Siyasi Manzar
مضامین

اسلام امن و سلامتی کا مذہب


عبد العزیز سلفی
رسرچ اسکالر ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی، علی گڑھ
اِسلام محبت اور عدمِ تشدد کا دین ہے۔ یہ تمام اَقوام اور معاشروں کو اَمن اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے اور تمام بنی نوع اِنسان کے لیے باہمی اْخوت و محبت، تعظیم و تکریم اور باہمی عدل و اِنصاف کی تلقین کرتا ہے۔ دنیا میں صرف اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جو امن اور سلامتی کی ضمانت دیتا ہے جو ہر سطح پر دہشت گردی اور تخریب کاری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ اس کی نگاہ میں بنی نوع انسان کا ہر فرد بلا تفریق مذہب و ملت احترام کا مستحق ہے۔ آج بھی اسلام کی آفاقی تعلیمات پر عمل کیا جائے تو دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔
انسانی معاشرہ کے لئے امن وسلامتی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جس کے بغیر کوئی معاشرہ اور سماج پنپ نہیں سکتا، ہر قسم کی تمدنی ترقیات، معاشرتی فلاح و بہبود اور تہذیب وارتقاء￿ ، امن وسلامتی پر موقوف ہے۔ جس معاشرہ میں بدامنی کا دور دورہ ہو، جہاں انسانی جان ومال اور عزت وغیرہ غیر محفوظ ہوں، ہر وقت جنگ کے خطرات منڈلاتے رہتے ہوں، اس معاشرہ کے افراد کی ساری قوتیں مفلوج ہو کر رہ جاتی ہیں۔ بدامنی اور جان و مال کے عدم تحفظ کا احساس انہیں ناکارہ بنا کر رکھ دیتا ہے۔ ان کے حوصلے پست اور پڑمردہ ہو جاتے ہیں۔انسانی تاریخ کا مزاج ایسا ہی ہے کہ اگر وہ ایک خود مختار بے مہار زندگی گذارے تو پھر وہ دوسروں کو بے کار چیز سمجنے لگتا ہے سابقہ اقوام کی تاریخ اس قسم کی مثالوں سے پر ہے۔
حضرت محمد ? آخری نبی ورسول کی حیثیت سے مبعوث فرمائے جانے تک بھی انسانوں کی بڑی تعداد دنیا میں ایسی پائی جاتی تھی، جو اشرف المخلوقات کے اونچے مقام سے ناواقف تھی، اپنے مالک حقیقی کو فراموش کر بیٹھی تھی، شرافت، احترام آدمیت ختم ہو کر رہ گیا تھا، انبیا کی تعلیمات کو بھول جانے کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ وہ رات اور دن گزار نے کا خدائی طریقہ چھوڑ بیٹھے اور اپنے خود ساختہ طریقے ایجاد کر لئے اور ان کے ملکوں و علاقوں سے انسانی تقدس نا پید ہو گیا، قبیلوں میں آپسی جنگ، طاقتوروں کا کمزوروں پر ظلم، انسانی اخلاق وکردار کا خاتمہ، چھوٹی چھوٹی معمولی باتوں پر لڑائیوں کا نہ ختم ہونے والا طویل سلسلہ، جوا، شراب فروشی ، شراب نوشی، راتوں میں عیش کی محفلیں سجانا، دختر کشی، مسافروں کو لوٹ لینا، اور لوگوں کو کو غلام بنا کر دوسروں کے ہاتھ فروخت کر دینا، چوری، زنا کاری، عورتوں پر زبردستی قبضہ جمانا، یتیموں کا مال ناحق کھا لینا، بیواؤں پر ظلم و زیادتی وغیرہ نے انسانی سماج میں ایک تاریک کیفیت پیدا کر دی تھی، گویا شرف انسانی کو دیمک چاٹ گئی تھی، یہی حال دنیا کی کم و بیش نوع انسانی کا طرز عمل ہو کر رہ گیا تھا۔
