Siyasi Manzar
راجدھانی

اندرلوک واقعہ :یہی ہے نئے ہندوستان کی حقیقی تصویر

برخواستگی کوئی سزانہیں،ایس آئی منوج کمارتومرکے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہئے:مولاناارشدمدنی

نئی دہلی(پریس ریلیز)جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے دہلی کے اندرلوک علاقہ میں نمازیوں کے ساتھ نمازجمعہ کے دوران دہلی پولس کے ایک ایس آئی کی طرف سے کئے گئے نارواں سلوک کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اندرلوک واقعہ آج کے نئے ہندوستان کی نئی تصویرہے جس میں ایک مخصوص فرقہ کے خلاف لوگوں کے ذہنوں میں اتنی نفرت بھری جاچکی ہے کہ مسلمانوں کودیکھ کردہلی پولس کاایک ایس آئی جوپی پی اندرلوک کاانچارج بھی تھا نفرت میں اندھاہوکر اپنا اخلاق اپنی تہذیب اوردوسرے مذاہب کے احترام کاجزبہ تک فراموش کردیتاہے، واضح ہوکہ آج اندرلوک علاقہ میں کچھ لوگ مسجدسے متصل فٹ پاتھ پر جمعہ کی نماز اداکررہے تھے تو منوج کمارتومرنامی ایس آئی وہاں آپہنچاجس نے عین نمازکی حالت میں نمازیوں کی پشت پر ٹھوکرمارکرانہیں وہاں سے ہٹ جانے کو کہا، انسانیت کا تقاضا یہ تھا کہ اس وقت پولس خاموش رہتی اگراسے کوئی قانونی کارروائی کرنی تھی تونمازکے بعد کرسکتی تھی، مولانا مدنی نے کہاکہ عین نمازکی حالت میں جس طرح وائرل ویڈیومیں ایس آئی منوج کمارتومر غصہ کی حالت میں اپنے پیرسے نمازیوں کوٹھوکر ماررہاتھا وہ اس افسوسناک سچائی کااظہارہے کہ اسے مسلمانوں سے نفرت ہے انہوں نے کہاکہ پچھلے دس برسوں کے درمیان ملک میں جس طرح کی نفرت بوئی گئی ہے، یہ واقعہ اس کی ایک زندہ تصویرہے، انہوں نے کہاکہ پولس تو امن وامان قائم کرنے کے لئے ہوتی ہے لیکن یہاں تووہ خود امن وامان کو توڑرہی ہے، شایداسے معلوم ہے کہ چونکہ معاملہ مسلمانوں سے متعلق ہے اس لئے قانون اس کابال بھی بیکا نہیں کرپائے گا، انہوں نے مزیدکہا کہ ہمیں ایک ایسے جمہوری ملک کے شہری ہیں جس میں تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں اورہرشہری کے ساتھ مساویانہ سلوک کی بات کہی گئی ہے، لیکن مذہب کی بنیادپر مسلسل جونفرت کی آگ پھیلائی گئی ہے اس نے ایک ایسی مذہبی صف بندی قائم کردی ہے کہ ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کو اب انسان بھی نہیں سمجھاجارہاہے، ایک ایس آئی کا نمازیوں کے ساتھ عین حالت نمازمیں اس طرح سلوک اس برملا اظہارہے، مولانا مدنی نے آخرمیں کہاکہ مسلمانوں کے غم وغصہ کو دیکھتے ہوئے اطلاع ہے کہ مذکورہ ایس آئی کو معطل کردیاگیاہے لیکن یہ کوئی سزانہیں ہے، اس نے جوجرم کیا ہے اس کے لئے اسے برخواست کرکے سخت قانونی کارروائی ہونی چاہئے تاکہ دوسرے لوگ اس سے عبرت حاصل کریں۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ نفرت کی جو بنیادیں قائم کی گئی ہیں انہیں ختم کئے بغیرملک سے نفرت کا خاتمہ ممکن نہیں جب تک یہ بنیادیں قائم ہیں اس طرح کے افسوسناک واقعات رونماہوتے رہیں گے۔

Related posts

’’سنہ سمواد‘‘ مہم کے رابطہ سربراہ نے قومی صدر جمال صدیقی کو رپورٹ پیش کی

Siyasi Manzar

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام بین الاقوامی غالب تقریبات 22 تا 24 دسمبر

Siyasi Manzar

لوک سبھا انتخابات 2024 کے لیے کانگریس کا منشور جاری، پرسنل قوانین کی حفاظت کا وعدہ

Siyasi Manzar

Leave a Comment