Siyasi Manzar
Top News راجدھانی

ای وی ایم کا ڈیٹانہ کیا جائے ڈیلیٹ:سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کو حکم ،اے ڈی آر کی عرضی پر عدالت نے کی سماعت، 3مارچ کو ہوگی اگلی سماعت

نئی دہلی، 11فروری:سپریم کورٹ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین( ایم وی ایم) کے حوالے سے ایک اہم حکم صادر کیا ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو سختی سے حکم دیا ہے کہ انتخاب کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کا ڈیٹا ڈیلیٹ نہ کیا جائےاور نہ ہی اس میں کوئی نیا ڈیٹا ڈالا جائے۔ ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ای وی ایم کے تعلق سے ایک عرضی پر سماعت کی اور الیکشن کمیشن سے سوال کیا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن سے دریافت کیا ہے کہ انتخابات ختم ہونے کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیزر کیا ہوتا ہے؟ واضح رہے کہ یہ عرضی ملک میں ہونے والے انتخابات میں اصلاحات اور شفافیت لانے کے لئے کام کرنے والی تنظیم ’ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) نے دائر کی تھی۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ای وی ایم کے ڈاٹا کو ختم کرنے کے لئے ایک پالیسی وضح کی جائے اور اس کی ہدایت دی جائے۔ چیف جسٹس (سی جے آئی) سنجیو کھنہ کی صدارت والی بنچ نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ انتخابات کے بعد ای وی ایم کی میموری اور مائیکرو کنٹرولر کو بَرن کرنے کا طریقۂ کار کیا ہے۔ چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے آگے کہا کہ اس میں کسی طرح کا اختلاف نہیں ہے۔ اگر انتخاب میں شکست کھانے والے امیدوار کو شبہ ہو کہ ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہو سکتی ہے تو انجینئر سے واضح کیا جا سکتا ہے کہ ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے یا نہیں۔قابل ذکر ہے کہ عدالت عظمیٰ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر)، ہریانہ اور کانگریس لیڈران کی ایک جماعت کی جانب سے دائر کی گئی عرضیوں پر سماعت کر رہی تھی۔ عرضیوں میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن ای وی ایم کے برن کیے گئے مائیکرو کنٹرولر میموری کی جانچ کروائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ ای وی ایم میں کسی قسم کی کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی۔ اس معاملے پر اگلی سماعت 3 مارچ سے شروع ہوگی۔

Related posts

راجستھان کے دوسہ میں خوفناک سڑک حادثہ پک اَپ اور ٹرک کی ٹکر، 7 بچوں سمیت 10 افراد ہلاک، 9 زخمی

Siyasi Manzar

مولانا ارشدمدنی نے میوات میں تین ہندو خاندانوں سمیت20بے گھر خاندانوں کو زمین کے کاغذات سونپے

Siyasi Manzar

راہل گاندھی 13 جنوری کو سیلم پور میں بڑے جلسہ عام سے خطاب کریں گے: قاضی نظام الدین

Siyasi Manzar