انجینئر محمود اقبال ہندوستانی فلمی تاریخ کا ایک اہم نام ’مینا کماری‘ ہے،جن کا اصلی اور پیدائشی نام’مہ جبین بانو‘ہے۔انہیں’ ٹریجڈی کوئین‘کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یعنی ’ملکۂ المیہ‘۔فلموں میں المیہ اداکاری کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی اورازدواجی زندگی بھی مایوسیوںاور المیوں کا شکار رہی ہے ۔ایک عظیم شاہکارفلم ’پاکیزہ‘ سنیما گھروں میں دوبارہ جلد جلوہ گر ہونے جارہی ہے۔50سال سے زیادہ عرصہ بعد، فلم ’پاکیزہ‘ جدید دور کے ناظرین کے لئے ایک نئے روپ میں واپس آ رہی ہے۔اس کے دلکش اور وسیع سیٹ، شوخ رنگ، شاعرانہ اردو مکالمے اور کلاسیکی موسیقی نے پرد ئہ سیمیں پر ایک عظیم نظارہ پیدا کر دیا تھا۔یہ ایک ایسی فلم تھی جو کسی نوعمر ناظر کے ذہن پر انمٹ نقوش چھوڑ سکتی ہے،خواہ، اس کی تخلیق کو کئی دہائیاں گزر چکی ہوں۔اب، 1972ء میں ریلیز ہونے کے نصف صدی سے زیادہ عرصے بعد، ہندوستان کی ’فلم ہیریٹیج فاؤنڈیشن‘ (Film Heritage Foundation)نے ’پاکیزہ‘ کو جدید ترین 4K ٹیکنالوجی کے ذریعہ بحال کیا ہے۔جو آج کے دور میں انتہائی اعلیٰ’ تصویری وضاحت‘ فراہم کرتی ہے۔ اس فلم کا عالمی پریمیئراس سال اکٹوبرمیں فرانس کے شہر’ لیون‘ (Lyon)میں منعقد ہونے والے’ فیسٹیول لومئیر‘(Festival Lumière) میں 10سے18 اکٹوبرکے درمیان ہو ا۔امروہی خاندان کا اس بحالی میں غیر معمولی تعاون حاصل رہا۔’فلم ہیریٹیج فاؤنڈیشن آف انڈیا ‘کے ڈائریکٹر شیویندر سنگھ ڈنگرپور کے بیان کے مطابق ’’پاکیزہ، میری زندگی میں فلموں کی بحالی کا سب سے اہم منصوبہ رہی ہے‘‘۔ان کی زیرِ قیادت یہ ادارہ کئی دوسری اہم فلموں کو بھی بحال کر چکا ہے۔ ان میں مقبولِ عام کلاسیکی فلم’شعلے‘(1975ء)، آرٹ سنیما کی اہم فلم’منڈی‘ (1983ء)، اور ستیہ جیت رے کی عالمی شہرت یافتہ فلم ’ارنیئر دن راتری‘Aranyer Din Ratri) )1970ء یعنی انگریزی میں (Days and Nights in the Forest) شامل ہیں۔ ’ملکہ المیہ‘ اور ’پاکیزہ‘ کی کہانی اور داستان سے پہلے ہم یہ جان لیتے ہیں کہ 4K ٹکنالوجی آخر ہے کیا؟ 4K،ایک جدید تصویری ٹیکنالوجی ہے جس میں ٹیلی ویژن، فلموں اور ویڈیوز کی تصاویر بہت زیادہ صاف، باریک تفصیلات کے ساتھ اور اعلیٰ معیار میں دکھائی دیتی ہیں ۔ اسے Ultra High Definition(UHD) بھی کہا جاتا ہے۔4Kکا مطلب کیا ہے؟4K میں حرف ’K‘ سے مراد ہزار (1000) ہے۔ اس کی عام ٹی وی ’اسکرین کی وضاحت‘(Screen Resolution) یعنی’ تصویری نقاط‘(Pixels) کی تعداد اس طرح ہوتی ہے ۔) (4K:3840X2160 پکسلز،) (Ful HD:1920X1080پکسلز یعنی 4K اسکرین میںفل ایچ ڈی (Full HD) کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ پکسلز(Pixels) ہوتے ہیں۔تصویری معیار کا موازنہ کچھ اس طرح سے ہے۔ ) (Ful HD:1920X1080پکسلز۔تصویر صاف ہوتی ہے، لیکن باریک تفصیلات کم ہوتی ہیں۔ (4KUHD:3840X2160) پکسلز۔تصویر میں زیادہ باریک تفصیلات اور زیادہ وضاحت نظر آتی ہے۔مختصراً، جب کسی پرانی فلم کو 4K میں’ بحال‘ (Restore) کیا جاتا ہے تو اس کے اصل فلمی مواد کو’ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی‘سے صاف ستھرا اور بہتر بنایا جاتا ہے۔تصویر کی خراشیں اور گردوغبار کم کیے جاتے ہیں۔ چہروں، لباس اور پس منظر کی تفصیلات بھی بہتر کی جاتی ہیں۔ رنگوں اور روشنی کو درست کیا جاتا ہے۔آواز کو بھی الگ سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔اہم بات یہ کہ 4K بحالی کا مطلب یہ نہیں کہ فلم دوبارہ بنائی گئی ہو۔ ’پاکیزہ‘ کی صورت میں یہ اصل فلم کو جدید معیار میں پیش کرنے کا عمل ہے، نہ کہ اس کا ’ریمیک‘(Remake)۔واضح رہے کہ 4K کا لطف اٹھانے کے لیے 4K اسکرین اور مناسب معیار کی 4K ویڈیو یا فلم بھی درکار ہوتی ہے۔ جدید ٹکنالوجی کو جاننے کے بعد اب ہم فلم ’پاکیزہ‘پر آتے ہیں۔ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں شاید ہی کوئی دوسری فلم ایسی ہو جس میں اس قدر عظیم فنکاروں اور نابغہ روزگار کلاکاروں کا اجتماع ہوا ہو۔کمال امروہوی کی تحریر کردہ اور انہیں کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں المیہ اداکاری کی بے تاج ملکہ، مینا کماری اور راج کمار نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔ اس کی موسیقی نابغہ روزگار موسیقار غلام محمد اور موسیقی کے عظیم استاد نوشاد نے دی ہے۔14 برس کے طویل عرصے میں محبت اور محنت سے تخلیق کی جانے والی ’پاکیزہ‘ نے سیاہ و سفید فلموں سے رنگین فلموں کی جانب منتقلی کا دور بھی دیکھا۔ ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں اس جیسی فلم دوبارہ کبھی تخلیق نہیں ہو سکی۔اس لیے ’پاکیزہ‘کی بحالی کا کام کبھی بھی آسان نہیں ہو سکتا تھا۔سب سے بڑا صدمہ اس وقت پہنچا جب ’فلم ہیریٹیج فاؤنڈیشن آف انڈیا ‘کو معلوم ہوا کہ فلم کا اصل کیمرہ نیگیٹو، جو بحالی کے عمل میں سب سے قیمتی مواد سمجھا جاتا تھا ، پگھل کر مکمل طورپر ضائع ہو چکا تھا۔ اس انکشاف نے بحالی کے لیے کام کرنے والی ٹیم کو شدید مایوسی سے دوچار کر دیا تھا۔تاہم امید کی کرن اس وقت نمودار ہوئی ،جب فلم کا ایک’ انٹرپازیٹو پرنٹ ‘اور بعد ازاں ایک’ کلر ریورسل انٹرنیگیٹو‘ (CRI) پونے میں واقع’ نیشنل فلم آرکائیوز آف انڈیا‘ (NFAI) میں مل گیا۔اگرچہ دستیاب مواد کا معیار تسلی بخش نہیں تھا، لیکن ڈنگرپور کو یقین تھا کہ یہ فلم اتنی اہم ہے کہ اس کی بحالی کی امید ترک نہیں کی جا سکتی۔