Siyasi Manzar
راجدھانی

انڈین یونین مسلم لیگ کے رکن پارلیمان ای ٹی محمد بشیر نے پارلیمنٹ میں عدلیہ سے جڑے مسائل پر آواز اٹھایا

نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ لوک سبھا میں سرمائی اجلاس کے پہلے دن پیر کو وکلاء کی فلاح و بہبود انہیں سیکورٹی فراہم کرنے اور عدالت میں دلالی کو روکنے کیلئے ‘وکلاء (ترمیمی) بل 2023 ‘کو صوتی ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ اس پر انڈین یونین مسلم لیگ کے رکن پارلیمان (پپنانی حلقہ) ای ٹی محمد بشیر نے اپنی تقریر میں کہا کہThe Advocates Act of 1961  ایڈوکیٹس ایکٹ 1961کچھ مستند رپورٹس اور جوڈیشیل کمیشن کی سفارشات پر مبنی تھا۔ 1961کا ایکٹ پیرنٹ ایکٹ میں اٹھائے گئے تمام مسائل کا احاطہ کرتا ہے اور یہ بالکل درست ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، دلالوں کے متعلق خاص شق وہاں چھوٹ گیا تھا۔یہ اس کو پر کرنے کے لیے ہے۔ یہ ایکٹ کا دائرہ کا ر ہے اور یہ ٹھیک ہے۔ ای ٹی محمد بشیر نے چیئر سے مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ عزت مآب چیئر پرسن صاحب، میں ایک بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے دوسرے معزز اراکین کی تقریر یں سنی ہیں۔ ممبران وہ نہ صرف رکن پارلیمان ہیں ان میں سے کئی نامور وکیل اور قانونی ماہرین بھی ہیں۔ وہ سب کچھ مخصوص خدشات ظاہر کررہے تھے۔سب سے پہلے، دلالوں کی شناخت اور فہرست بنانے کا طریقہ کار کیا ہے؟۔ اس ایکٹ میں جو طریقہ کار طے کیا گیا ہے ا س میں الجھن ہے۔ لہذا، اس پرنظر ثانی کرنی ہوگی۔ ممبران ہمارے ملک کے عدالتی نظا م میں بگاڑ جیسے کچھ سلگتے ہوئے مسائل کا حوالہ دے رہے تھے۔اسی طرح، ایک وسیع قسم کی تنقید بھی عام ہے کہ ہندوستانی عدلیہ کی غیر جانبداری اور آزادی کسی طرح کم ہوتی جارہی ہے۔ یہ بھی ایک تشویشناک نکتہ ہے۔ ایک اور نکتہ جو آپ نے اٹھایا ہے وہ پسماندہ طبقات، ایس سی، ایس ٹی اور اوبی سی طبقات کی عدلیہ میں نمائندگی کی کمی ہے۔ جہاں تک ان پسماندہ طبقات کا تعلق ہے، اعلی عدلیہ میں کوئی انصاف پسندانہ مقابلہ نہیں ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ عدلیہ میں امانت داری کی سختی سے پابندی ہونی چاہئے۔ ہر قسم کے غیر منصفانہ طرز عمل کو روکا جائے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے۔ شفافیت اور اخلاقی اقدار کی بھی سختی سے پابندی ہونی چاہئے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ موجودہ ڈھانچے میں کوئی خامی نہ ہو جس سے ہمارے ملک کے عدالتی نظام میں اعتما دختم ہوجائے۔ جناب، ہم سب وکلاء کی ذمہ داری جانتے ہیں۔ با رکونسل آف انڈیا کے پارٹIVکے باب ٰٰٰIIکا سیکشن 1  وکالت کے ضابطہ اخلا ق اور آداب کو وضع کرتا ہے اور عدالتوں میں وکالت کے فرائض کو تعین کرتا ہے۔ یہ بہت واضح ضابطہ اخلاق وضع کیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وکلاء کو کوئی ایسا کیس نہیں لینا چاہئے جہاں موکل کی سوچ غلط ہو۔ اس پہلو پر بھی وضاحت ہونی چاہئے۔ اسی طرح، غیر منصفانہ طرز عمل، جہاں بھی ہوں، اسے روکا جانا چاہئے اور اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔ یہی نہیں، ضابطہ اخلاق یہ بھی کہتا ہے کہ وکلاء کو غیر مجاز طریقوں کو فرو غ نہیں دینا چاہئے، اور انہیں کام کی تشہیر اور درخواست سے بھی گریز کرنا چاہئے۔ اس قسم کی کیونسنگ بھی نہیں ہونی چاہئے۔ اس کو بھی براعمل سمجھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح وکلاء کی ذمہ داریوں کی بھی درجہ بندی کی گئی ہے۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالتوں میں انصاف کریں۔ اس لحاظ سے ججوں سے تعلق بھی بہت اہم چیز ہے۔ درحقیقت وکلاء کا پیشہ صرف ایک عام پیشہ نہیں ہے۔ یہ ایک بہت ہی مقدس پیشہ ہے۔ ایک وکیل کا فرض ہے کہ وہ اپنے موکل کو کسی قسم کی غیر منصفانہ طرز عمل نہ کرنے کی تعلیم دے۔ جہاں تک عدالتی اعتبار، شفافیت اور احتساب کا تعلق ہے، پورا ملک اس سے پریشان ہے۔ عدلیہ میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ایک تشویشناک قسم کی چیز ہے۔ ہمیں اس پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ ججوں اور وکلاء کا رشتہ بہت اہم چیز ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ بار، یعنی اڈوکیٹ اور بنچ یعنی ججز، انصاف کے فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جج وکلاء کی مدد سے قانون کا نظم کرتے ہیں۔ وکلاء عدالت کے افسر ہیں۔ یہ ایک بہت اہم چیز ہے۔ بدقسمتی سے، ایک قسم کی غلط فہمی ہے جو بعض ججوں اور وکلاء کے ساتھ پیدا ہورہی ہے۔ یہ بھی ایک غیر صحت بخش عمل ہے۔ اس پر بھی برائے مہربانی توجہ دی جاسکتی ہے۔ جناب، آخرمیں ایک بات کہنا چاہوں گا کہ ایک پیچیدہ صورتحال ہے۔ جج ایک بہت طاقتور عہدہ ہے اور ہمارے آئین کے مطابق بہت اہم ہے۔ لیکن میں اس ایوان کی بلند و بالا سوچ کے لیے عرض کرنا چاہتا ہوں، یہ ججوں کی دوبارہ تقرری کے بارے میں ہے۔ بدقسمتی سے ججوں کو امید ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت انہیں کوئی نئی تقرری دے سکتی ہے۔ کیا یہ ایک صحت مند عمل ہے؟۔ اگر اس طرح کا عمل جاری رہا تو کیا اس سے عدلیہ کی شفافیت اور احتساب متاثر نہیں ہوگی؟۔ جہا ں تک ہندوستان کا تعلق ہے اس پر اب بحث کی جانی چاہئے۔ ان تقرریوں کی کہانی ہم سب جانتے ہیں۔ میں اس کی گہرائی میں نہیں جانا چاہتا۔ ریٹائرڈ ججوں کے ذہن میں یہ تاثر نہیں ہونا چاہئے کہ اگر ہم حکومت کے تعاون کے لیے کچھ کریں گے تو ریٹائرمنٹ کے بعدہمیں کسی اور جگہ بہتر تقرری ہوسکتی ہے۔ اس قسم کا رجحان ایک برا رجحان ہے۔ اس قسم کے رجحان کی حوصلہ افزائی نہیں کی جانی چاہئے اور ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ کیا ہم ریٹائرمنٹ کے بعد ججوں کو اس قسم کی تقرریاں دے سکتے ہیں۔ ان چند الفاظوں کے ساتھ میں اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ شکریہ۔

Related posts

شعبۂ تعلیمی مطالعات میں منعقد جشنِ اردو پروگرام میں امتیاز احمد کی ترجمہ شدہ کتاب ’’ارتقائے خودی اور تعلیم‘‘ کی رسمِ رونمائی

Siyasi Manzar

Maulana Arshadmadani Jamiat Ulema-e-Hind: نفرت اورتفریق کی یہ سیاست ملک کو ترقی نہیں تباہی کے راستہ پر لے جانے والی ہے: مولانا ارشدمدنی

Siyasi Manzar

مرکز کی بی جے پی حکومت متوسط اور چھوٹے تاجروں کی دشمن ہے:ارودندر سنگھ لولی

Siyasi Manzar

Leave a Comment