Siyasi Manzar
مضامین

اتراکھنڈ حکومت کا یکساں سول کوڈ ایک سیاسی چال اور متاکشرا اسکول کے پیروکاروں کیلئے نقصاندہ

اڈوکیٹ شرف الدین احمد
قومی نائب صدر
ایس ڈی پی آئی
اتراکھنڈ کی قانون ساز اسمبلی نے 6 فروری 2024 کو ایک قانون منظور کیا اور ملک کی پہلی ریاست بن کر یکساں سول کوڈ نافذ کیا ۔جس میں ریاست کی تمام برادریوں کے لیے شادی، طلاق، جائیداد کی وراثت وغیرہ کے لیے عام قوانین کی جگہ نئی دفعات لاگو کی گئی ہیں۔ اس سے پہلے ہر مذہب کے الگ الگ ذاتی قوانین کے تحت چلایا جاتا تھا۔
عجیب بات یہ ہے کہ یو نیفارم سول کوڈ (UCC) آئین ہند کے آرٹیکل 142 کے ساتھ پڑھے گئے آرٹیکل 366 کی شق (25) کے معنی کے اندر کسی بھی درج فہرست قبائل(ST)کے ارکان پر لاگو نہیں ہوگا اور وہ افراد اور افراد کا گروہ پر لاگو نہیں ہوگا جن کے روایتی حقوق آئین ہند کے حصہXXIکے تحت محفوظ ہیں۔
قانون کے دائرہ کار سے لوگوں کے ایک طبقے کا یہ اخراج خود نئے قانون کے مقصد میں ناکام ہو جاتا ہے جسے ریاست کا عام قانون نہیں کہا جا سکتا اور بی جے پی کے متعین مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔
ریاستی یونیفارم کوڈ ایسے بہت سے فوائد کو چھین لیتا ہے جن سے ہندو برادری پورے ملک میں سابقہ ہندو کوڈ کے تحت لطف اندوز ہوتی رہی ہے۔
٭نیا قانون ہندو برادری کے مشترکہ حقوق کو ختم کرتا ہے جو لا ء آف ڈی لینڈ کے ذریعے متاکشرا اسکول کے پیروکاروں کو دیے گئے ہیں جو ہندو مشترکہ خاندان کے تصور پر عمل پیرا ہیں۔Mitakshara(متاکشرا) اسکول ایک مشترکہ آباؤ اجداد سے تعلق رکھنے والے مرد نسل کو باہمی حقوق فراہم کرتا ہے، جس سے وہ چار نسلوں تک آبائی جائیداد میں حصہ لے سکتے ہیں۔ شریک ملکیت کا یہ اصول والد کی زندگی کے دوران توسیع ہوتا ہے۔
٭نیا قانون ہندو مشترکہ خاندان کے افراد کو انکم ٹیکس کی چھوٹ کے حق سے انکار کرتا ہے جو انہیں پرانے ہندو کوڈ کے تحت حاصل تھا۔
٭نئے قانون میں باپ کے زندہ ہوتے ہوئے بیٹے کی موت کی صورت میں وراثت سے متعلق مسلم قانون سے اصول لیا گیا ہے۔ نیا ضابطہ باپ کو براہ راست انحصار کرنے والوں کی فہرست میں شامل کرتا ہے، اگر بیٹا بلا وصیت کئے مر جاتا ہے۔ پرانے ہندو کوڈ میںماں کو مرنے والے بیٹے کی براہ راست انحصار کے طور پر فہرست میں شامل کیا گیا ہے اور باپ کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔
٭مسلم پرسنل لاء کے مطابق، کسی کی جائیداد کا صرف ایک تہائی حصہ وصیت کے ذریعے دیا جا سکتا ہے۔ لیکن نئے ضابطہ نے اس حد کو ختم کر دیا گیا ہے اور نئے قانون کے مطابق پوری جائیداد وصیت کے ذریعے کسی کو بھی دی جا سکتی ہے۔
٭ ایک اور نکتہ حلالہ کو مجرمانہ بنانا ہے جو کہ ایک عملی یا قانونی مسئلہ سے زیادہ سیاسی ہے جبکہ لاوارث خواتین کے بڑے مسئلے کو بغیر توجہ کے چھوڑ دیا گیا ہے۔ یا جیسا کہ فوت شدہ والدین کی جائیداد میں بیٹے اور بیٹی کو وراثت کا مساوی حق قرار دینا مسلم قانون سے متصادم ہے۔
٭اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بدھ مت اور ہندو برادری میں ایک وقت میں دو شوہر یا دو بیویوں کو رکھنا اور تعدد ازدواج پر زیادہ عمل کیا جاتا ہے اور اس پر پابندی لگانے سے یہ برادریاں زیادہ متاثر ہوں گی۔ بیوی کے علاوہ دیگر شریک حیات کے حقوق کے تحفظ کا مسئلہ کسی بھی طرح محفوظ نہیں ہے۔
آرٹیکل 44 ڈی پی ایس پی(DPSP) کو بی جے پی الیکشن جیتنے کے لیے سیاسی چال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
اتراکھنڈ میں یو نیفارم سول کوڈ (UCC) حقیقی مسائل سے بے نیاز ہے اس لیے یہ ایک خالص سیاسی چال ہو سکتی ہے جو ریاست کے اکثریتی لوگوں کے لیے طویل مدت میں سماجی زندگی کی حقیقتوں کے پیش نظر قابل قبول نہ ہو کیونکہ یہ ہندو برادری کو زیادہ بری طرح متاثر کرتی ہے۔

(قلم کارکے نظریات ان کے اپنے ذاتی ہیں ادارہ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

Related posts

اسرو کے سائنسدانوں کی کامیابی دیہی لڑکیوں کو راستہ دکھاتی ہے

Siyasi Manzar

اہل غزہ کیلئے سعودی عرب کی بے مثال سخاوت

Siyasi Manzar

صرف عورت ہی ذمہ دار کیوں؟

Siyasi Manzar

Leave a Comment