وہ کہتے ہیںکہ’’میں اس فلم کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتا تھا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس نے فلم سازوں کی ایک پوری نسل کو متاثر کیا ہے، جن میں سنجے لیلا بھنسالی جیسے فلم ساز بھی شامل ہیں‘‘۔انہوں نے فلم کے پروڈیوسروں کو بھی اس بات پر آمادہ کیا کہ ’پاکیزہ‘کو موجودہ نسل تک پہنچانا کتنا ضروری ہے، کیونکہ آج کے بہت سے نوجوانوں نے مینا کماری کو بڑے پردے پر کبھی نہیں دیکھا۔فرانس کے شہرلیون( (Lyonمیں عالمی پریمیئر کے بعد، اور پھر’ بی ایف آئی لندن فلم فیسٹیول‘ میں نمائش کے بعد، ’پاکیزہ‘ دوبارہ ہندوستانی سنیما گھروں میں پیش کی جائے گی۔ یوں ایک ایسی فلم، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ رفتہ رفتہ ہمیشہ کے لیے نظروں سے اوجھل ہو جائے گی، بالآخر دوبارہ اسی مقام پر دکھائی دے گی جہاں اس کا اصل حق ہے۔ سنیما کے بڑے پردے پر اور اپنے مداحوں کے درمیان۔مینا کماری،ہندوستانی فلمی تاریخ کی ان عظیم اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں، جنہوں نے اپنی پُراثر اداکاری، دل نشیں آواز، جذبات سے لبریز آنکھوں اور شائستہ مکالمہ نگاری کے ذریعہ ناظرین کے دلوں میں مستقل جگہ بنائی۔ انہیں بالخصوص ’ٹریجڈی کوئین‘یعنی،’ملکہ ا لمیہ‘کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔وہ صرف ایک اداکارہ نہیں ، بلکہ اردو شاعری سے بھی گہرا شغف رکھتی تھیں اور’ناز‘تخلص سے شعر کہتی تھیں۔ ان کی زندگی میں شہرت، فن، محبت، تنہائی اور ذاتی مشکلات کے کئی پہلو یکجا ہو گئے تھے۔ مینا کماری کی پیدائش یکم اگست، 1933ء کو دادر، بمبئی( موجودہ ممبئی) میں ہوئی۔ ان کے وا لد علی بخش‘ سینما سے وابستہ فن کار اور موسیقی کے شوقین تھے۔ جبکہ والدہ اقبال بیگم بھی اداکاری اور اسٹیج کے فن سے تعلق رکھتی تھیں۔ان کا خاندان مالی مشکلات سے دوچار تھا۔ اسی وجہ سے مینا کماری کو کم عمری ہی میں فلموں میں کام کرنے پر مجبور ہونا پڑا، اور وہ اپنے خاندان کی کفالت میں اہم کردار ادا کرنے لگی ۔ ان کی زندگی کا آغاز ہی نامساعد حالات میں ہوا جنہوں نے ان کے بچپن کو عام بچوں سے مختلف بنا دیا تھا۔ مینا کماری نے بچپن ہی میں فلمی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا۔1939ء کی فلم (Leather face)میں وہ ننھی بچی کی حیثیت سے سامنے آئیں اور اس دور میں انہیں’بے بی مینا‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔بعد کے برسوں میں انہوں نے متعدد فلموں میں کام کیا۔1946ء کی فلم ’بچّوں کا کھیل ‘سے ان کا نام’ مینا کماری ‘کے طور پر نمایاں ہوا۔ ابتدا میں وہ محض ایک ننھی اداکارہ تھیں ، لیکن رفتہ رفتہ ان کی فطری اداکاری اور تاثرات کی گہرائی نے انہیں ایک ممتاز فن کارہ بنا دیا۔1952ء میں ریلیز ہونے والی فلم’بیجو باورا‘مینا کماری کے فلمی سفر میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔ اس فلم میں ان کی اداکاری نے انہیں ملک گیر شہرت عطا کی تھی۔