یعنی ولادت کے وقت بچہ برائیوں سے دور ، طہارت وپاکیزگی اورایمان کے نور سے مالا مال ہوتا ہے و ہ جیسا ماحول پاتا ہے اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیتا ہے ۔
تعلیم وتربیت کے تعلق سے ہمارے معاشرے میں چار طرح کے والدین پائے جاتے ہیں:
۱- وہ والدین جواپنے بچوں کو دنیا وی وعصری تعلیم کے لیے وقف کردیتے ہیں۔ دینی تعلیم دلانے کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے۔ ایسے بچے ہی آگے چل کر صرف نام کے مسلمان ہوتے ہیں اور ہر غلط افکار ونظریات کا بآسانی شکار بن جاتے ہیں۔
۲- وہ والدین جوبچوں کو صرف دینی تعلیم کے حصول کے لیے وقف کردیتے ہیں، ان کی ذمہ داری ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں بچوں کو عصری تعلیم کم سے کم اتنا ضرور دلادیں جس سے انہیں احساس کمتری کا شکار نہ ہونا پڑے ۔
۳- وہ والدین جواپنی معاشی مجبوریوں یا بعض دیگر وجوہ سے اپنے بچوں کو اپنے پیشوںمیں لگادیتے ہیں ۔ یا محنت ومزدوری کے لیے انہیں بھیج دیتے ہیں، ایسے لوگ اپنے بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرتے ہیں اوران کی زندگی تباہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں۔
۴- وہ والدین جواپنے بچوں کوعصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم دلانے کا التزام کرتے ہیں یہ لوگ قابل صد مبارکباد ہیں ۔ انہیں اس نظام کوفروغ دینے اور دوسروں کواس کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تربیت میں عقائد صحیحہ ، ارکان اسلام، عبادات، فرائض وسنن اوراخلاق وآداب کی صحیح تعلیم کا انتظام ہر ماں باپ کوکرنا چاہتے ۔ اسی میں ان کی اوران کے بچوں کی بھلائی اور کامیابی کا راز مضمر ہے ۔اخیر میں دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔

Related posts

Jamal Siddiqui:تصوف ایک روشنی کی مانند ہے، جو تشدد سے خوف زدہ دنیا کو روشنی دکھا سکتا ہے: جمال صدیقی

Siyasi Manzar

مہرولی نئی دہلی میں حضرت شیخ مخدوم سماءالدین سہروردی کے 543 ویں سالانہ عرس کا عالمی شرکت کے ساتھ اختتام

Siyasi Manzar

کانگریس کو بڑا جھٹکا، ارویندر سنگھ لولی کا دہلی صدر کے عہدے سے استعفیٰ ملکارجن کھرگے کو خط بھیجا گیا

Siyasi Manzar

Leave a Comment