مسیحیت اور یہودیت کی نگاہ میں عورتیں ہی انسانی گناہ کی بانی وذمہ دار تھیں، بدھ مت میں عورت سے تعلق رکھنے والوں کے لئے نجات کی کوئی صورت نہ تھی، ہندو مذہب میں ویدوں کی تعلیم کا دروازہ عورت کیلئے بند تھا، اور دوسری طرف نظر ڈالئے تو معلوم ہوگا کہ یونان میں عورتوں کے لئے نہ علم تھا نہ تہذیب و ثقافت تھی، نہ ہی حقوق بدنی۔ روم، ایران اور چین، مصر اور تہذیب کے دیگر مراکز کا بھی کم و بیش یہی حال تھا، صدیوں کی محرومی اور محکومی نے عورتوں میں احساس کمتری پیدا کر دی تھی اور عزت نفس کا احساس بھی تقریبا مٹ چکا تھا اور دنیا میں ان کے ساتھ برتے گئے رویہ کی وجہ سے حالات کی ماری عورتیں یہ بات بھی بھول چکی تھیں کہ وہ بھی کچھ بنیادی حقوق لے کر دنیا میں آئی ہیں یا عزت واحترام کا کوئی مقام بھی رکھتی ہیں۔ عورت اپنا مذہب پتی ورتا ( وہ عورت جو اپنے شوہر کو معبود مان لے ) بنانے پر مجبور ہو کر رہ گئی تھی۔ ایسے خزاں رسیدہ اور بے رونق انسانی و نسوانی حقوق کے اْجڑے ہوئے ویرانے میں حضرت محمد اسلام ایک امن پسند مذہب ) کے ساتھ تشریف لاتے ہیں جس سے انسانی قلوب میں سکون واطمنان و امن آیا جو اب تک مردہ ہو چکا تھا، یہ مذہب اسلام امن کے پیغام کو لے کر آگے بڑھتا اور پھیلتا رہا، انسانی اخلاق میں بھی انقلاب پیدا کرتا چلا گیا اور ہر طرف اخلاق ہی اخلاق اور امن ہی امن نظر آنے لگا۔
پیغمبر اسلام پیغمبر ِامن ہیں اور ان کا لایا ہوا دین، دینِ امن ہے۔ نبی رحمت کی حیات طیبہ، صبر وبرداشت، عفو ودرگذر اور رواداری سے عبارت ہے۔ دین اسلام زندگی کے ہر شعبہ میں ہماری مکمل راہنمائی کرتا ہے۔ وہ ہمیں امن اور سلامتی کا ’’درس‘‘ دیتا ہے۔اسلام نے ہمیشہ محبت و اخوت اور اعتدال وتوازن کا درس دیا ہے۔جبکہ انتہا پسندی دين اسلامی کی تعليمات بالکل منافی ہے۔ اس لفظ یا اصطلاح کی اسلام میں کوئی گنجائيش نہيں۔ بلکہ یہ دین کی حقیقی تعلیمات، اسلام کے پیغام امن وسلامتی اور پیغمبر رحمت، محسن انسانیت کے اسوۂ حسنہ کے بالکل منافی ہے۔ اسلام امن وسلامتی کا سر چشمہ اور انسانوں کے مابین محبت اور خیر سگالی کو فروغ دینے والا مذہب ہے۔
جعفر طیار کی تقریر اسلام کی ترجمانی کا سب سے خوبصورت پیرایہ ہے، جس میں انہوں نے معاشرہ کی بدامنی کے ماحول میں اسلام کے پر امن پیغام کو واضح کیا جس وقت نجاشی نے آپ کو دربار میں بلایا اس وقت حضرت جعفر نے اپنی تقریر کرتے ہوئے کہا:اے منصف بادشاہ! ہم جہالت کے دربار میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ہم لوگ بتوں کو پوجتے تھے، مردار کھاتے تھے، جھوٹ بولتے تھے، زنا اور فسق و فجور کو اچھا سمجھتے تھے۔ انسانیت سے ناواقف تھے۔ مسافروں کی مہمان نوازی سے آگاہ نہیں تھے۔ بدکار تھے اور بے رحم تھے۔ پڑوسیوں کے ساتھ برا سلوک کرتے تھے۔ ہم میں جو طاقتور ہوتا تھا کمزور کا حق دبا لیتا تھا۔ ہم لوگ ظلم کے سوا کوئی دوسرا قانون نہیں جانتے تھے، کہ یکا یک ہمارے مہربان پرودگار نے ہماری قوم میں ایک ہر دلعزیز شخص کو منصب رسالت عطا فرمایا۔ جس کے خاندان اور حسب و نسب سے ہم خوب واقف ہیں۔ جس کی امانتداری اور صداقت ضرب المثل ہے۔ ہم اس کی نیک چلنی سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ اس پر اللہ کا کلام نازل ہوا اور اس نے اللہ کی وحدانیت کی تعلیم دی۔ شرک سے روکا، بت پرستی‘‘ امانت میں خیانت اور پڑوسیوں پر ظلم کرنے سے منع کیا۔ سچ بولنے کی تلقین کی اللہ کے کمزور بندوں پر رحم کرنا سکھایا، مروت اور انسانی ہمدردی سے آگاہ کیا اور ہمیں ہدایت کی کہ ہم کسی پر جھوٹی تہمت نہیں لگائیں، یتیموں کا مال ناجائز طریقے سے نہ کھائیں، گناہوں سے بچیں، نماز قائم کریں، صدقہ اور خیرات سے مساکین کو نوازیں، روزہ رکھیں، جھوٹ نہ بولیں، کسی کی غیبت نہ کریں اور ہمیشہ اللہ وحد لا شریک پر یقین رکھیں۔ ہم نے اس کو اللہ کا سچا پیغمبر تسلیم کر لیا اور اس پر ایمان لے آئے۔ اس کی تمام ہدایتوں کو مان لیا اور شرک سے کنارہ کش ہو گئے۔ ان واضح اسلامی تعلیمات کے فیض سے دنیا میں انسانی جان کے تحفظ کا حیرت انگیز منظر سامنے آیا اور دنیا میں بڑی بڑی سلطنتوں کے اندر انسانی جان کی ناقدری کے خوفناک واقعات اور ہولناک تماشوں کے سلسلے اسلام کی آمد کے بعد موقوف ہوگئے اور دہشت وخونریزی سے عالم انسانیت کو نجات ملی، انہیں تعلیمات کے باعث ایک مختصر مدت میں عرب جیسی خونخوار قوم تہذیب وشرافت کے سانچے میں ڈھل گئی اور احترامِ نفس وامن و سلامتی کی علمبردار ہوکر دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل گء۔
اسلام قتل و خونریزی کے علاوہ فتنہ انگیزی، دہشت گردی اور جھوٹی افواہوں کی گرم بازاری کو بھی سخت ناپسند کرتا ہے وہ اس کو ایک جارحانہ اور وحشیانہ عمل قرار دیتاہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اصلاح کے بعد زمین میں فساد برپا مت کرو‘‘ ایک گہ فرمایا گیا: ’’اللہ تعالیٰ فسادیوں کو پسند نہیں کرتے۔اس مضمون کی متعدد آیات قرآن پاک میں موجود ہیں۔امن ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ قرآن نے اس کو عطیہ? الٰہی کے طور پر ذکر کیا ہے۔’’اہل قریش کو اس گھر کے رب کی عبادت کرنی چاہئے جس رب نے انہیں بھوک سے بچایا کھانا کھلایا اور خوف و ہراس سے امن دیا‘‘ اسلام میں امن کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت (حرم مکہ) کو گہوارہ امن قرار دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اس کے سایہ میں داخل ہونے والا ہر شخص صاحب امان ہوگا۔‘‘احادیث میں بھی زمین میں امن وامان برقرار رکھنے کے سلسلے میں متعدد ہدایات موجود ہیں مثلاً: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’صاحب ایمان‘‘ کی علامت یہ قرار دی ہے کہ اس سے کسی انسان کو بلاوجہ تکلیف نہ پہنچے – حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے جس سے لوگوں کے جان ومال کو کوئی خطرہ نہ ہو۔‘‘ایک اورموقعہ پر ظلم وتنگ نظری سے بچنے کی تاکیدکرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’ظلم سے بچو اس لئے کہ ظلم قیامت کی بدترین تاریکیوں کا ایک حصہ ہے، نیز بخل وتنگ نظری سے بچو اس چیز نے تم سے پہلے بہتوں کو ہلاک کیاہے اسی مرض نے ان کو خونریزی اورحرام کو حلال جاننے پر آمادہ کیا۔‘‘بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ کہ اللہ کی قسم! مومن نہیں ہوسکتا، اللہ کی قسم مومن نہیں ہوسکتا، کسی نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ کون مومن نہیں ہوسکتا؟ فرمایا کہ جس کے شر سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں۔‘‘ (بخاری: حدیث نمبر۶۱۰۶) حضرت جریر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔‘‘

 

Related posts

ماہ رمضان اور ہماری تقوی شعاری

Siyasi Manzar

چھوٹے بچوں میں موبائل فون کا زیادہ استعمال تباہی کا باعث

Siyasi Manzar

آپ مایوس نہ ہوں، آپ نے کوشش تو پوری کی…

Siyasi Manzar

Leave a Comment