1954ء میں انہیں اسی فلم کے لیے فلم فیئر کا بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ملا۔ یہ’ فلم فیئر‘ کی تاریخ میں بہترین اداکارہ کے زمرے کا پہلا ایوارڈ تھا۔ اس کامیابی نے ان کے لیے فلمی دنیا میں بڑے کرداروں کے دروازے کھول دئیے تھے۔ بعد میں انہوں نے رومانوی، سماجی، تاریخی اور المیہ کرداربھی ادا کیے ۔ لیکن، ان کی اصل شناخت ان کرداروں سے بنی جن میں عورت کی بے بسی، محبت، قربانی، محرومی اور داخلی کشمکش نمایاں ہوتی تھی۔’پری نیتا‘(1953ء)، فلم میں مینا کماری نے محبت، سماجی بندشوں اور جذباتی کشمکش سے دوچار عورت کا کردار ادا کیا۔ اس فلم نے ان کی سنجیدہ اداکاری کی صلاحیتوں کو مزید نمایاں کیا۔’صاحب بی بی اور غلام‘(1962ء) فلم میں انہوں نے چھوٹی بہو کا کردار ادا کیا، جو اپنے شوہر کی توجہ اور محبت کے لیے ترستی ہے۔ ان کی اداکاری نے عورت کی تنہائی، محرومی اور ازدواجی زندگی کے المیے کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا۔’کاجل‘ (1965ء)فلم میں ان کی اداکاری کو بہت سراہا گیا۔ اسی فلم کے لیے انہیں1966ء میں فلم فیئر کا بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ملا۔ ’میرے اپنے‘(1971ء)گلزار کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں انہوں نے’ آنندی دیوی ‘کا کردار ادا کیا۔ یہ کردار ان کے فن کے ایک مختلف اور پُراثر پہلو کو سامنے لاتا ہے۔ان فلموں کے علاوہ’ آرتی‘،’ دل اپنااورپریت پرائی‘،’دل ایک مندر‘، ’مس میری ‘اور’ آزاد‘بھی ان کے قابلِ ذکر کارناموں میں شامل ہیں۔ وہ صرف المیہ کرداروں ہی میں نہیں، بلکہ ہلکے پھلکے مزاحیہ کرداروں میں بھی اپنی صلاحیتیں دکھا چکی تھیں۔
مینا کماری نے14 فروری، 1952ء کو معروف فلم ساز، ہدایت کار اور مکالمہ نگار کمال امروہی سے شادی کی۔وہ کمال کی دوسری بیوی تھیں۔ کمال امروہی اور مینا کماری کا سنیما کی تاریخ کے اہم اور پیچیدہ رشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ دونوں فن کاروں نے ایک دوسرے کے ساتھ فلمی منصوبوں پر کام کیا، اور ان کی مشترکہ تخلیقی وابستگی کا سب سے نمایاں ثبوت فلم’ پاکیزہ‘ہے۔تاہم، ازدواجی زندگی میں اختلافات پیدا ہوئے اور دونوں 1964 ء میں الگ ہو گئے۔ ان کی علیحدگی کے اسباب اور ذاتی تعلقات کے بارے میں مختلف بیانات ملتے ہیں۔ یقین کرنا مشکل ہے کہ سچ کیا تھا؟ مینا کماری کی شخصیت کا ایک کم معروف لیکن نہایت اہم پہلو ان کی اردو شاعری ہے۔ان کی شاعری میں تنہائی، محبت، جدائی، انسانی دکھ اور زندگی کی ناپائیداری جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کی ادبی دلچسپی نے ان کی اداکاری کو بھی ایک خاص گہرائی عطا کی تھی۔ وہ محض مکالمے ادا نہیں کرتی تھیں، بلکہ الفاظ کے جذباتی اور شاعرانہ مفہوم کو اپنے لہجے اور چہرے کے تاثرات سے نمایاں کر دیتی تھیں۔ ان کی اردو شاعری کا مجموعہ’تنہا چاند‘کے عنوان سے1971 ء میں سامنے آیا تھا،جو شمع بک ڈپو‘ نئی دہلی نے پہلی بار شائع کیا تھا’ تنہا چاند ‘کے چند منتخب اشعار کا بھی ذکر ہوجائے؟ چاند تنہا ہے، آسماں تنہا دل ملا ہے کہاں کہاں تنہا ایک اور نمونہ کلام ؎ ٹکڑے ٹکڑے دن بیتا،دھجی دھجی رات ملی جس کا جتنا آنچل تھا، اتنی ہی سوغا ت ملی مینا کماری نے اپنے فلمی کیریئر میں بہترین اداکارہ کے زمرے میں4 ’فلم فیئر ایوارڈ‘ حاصل کیے تھے ۔1945ء فلم’بیجو باورا‘بہترین اداکارہ۔1955ء فلم’پرینیتا‘بہترین اداکارہ۔1963ء فلم’صاحب بی بی اور غلام‘ بہترین اداکارہ۔1966ء فلم’کاجل‘بہترین اداکارہ۔1963ء میں انہوں نے فلم فئیر کی بہترین اداکارہ کی ایک ہی سال کی نامزدگیوں میں تین مختلف فلموں ’آرتی‘،’ میں چپ رہوں گی ‘اور ’صاحب بی بی اور غلام‘کے لیے جگہ حاصل کی۔ یہ ان کے غیر معمولی فنی مہارت کی علامت تھی۔فلم ’پاکیزہ ‘مینا کماری کے فلمی سفر کا سب سے یادگار باب سمجھی جاتی ہے۔کمال امروہی کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کی تیاری میں تقریباً 14برس لگے تھے ۔ اس میں مینا کماری نے’ صاحب جان‘ کا کردار ادا کیا تھا، جو محبت، سماجی پابندیوں اور عزت و شناخت کی تلاش کے درمیان اپنی زندگی گزارتی ہے۔فلم کی تکمیل کے دوران مینا کماری اور کمال امروہی کی ذاتی زندگی میں بھی کئی دراڑیں آگئیں ۔ طویل وقفہ کے بعد فلم بالآخر 4فروری، 1972ء کو ریلیز ہوئی، اور اس کے چند ہفتوں بعد ہی مینا کماری دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ابتدا میں فلم کو وہ غیر معمولی تجارتی کامیابی حاصل نہیں ہوئی جس کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن ان کے انتقال کے بعد اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ’پاکیزہ ‘بالی ووڈ سنیما کی کلاسیکی فلموں میں شمار ہونے لگی۔ مینا کماری کی زندگی کے آخری برسوں میں صحت کے مسائل شدت اختیار کر گئے تھے۔ ان کی شراب نوشی کے بارے میں سوانحی ذرائع میں تفصیلات ملتی ہیں، اور بالآخر انہیں’ جگر کے سیروسس‘ (Cirrhosis of the Liver) یعنی،( جگر کا سخت اور داغ دار ہوجانا)کی بیماری لاحق ہوئی۔28 مارچ، 1972ء کو انہیں ممبئی کے’ سینٹ الزبتھ نرسنگ ہوم ‘میں داخل کیا گیا۔ وہ کوما میں چلی گئیں اور31 مارچ، 1972ء کو، صرف 38 برس کی عمر میںوفات پا گئیں۔ انہیں ممبئی کے رحمت آباد قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا تھا۔ان کی کم عمری کی موت نے فلمی دنیا کو ایک ایسی فن کارہ سے محروم کر دیا جس کی اداکاری، آواز اور جذباتی اظہار اپنی مثال آپ تھی۔